شاعری

ہم ہیں ننھے منے بچے

دھن کے پکے قول کے سچے پڑھنا لکھنا کام ہمارا اک دن ہوگا نام ہمارا بھاشا میری پیاری اردو اردو سب کی پیاری اردو اردو ہے بھارت کی زینت سب کو ہے اردو سے الفت قدرت کا انعام ہے اردو کتنا پیارا نام ہے اردو اردو سے ہے رغبت ہم کو الفت ہم کو چاہت ہم کو اردو کے شیدائی ہیں ہم عاشق اور شیدائی ...

مزید پڑھیے

مدت ہوئی عورت ہوئے

مجھ سے سہیلی نے کہا ممتاز ایسا لکھتی جا جس میں ہوں کچھ چوڑیوں جھنکار کی باتیں کچھ تذکرے ہوں چنریوں کے اظہار کی باتیں اڑتے سنہری آنچلوں میں موتیوں کی سی لڑی پہلی وہ شیطانی میری پہلی وہ جو میری ہنسی بالی عمر کی دل کشی وہ بچپنے کی شوخیاں خوابوں میں خواہش کے سراب دھڑکن کی وہ ...

مزید پڑھیے

مسافتوں کے سراب کا المیہ

درد کے شہر سے جب چلے قافلے ابتلاؤں کی پونجی سمیٹے ہوئے حسرتوں کے نگینے دمکتے تھے تلوار پلکوں پہ زخموں کے گلزار تھے دل کے آنگن میں اور مشعلیں ذہن میں جل رہی تھیں کئی کچھ الاؤ کہ آنکھوں میں جلتے رہے اور بجھتے رہے آگہی جو تذبذب کی دلدل میں تھی دم بخود شوق کا ہاتھ پکڑے نکل آئی تھی ...

مزید پڑھیے

بہت ممکن ہے

بہت ممکن ہے میں شاعر نہ ہوتی تو بن کر میں مجاور کسی درگاہ پر جھاڑو لگاتی یا بن کے میں کوئی مجذوب ہستی ہواؤں میں کہیں رستے بناتی یہ دنیا پھر بھی میرے گرد اک مجمع لگاتی کبھی ہنستی کبھی ٹھوکر لگاتی میں اپنی رال سے لکھتی فسانے بدلتے یہ سبھی منظر اگر پتلی میں آنکھوں کی گھماتی تو پیچھے ...

مزید پڑھیے

جا میں نے تجھے آزاد کیا

جا میں نے تجھے آزاد کیا جب میری محبت کی تیری نظروں میں کوئی وقعت ہی نہیں اظہار کا میرے تیرے لیے معنی ہی نہیں وقعت ہی نہیں جب میری حفاظت نے تجھ کو اس درجہ ہے بیزار کیا کہ تو نے ہی میری چاہت کو رسوا یوں سر بازار کیا کیوں بے قدرے کی خاطر یوں یہ وقت اپنا برباد کیا جا میں نے تجھے آزاد ...

مزید پڑھیے

مراجعت

وہ چکا چوند وہ شہر کے جلوے وہ تماشے وہ کرتب اجالوں کے ہو رہے محو ہم بسکہ سائے تھے ہر طرف شعبدے بے کراں سے تھے مبتلا جن میں ہم جسم و جاں سے تھے نہ رہا یاد آئے کہاں سے تھے نظر اک دین تھی خود نظاروں کی ذات اپنی عبارت انہیں سے تھی رہن دریا تھی گرداب کی ہستی انس کے رابطوں کے امیں تھے ...

مزید پڑھیے

تو ہے چارہ ساز میرا

بن ترے ہے کون ایسا جو دلوں کا حال جانے کوئی یاں ایسا نہیں جو بن کہے فریاد سن لے بن بتائے حال جانے سو یہی ہے مجھ پہ لازم جز ترے ہرگز کسی کو میں نہ چارہ ساز مانوں اپنا سب کچھ تجھ کو جانوں

مزید پڑھیے

آگہی کا قطرہ قطرہ زہر

مجھے بتاؤ کہ میں کہاں ہوں مجھے سمجھاؤ میں کون ہوں کیا ہوں اور کیوں ہوں میں بے بصر بے خبر سفر کی بے رحم ساعتوں کا اسیر ان راستوں کا راہی کہ جن کا ہر سنگ میل بے چہرہ بے نشاں ہے خزاں زدہ برگ خشک اندھی ہوا کے پر شور بے سماعت بپھرتے ریلے کی رہ گزر پر میں ان گنت بے شمار سالوں سے نارسائی کے ...

مزید پڑھیے

پوسٹ میں ملی قبر

مجھے ایک قبر بھیجو ایک رنگین تابوت چند ایک پھول موت میرے پاس پہلے سے ہی موجود ہے اور ایک کتبہ بھیجو جو تم خود ہو جس پر میرا نام آسانی سے پڑھا سکتہ ہے

مزید پڑھیے

سجائے گئے اعلانات

آج اندھیرا ایجاد مت کیجئے کہ میں اپنا آخری چراغ بھی محبت کے جرم میں قتل ہونے والوں کی قبر پر جلا آیا ہوں ایک قبر کھودیے میرے پاس ایک نظم ہے جس میں میری موت کا ذکر ہے اس نظم کو قبر میں گاڑ دیجئے شجرکاری مہم کے دوران ایک آدھ درخت میری آنکھوں میں لگائیے کہ میں اکثر خواب میں لمبے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 419 سے 960