شاعری

گر ایسا ہو جائے

چڑیا چرخا کاتے چوہا موتی ٹانکے بلی بین بجائے کوا گانا گائے مرغی لکھے گیت ہو کچھوے کی جیت تتلی پڑھے کتاب مچھلی کھائے کباب کتا بولے میاؤں میں چوہوں کو کھاؤں شیر کبھی شرمائے مکھی روز نہائے املا لکھے بندر پڑھنے جائے کبوتر گر ایسا ہو جائے بڑا مزا پھر آئے

مزید پڑھیے

سچے دوست

دھیان ذرا رکھنا کہیں یہ ہاتھ نہ چھوٹیں دیکھنا سچی دوستیوں کے ساتھ نہ چھوٹیں ہاتھ سے ہاتھ ملیں تو دنیا اجلی کر دیں ہاتھ سے ہاتھ ملیں دعائیں سچی کر دیں ہاتھ سے ہاتھ ملیں دلوں میں روشنی بھر دیں دھیان ذرا رکھنا سچے دوست اندھیری رات میں روشن تارے سچے دوست پڑے مشکل تو بنیں سہارے کیسے ...

مزید پڑھیے

تتلی کی بستی

تتلی کے پیچھے پیچھے تتلی کے پیچھے پیچھے ہم بھی دوڑے جائیں گے جا کے دیکھیں گے یہ رہتی ہے کہاں تتلی آگے آگے جائے ٹولی ہماری دوڑ لگائے پھاند گئے جو راہ میں آئے سارے گملوں کو پھوڑا سارے پودوں کو توڑا ہم بھی باز نہ آئیں گے چلے جائیں گے یہ جائے گی جہاں تتلی کے پیچھے پیچھے رنگ برنگی ننھی ...

مزید پڑھیے

خالد کی سالگرہ

سارا کمرا سجا ہوا تھا بیچ میں تھا اک کیک دھرا پورے گھر میں شور مچا تھا خالد کی تھی سال گرہ پہلا مہماں ساتھ میں لایا غبارہ اک گیس بھرا دوسرے نے بھی آ کے تھمایا غبارہ اک گیس بھرا تیسرے مہماں نے پکڑایا غبارہ اک گیس بھرا چوتھا مہماں لے کر آیا غبارہ اک گیس بھرا پانچویں نے بھی اسے دیا ...

مزید پڑھیے

بادل دوست ہمارے

بادل دوست ہمارے بادل دوست ہمارے گھر گھر آئیں مینہ برسائیں چاندی برسے آنگن آنگن دوارے دوارے بادل دوست ہمارے بادل دوست ہمارے سوکھی دھرتی جل تھل کر دیں کھیتوں کو امرت سے بھر دیں برسیں رس کے دھارے بادل دوست ہمارے اڑتے آئیں نیل گگن میں باغوں میں کھیتوں میں چمن میں جیسے چلیں ...

مزید پڑھیے

سب نعمت ہیں

سورج بادل تارے دھوپ اور سائے سب نعمت ہیں کون انہیں جھٹلائے آسمان میں چندا چمکے بیچ سمندر کشتی تیرے جس کی تہہ میں موتی مونگے پھول ہیں اتنے سارے شاخ بوجھ سے جھک جھک جائے کون انہیں جھٹلائے پانی جھرنے جھیلیں نہریں میٹھے میوے اور کھجوریں سچے موتی جیسے حوریں دریا بہتے بہتے دوسرے ...

مزید پڑھیے

نظم

جھلکا جھلکا سپیدۂ صبح جھلکا جھلکا سپیدۂ صبح تارے چھپتے ہیں جھلملا کر ہے نور سا جلوہ گر فلک پر بھینی بھینی مہک گلوں کی اور نغمہ زنی وہ بلبلوں کی وقت صحرا اور تنگ ہوا ہے بے مے سب کرکرا مزا ہے اک چلو کے دینے میں یہ تکرار اٹھو جاگو سحر ہوئی یار دریا کی طرف چلے نہانے غٹ پریوں کے ...

مزید پڑھیے

مہاتما گاندھی

مسافر ابدی کی نہیں کوئی منزل یہاں قیام کیا یا وہاں قیام کیا تری وفا نے بڑے مرحلے کئے آساں فروغ صبح کو تو نے فروغ کام کیا صنم کدوں میں بڑھا اعتبار اہل حرم حرم نے دیر نشینوں کا احترام کیا حیات کیا ہے محبت کی آگ میں جلنا یہ راز بھی ترے سوز وفا نے عام کیا اٹھا اٹھا کے حجابات چہرۂ ...

مزید پڑھیے

بہادر شاہ ظفرؔ کی یاد میں

صبا یہ روح ظفرؔ کا پیام لائی ہے کہ سلطنت سے فزوں عشق کی گدائی ہے غرور فتح کو بھی لڑکھڑا دیا جس نے ترے خلوص نے ایسی شکست کھائی ہے کسے خبر ہے کہ ارض وطن پہ کیا گزری کہ تجھ کو گوشۂ غربت میں موت آئی ہے مرے چمن میں عروس بہار آزادی ترے مزار پہ آنسو بہا کے آئی ہے

مزید پڑھیے

شبنم

کیا یہ تارے ہیں زمیں پر جو اتر آئے ہیں یا وہ موتی ہیں کہ جو چاند نے برسائے ہیں کیا وہ ہیرے ہیں جو صحرا نے پڑے پائے ہیں نہ بہت دور پہنچ جائے مری بات کہیں اپنے آنسو تو نہیں بھول گئی رات کہیں یہ کہانی بھی سنائی ہے زمیں نے اکثر کہکشاں جاتی ہے جب پچھلے پہر اپنے گھر پھینکتی جاتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 275 سے 960