شاعری

نصیحت

مجھ سے کیا ہو گئی خطا بھائی کیوں ستاتا ہے یہ بتا بھائی بیج کیوں نفرتوں کے بوتا ہے دوستوں کو نہ ورغلا بھائی چھوڑ دے بغض اور حسد بالکل اپنے دل کو نہ گھن لگا بھائی بد گمانی نہ دل میں پیدا کر بد کلامی سے باز آ بھائی گنگناتا ہے گیت فلموں کے نعت پڑھ اور حمد گا بھائی خوب محنت سے پڑھ سبق ...

مزید پڑھیے

خواب

خواب فن کا سرمایہ خواب فن کی پونجی ہے خواب مجھ سے مت چھنیو خواب دیکھنے دو مجھے خواب بانٹنے دو مجھے کفر رد کیا میں نے روشنی کو دیں جانا اہرمن کے بیٹوں کو میں نے اہرمن جانا ان کو سرنگوں دیکھا بارگاہ یزداں میں آفتاب دامن میں ماہتاب جیبوں میں میں نے بھر لیے کتنے تیرگی مٹانے کو زندگی ...

مزید پڑھیے

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری

اک کہکشاں سجی تھی کبھی آسمان پر اس کہکشاں کے سارے ستارے بکھر گئے خوابوں کے ساتھ ساتھ نظارے بکھر گئے پیچیدہ تر مسائل شبہائے زیست ہیں مینار روشنی کے دھندلکوں میں کھو گئے مڑ کر جو دیکھا وقت کو پتھر کے ہو گئے اب کارواں کو سمت سفر کا ہے مرحلہ سب سنگ میل راہ وفا کے اکھڑ گئے تاریخ کی ...

مزید پڑھیے

حبیب جالب

ضمیر وقت کی آواز روح عصر کا کرب سمیٹے دامن دل میں نہ جانے کب سے تھا حصار جبر و ستم میں دکھوں کی بستی میں جلائے شمع قلم ہم کلام شب سے تھا حریف سنت آزر کلیم جادۂ فن صنم کدے میں مخاطب بتوں کے رب سے تھا وہ اپنے عہد کا منصور حرف حق کا نقیب صلیب وقت پہ فائز وہ شخص کب سے تھا وہ لب جو حرف ...

مزید پڑھیے

جبر حالات

تری مشروط توجہ مری پابند نظر جبر حالات کا احساس جگا دیتی ہیں چشم بیدار کا ہر خواب سلا دیتی ہیں چاند سورج مری آنکھوں کے بجھا دیتی ہیں با ہمہ غم بہ ہمہ لذت آزار ستم دیکھنا ٹھہرا مجھے آرزوئے وصل کا خوں شخصیت کا تری جادو کہ محبت کا فسوں بارہا چاہوں مگر ترک تمنا نہ کروں زندگی وقت کے ...

مزید پڑھیے

میں کون ہوں

کس سے پوچھوں کہ جھوٹ سچ کیا ہے تیرگی کیا ہے روشنی کیا ہے کون معیار خیر و شر سمجھائے کون تکذیب جبر و جہل کرے وقت کس سمت ہے رواں پیہم وجہ تخلیق و ارتقا کیا ہے زندگی وہم ہے حقیقت ہے شجر درد سایۂ غم ہے کس سے مفہوم ما و من پوچھوں کون تقدیر حسن و عشق بتائے کس سے پوچھوں صلیب و دار کا ...

مزید پڑھیے

واپسی

ڈھلتے سورج کا زرفشاں تابوت لے چلے مغربی افق کے کہار اور درماندہ رہ گزاروں پر جم گیا وقت صورت اشجار بے کراں بے اماں خلاؤں تک چیختی جاتی ہیں ابابیلیں پربتوں کے مہیب چہروں سے ڈر کے خاموش ہو گئیں جھیلیں ہر کھنڈر میں ہیں بھوت محو رقص کاسۂ سر کی لے کے قندیلیں اور دور اس فصیل شام سے ...

مزید پڑھیے

ہوا کا نوحہ

اپنی اور قیوم راہیؔ کی ماں کی موت پر ستارے چپ ہیں کسی بیوہ مانگ کی مانند بجھا بجھا ہے سر شام چاند کا جھومر دمکتی راہوں کے دھندلا گئے ہیں آئینے اتر چکا ہے خلاؤں میں روشنی کا نگر مہیب و سرو و سیہ ہاتھ بڑھتے جاتے ہیں کھنچے ہوئے ہیں فضاؤں میں آتشیں خنجر فرشتے روتے ہیں اپنے پروں کو ...

مزید پڑھیے

انتظار

وہ ایک پنچوٹی کا وشال سا جنگل جگوں جگوں سے جہاں اک اہلیا کی شلا تباہ کار سیہ فال بد دعا کا صلہ بری طرح سے ہے اپنے شراب میں پاگل کبھی یہ سوچتا ہے سنگ و خشت کا پیکر خود اس کی طرح نہ ہر رہ گزار پتھرا جائے وہ لوح حرف مقدر بھی جس پہ دھندلا جائے نہ جانے کتنی صدی تک رہے گی خاک بسر اس آس پر ...

مزید پڑھیے

پہلا پتھر

میں ترے شہر میں پھرتا ہی رہا سرگرداں شاہراہوں کے ہر اک موڑ پہ حیراں حیراں آبلہ پا جگر افگار کراں تا بہ کراں اسی امید پہ شاید کہ کوئی پہچانے جستجو ایک بگولے کے عناصر چھانے شوق رسوا کی پذیرائی کے ہوں افسانے لیکن اس شہر ستم پیشہ میں کچھ بھی نہ ہوا مری جانب کوئی گل پوش دریچہ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 403 سے 960