کوئی رنگ دل پہ چڑھا نہیں

مری جان
دشت سلوک میں
مجھے جس مقام پہ چھوڑ کر
یہ سفال رابطہ توڑ کر
ذرا آگ لینے گئے تھے تم
میں رکا ہوا ہوں اسی جگہ
سر مو بھی آگے بڑھا نہیں
مری جان
مجھ پہ یہ بار ہیں
مرے آئنے کا غبار ہیں
یہ تمہارے ریشمی تار ہیں
یہ تمہاری سوزن سیم ہے
یہ مری وہ سادہ گلیم ہے
کوئی پھول جس پہ کڑھا نہیں
مری جان
تم سے نہیں گلہ
یہ نصیب کا ہے معاملہ
مرے وقت ہی میں لکھا نہ تھا
کہ تمہارے خرکۂ خاص کا
کوئی رنگ دل پہ چڑھا نہیں