شاعری

سپاہی سے مخاطب ہوتے ہوئے

میرا قلم اور تمہاری بندوق کا بٹ ایک ہی درخت کی لکڑی سے بنے ہیں اس درخت کی لکڑی سے کوئی کشتی بنائی جا سکتی تھی جس پر میں اور تم سوار ہو کر سمندر میں سیر کے لئے نکل جاتے اور حادثاتی موت مر جاتے

مزید پڑھیے

زیست سرائے

کچھ گھروں کے لوازمات مختصر ہوتے ہیں ایک بستر جس کے ساتھ آپ کو نیند علاحدہ سے خریدنی نہ پڑے ایک گلدان جس میں اتنے پھول رکھے جا سکیں کہ اگر آپ کو ہنگامی حالت میں پھولوں کی ضرورت پیش آ جائے تو آپ کو کسی بہار کا انتظار نہ کرنا پڑے ایک چھت والا پنکھا جسے آپ سونے سے پہلے اپنی کہانی ...

مزید پڑھیے

مفتوحہ چیتھڑا

جنگی بیوہ کا نا مکمل گیت قریبی دریا میں کچھ سپاہیوں کے ساتھ ڈوب گیا گھوڑے لاشوں کے زخموں میں دوڑتے دوڑتے گم ہو گئے سپاہی تلوار کی دھار سے لڑھکتے ہوئے میدان جنگ کے وسط میں فتح کا لفظ زمین پر لکھنے لگے میدان جنگ گھومتا ہوا لشکر کے پیروں کے نیچے سے سرک کر ہوا کے ساتھ مل کر ملک کی ...

مزید پڑھیے

کہانیوں سے بھرا ایش ٹرے

کون ہے وہ شخص جو دھاگے سے افسانہ بن رہا ہے اور شراب کی مہک کمرے میں تالیاں پیٹ رہی ہے عیش ٹرے کرداروں سے بھر گئی ہے اور دھواں کٹہرے میں کھڑا ہمارے حق میں گواہی دے رہا ہے کوٹھے کے دروازے ہانپ رہے ہیں کہ طوائف کی ابھری چھاتیوں کے پیچھے ایک شخص پناہ گزیں ہے جس کی عینک کے پار سے ...

مزید پڑھیے

مہنگی کافی کے کپ میں کھولتا ہوا دن

اور ماؤں کی چھاتیوں سے چھینی ہوئی جوان زندگی کسی سفید پرچم پر گرتے ہیں اور ایک بڑا دھبہ بن جاتا ہے لانڈریوں میں دھلے ایام ہمارے سینے میں گاڑھی گئی کیلوں پر سکھائے جاتے ہیں کسی ملک کا نقشہ دھبے سے بڑا نہیں ہوتا کہ اسے دھونے کے لئے ایسا حیض کا خون صرف کر دیا جائے جو اس لئے جاری ہو ...

مزید پڑھیے

لمحوں کے اسرار

شام کا پہلا تارہ دل کے افق پر جس کی جوت سے قوس قزح سے اتری تھی اور اس قزح نے ساری دل کی دنیا چمکائی تھی زیست کا پہلا ساون تھا وہ جس سے جیون ساگر میں اک لہر اٹھی تھی اور اس لہر نے ساری ہستی جل تھل کی تھی باغ کی پہلی تتلی تھی وہ من آنگن کے سونے پن میں جس کی اک پرچھائیں پڑی تھی اور جس ...

مزید پڑھیے

اہل ہنر بے کار ہوئے

اک عمر کی کاوش سے ہم نے جو کار تمنا سیکھا تھا دنیا کے نئے بازار میں اب کچھ مانگ نہیں باقی اس کی یہ زعم محبت کیا کیجے ہم اہل ہنر بے کار ہوئے

مزید پڑھیے

احساس

خواہشوں کی منزل پر حسرتوں کے رستے میں دلبری کے پربت پر وحشتوں کی وادی میں بے خودی کے صحرا میں آگہی کے دریا میں وقت کے جھمیلے میں روز و شب کے ریلے میں دل پہ جو گزرتی ہے وہ اسی حقیقت کا انکشاف کرتی ہے ہر مقام و منزل پر آدمی اکیلا ہے

مزید پڑھیے

راگ گیان

سانجھ سویرے موج میں اپنی بہتا جائے وقت کا دھارا جیسے ساگر گہرا جانے کہاں ہے منزل اس کی جانے کہاں کنارا وقت کے اس گہرے ساگر میں ڈول رہی ہے جیون ناؤ پیچھے بھی منجدھار ہے اس کے آگے بھی منجدھار ہے اس کے اور اس ناؤ میں بیٹھا ہے اک سنسار جانے کو اس پار اور یہ ناؤ پل کے پل میں یوں کھائے ...

مزید پڑھیے

آزار

وقت کی دھند میں لپٹے منظر اور سناٹا دل کے اندر باری باری سانجھ سویرے اک انجانا خوف جگائیں ان ہونی کو دھیان میں لائیں دونوں میرے خواب چرائیں

مزید پڑھیے
صفحہ 420 سے 960