شاعری

وجود کا پھیلاؤ

محبت خواب ہو جائے ہوا کے ساتھ کھو جائے سمندر کے کنارے زرد چہرہ شام کا منظر کسی کی یاد کا نشتر کبھی دل میں اتر جائے کسی دکھ سے کبھی جب آنکھ بھر آئے اسی ٹھہری ہوئی ساعت میں لگتا ہے کہ جیسے درد میں ڈوبے ہوئے سب دل نمی سے جھلملاتی ساری آنکھیں میری اپنی ہیں

مزید پڑھیے

پیاس

تیری ہنستی ہوئی آنکھوں میں رنگ بہار کے رقصاں دیکھے تیری زلفوں کی لہروں میں گھور اندھیرے حیراں دیکھے ہر محراب میں تیرے بدن کی سو سو دیپ فروزاں دیکھے تو جو ہنسے تو کون و مکاں میں سات سروں کی برکھا برسے اور اس برکھا میں دل میرا جتنا بھیگے اتنا ترسے

مزید پڑھیے

ڈائری کا ایک خالی صفحہ

میں دیکھ رہا ہوں ایک فلم جس میں لوگوں کی نیند کسی نے چرا لی ہے میں کھینچ رہا ہوں ایک یاد جس میں گھنگھرو میرے پاؤں سے علاحدہ کر لئے گئے میں ڈھونڈ رہا ہوں ایک نئی نوکری جس میں مجھے پارٹ ٹائم میں محبت کرنے کی اجازت ہو میں چھوڑ رہا ہوں ڈایری کا ایک خالی صفحہ جس پر کوئی بھی کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

شگاف جو زیر تعمیر ہے

بہار نے ہماری طرف پھول پھینکے قبرستان نے ہماری طرف ایک قبر پھینکی مجھے نہیں معلوم کہ پھول اور قبر ہمارے اس شخص کے ہاتھ کیسے لگ گئے جس شخص کو ہم ابھی تختی پر زندگی لکھنا سکھا رہے تھے جلد بازوں نے ہمیں اتنی بھی سہولت نہیں دی کہ ہم ایک موت کی واضح تصویر بنا پاتے کوئی نہیں جان پائے ...

مزید پڑھیے

وہ دل حیراں نہیں ہوتے

ہوا اور دھوپ کا قرنوں پرانا ساتھ ہے اور زندگی موج رواں ہے وہ کسی پل رک نہیں سکتی نجانے کتنے برسوں کی یہ پر اسرار تنہائی مرے دل میں کھجوروں کے درختوں کی طرح یوں ایستادہ ہے کہ اجڑے قرطبہ کے سارے منظر میری آنکھوں میں لرزتے ہیں نجانے کتنے برسوں کی اداسی کے اندھیرے گنبدوں میں ...

مزید پڑھیے

تجھے اپنے لیے

بڑی دل بستگی کے ساتھ پہلے خود تجھے تعمیر کرنا ہے کمال آرزو کو جو میسر ہیں بڑی چاہت سے پھر تجھ میں وہ سارے رنگ بھرنے ہیں تجھے تصویر کرنا ہے ہجوم‌ ابن آدم کے لیے تیری گزر گاہوں پہ کچھ تازہ گل و لالہ بچھانے ہیں تجھے اک خواب کی تعبیر کرنا ہے چراغ جاں کی تابانی سے تجھ کو پرتو تنویر ...

مزید پڑھیے

محبت رمز ہستی ہے

محبت خواب گل ہے شاخ دل کی سونی پلکوں پر لرزتا خواب گل جو نخل جاں کے زرد رو گرتے ہوئے پتوں کی سانسوں میں مہکتا ہے محبت زندگی کے سبز افق پر دور تک پھیلی ہوئی خوشبو کی لو ہے جو کبھی دل کے دریچوں میں اتر کر مسکراتی ہے تو ہر سو روشنی سی پھیل جاتی ہے محبت رمز ہستی ہے یہ ایسا بھید ہے جو ...

مزید پڑھیے

بے اماں

یہی وقت تھا ہاں یہی وقت تھا بلکہ تاریخ بھی تو یہی تھی جب اک مہرباں ہاتھ نے جانے کیا سوچ کر بس اچانک مری روح کو تھپتھپایا مرے دل کو تھاما عجب ایک وارفتگی سے اور کچھ پر فسوں آگہی سے مرے سن رسیدہ دل و جاں کو اس نے حیات آفریں لمس سے بھر دیا اپنی نظروں میں خود معتبر کر دیا سوچتا ہوں ...

مزید پڑھیے

ادراک

وقت دریا کی مانند بہتا رہے گا سدا جگمگاتے رہیں گے ستارے یوں ہی شب کی پوشاک میں گل کھلاتی رہے گی ہوا تا ابد آب میں، خاک میں ایستادہ رہیں گے خیاباں خیاباں یہ سرو و صنوبر یوں ہی ساحلوں پر یوں ہی لنگر انداز ہوں گے جہاز اور بچے یوں ہی سیپیاں چننے آتے رہیں گے سدا یوں ہی میلہ رہے گا زمانے ...

مزید پڑھیے

اس خواب میں

اک خواب میں آنکھیں ملتے ہوئے اک آس کی چھایا ڈھلتے ہوئے اک خوف کے من میں پلتے ہوئے اب موڑ یہ کیسا آیا ہے سنسار پہ رنگ سا چھایا ہے آکاش کے رم جھم تاروں نے سو روپ دکھاتی بہاروں نے ساگر کے پلٹتے دھاروں نے اک بات کہی اک مان دیا تن من کو انوکھا گیان دیا اک جوت جگائی جیون میں اک رنگ اتارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 421 سے 960