شاعری

عطائے رائیگاں

مرے سینے کو اپنی جگمگاتی انگلیوں سے چیرنے والے تو مجھ پر میرے آنے والے دن کو بے جہت کر دے کہ میں نے جس قدر جانا ہے اتنے دکھ اٹھائے ہیں مرے اندر مرے سارے سفر کا بے نوا بیکار پن آتش فشاں لاوے کی صورت سانس لیتا ہے کہ جیسے بند جوہڑ کے کھڑے پانی میں کیڑے کلبلاہٹ ہیں تعفن انگنت لفظوں کی ...

مزید پڑھیے

کویا

زمیں کی کئی گردشیں میری سوچوں کے پتوں میں چھپ کر حسیں ریشمیں سازشیں بن رہی ہیں حسیں ریشمیں سازشیں جن سے کل کی قبا آنے والے دھندلکوں کے اجلے عمامے نئی ساعتوں کے دوپٹے بنیں گے حسیں ریشمیں سازشیں جن سے اونچے محلات کی خواب گاہوں کے باریک پردے منقش غلافوں میں لپٹے ہوئے نرم تکیے ...

مزید پڑھیے

چوتھا کوارٹر

صبح سورج رات کی تیرہ سلاخوں سے نکل آیا اور اس نے شہر کی ننگی ہتھیلی میں شعاع حرکت بے سود کی اک کیل گاڑی اور سارے شہر کی مخلوق جیسے اپنے اپنے حلقۂ مرگ مسلسل کی طرف بھاگی ادھر چوتھے کوارٹر سے وہ نکلی پوپلے منہ اور پچکے گال میک اپ کے پلستر میں چھپائے فیشنی کپڑوں میں کفنایا ...

مزید پڑھیے

طلوع منظر کی آنکھ چپ ہے

صعوبت جاں قرن قرن ہے زکوٰۃ مہلت ہے لمحہ لمحہ وہ انگلیاں اب تھکی ہوئی ہیں جنہوں نے برگ خزاں زدہ کی ہتھیلیوں پر بدن کی پہلی صدا لکھی تھی لہو کی پہلی دعا لکھی تھی جنہوں نے ایمن کی وادیوں میں حجر حجر پر تمام مخلوق ارض کے نام زندگی کے عتاب لکھے صداقتوں کے نصاب لکھے وہ ہونٹ بھی اب لہو ...

مزید پڑھیے

دھڑکن

ہمارے آگے پڑا ہوا ہے یہ فاصلہ جو وہیں محبت دھڑک رہی ہے قدم کے نیچے نظر کی حد تک ہے دشت صحرا ازل سے پھیلا تری نظر میں ہے اک کنارہ مری نگہ میں ہے دوجی منزل تو بیچ ان کے نظر کی حد تک جو فاصلہ ہے اسی کے اندر تری محبت دھڑک رہی ہے مری محبت دھڑک رہی ہے

مزید پڑھیے

چور

میرے تن پر بھوک اگی تھی میری آنکھیں ننگی تھی اور میرے آنگن میں ہرجا غربت بھوک اور محرومی کے پھول اگے تھے میرے کانٹے ہاتھوں نے ان پھولوں کو توڑنا چاہا اور ہم سایے کے گھر سے جس کے گھر میں سونے چاندی اور پیسوں کی دیواریں تھیں اپنے نے کچھ خوشیاں چن لیں چور چور چور چور کچھ آوازیں پھر ...

مزید پڑھیے

کوڑوں کی سزا پانے والے پہلے شخص کے نام

تو میرے دور کا عیسیٰ ہے جس نے قوم کے سارے گناہوں ساری برائیوں ساری سزاؤں کو اپنے کندھے پہ اٹھا کر کوڑے کھائے ہم سب چور ہیں ہم سب زانی ہم سب رشوت خور لٹیرے پھر سب کے حصے کی سزا تم نے کیوں پائی اور ہم چاروں اور کھڑے تیرا تماشا دیکھ رہے تھے جیسے تم نے جرم کیا تھا اور ہم سارے پارسا ...

مزید پڑھیے

تمہیں ملنے میں آؤں گا

تری پیاسی نگاہیں چوم کر دل سے لگاؤں گا ترے آنچل کے سارے خواب پلکوں پر سجاؤں گا دسمبر کی وہ دھندلائی صبح تیرے لیے ہوگی تری خاطر میں آؤں گا سبھی دھندلائی صبحوں نے سبھی مرجھائی شاموں نے مری آنکھوں میں جلتے آس کے شعلے بجھائے ہیں لہو رنگ آنسوؤں کے دیپ پلکوں پر سجائے ہیں

مزید پڑھیے

کاش وہ روز حشر بھی آئے

تو میرے ہم راہ کھڑا ہو ساری دنیا پتھر لے کر جب مجھ کو سنگسار کرے تو اپنی بانہوں میں چھپا کر پھر بھی مجھ سے پیار کرے

مزید پڑھیے
صفحہ 358 سے 960