شاعری

محبت کے تصور میں

یہ سچ ہے میں نے چاہا تھا کہ میری زندگی میں عشق بن کر جب بھی تو آئے تو یوں آئے کے جیسے موت آتی ہے تھکی ہاری سی سانسوں کو سکوں کی تھپکیاں دینے بدن کو روح کو یوں بھینچ کر آغوش میں لینے کہ پھر سب اس کا ہو جائے نہ کچھ بھی چھوٹنے پائے کے اس آغوش سے اپنی نہ پھر کوئی رہائی ہو کسی کی جان لینا ...

مزید پڑھیے

محبت اور فطرت

جب آنکھ لڑائی ہم نے بجلی چمکی جب ہاتھ ملایا ہم نے بادل گرجا جب پریت لگائی ہم نے بارش برسی

مزید پڑھیے

قطرہ جھیل سمندر

زمیں پہ بیٹھ کر کوئی اگر کہے کہ چاند ایک ابروئے خمیدہ کی مثال ہے تو تو کہے گا دوریٔ نگاہ میں تو اک سوال ہے بایں دلیل تجھ سے کہہ رہا تھا میں کہ چرخ نیل سے نگاہ کو ہٹا ذرا سمٹتی پھیلتی فضائے نیل گوں کے دائرے میں چند روز کے لئے پھسلنا چھوڑ کر مرے قریب اس قدر قریب آ کہ تیرے میرے ...

مزید پڑھیے

واہمہ

میں اپنا سر بریدہ جسم لے کر چل پڑا ہوں مرے اک ہاتھ میں سر ہے میں اپنے سر میں ہوں یا جسم میں ہوں کبھی میں سر میں بیٹھا سوچتا ہوں کہ میں بے جسم رہ کر کس طرح پہچان قائم رکھ سکوں گا مرا ہونا تو میرے جسم سے ہے کبھی میں خود کو اپنے جسم میں محسوس ہوتا ہوں تو پھر سر یاد آتا ہے مگر بے سر ہوں یا ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی

کیا خبر تھی ریاست اسلام مجرموں کی پناہ بھی ہوگی کیا خبر تھی یہ عدل کی جاگیر رحم کی قتل گاہ بھی ہوگی پائیں گے دشمنان دیں اعزاز قاتلوں کی رفاہ بھی ہوگی ظلم کے ہاتھ میں عصا ہوگا اور سر پر کلاہ بھی ہوگی جہل پائے گا علم پر سبقت اور خرد گرد راہ بھی ہوگی اعلیٰ عہدوں پہ ہوں گے سب نا ...

مزید پڑھیے

مصروفیت

کل شب میرے بازو اس کی خوشبو میں تر تھے ساکت آنکھ کے پردے پر تصویر اسی کی تھی بالوں میں بھی لمس ابھی تک اس کے ہاتھ کا تھا خون کے بدلے شریانوں میں وعدے تھے اس کے کچھ الجھے انکار تھے چند ارادے تھے اس کے لیکن میرا دل اٹکا تھا کام کی الجھن میں اور میرا یہ ذہن آفس کی میز پہ رکھا تھا

مزید پڑھیے

اندوہ ناک

میں اپنی آتش میں جل رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ لوگ مجھ سے ذرا ہی دور اک گڑھے کے اطراف یوں جمع تھے کہ جیسے دنیا کے سارے کاموں کو چھوڑ کر صرف میرے جلنے کے منتظر ہوں وہ دیر سے استخواں لحد میں اتارنے کے لیے کھڑے تھے وہ سب عزادار تھے مگر حسب عادت ہی پھبتیاں کس رہے تھے مجھ پر میں جل رہا ...

مزید پڑھیے

ترکھان

کرسی میں نکلی ہوئی کیل کی طرح سیاست دان مجھے چبھتے ہیں جب اور جہاں نظر آتے ہیں ٹھونک دیتا ہوں انہیں اپنے ہتھوڑے سے ان کے حق میں یا خلاف دلائل کو تولے بغیر ترکھان کی دکان میں ترازو کا کیا کام

مزید پڑھیے

تلاش

اہل عقل کے ساتھ میں کچھ دور چلا خدا نہیں ملا اہل کتاب کے ساتھ میں کچھ دور چلا جواب نہیں ملا اہل اقتدار کے ساتھ میں کچھ دور چلا معرفت نہیں ملی اہل تذبذب کے ساتھ میں کچھ دور چلا قرار نہیں ملا اہل عشق کے ساتھ میں کچھ دور چلا حسین مل گیا

مزید پڑھیے

مغوی

ایک صبح میں بیدار ہوا تو خدا غائب تھا یہ بے حد تشویش کی بات تھی مجھے اس کی تلاش میں نکلنا پڑا بستی میں اس کا نشان نہیں ملا میں نے ایک کھوجی سے رابطہ کیا اس نے کھرا دیکھ کر بتایا خدا کو بردہ فروشوں نے اغوا کر لیا ہے میں نے پولیس سے رابطہ کیا تھانے دار نے خدا کی رپورٹ درج کرنے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 422 سے 960