آخری المیہ

ہمارے بال و پر میں
آسماں پیمائی لکھی تھی
کسی مرتے پرندے نے
ہمیں پرواز سونپی تھی
ہمیں اس انتہائے شب میں پھر
تنہا
ستارے چگنے جانا ہے
ستارو
ہم کسے اعجاز بخشیں گے
کسے اپنے پروں کی گرد سے لپٹی ہوئی
یہ آخری پرواز بخشیں گے