شاعری

نیا پلان

آؤ نیا منصوبہ بنائیں دنیا کو اک راہ دکھائیں جنگ کے بادل دور کریں ہم ظلمت کو پر نور کریں ہم امن کا پرچم لہرائیں ہم ناسمجھوں کو سمجھائیں ہم ظلم کی ہر بنیاد مٹائیں آؤ نیا منصوبہ بنائیں سوکھ رہی ہے ڈالی ڈالی زرد ہے باغوں کی ہریالی کوئل بلبل چپ ہیں سارے تتلی بھونرے ہیں دکھیارے سوکھی ...

مزید پڑھیے

اردو

جبین وقت پر کیسی شکن ہے ہم نہیں سمجھے کوئی کیوں کر حریف علم و فن ہے ہم نہیں سمجھے کسی بھی شمع سے بے زار کیوں ہو کوئی پروانہ یہ کیا اس دور کا دیوانہ پن ہے ہم نہیں سمجھے بہت سمجھے تھے ہم اس دور کی فرقہ پرستی کو زباں بھی آج شیخ و برہمن ہے ہم نہیں سمجھے اگر اردو پہ بھی الزام ہے باہر سے ...

مزید پڑھیے

مجھے خاموش کر دو

بہت بکنے لگا ہے یہ دل حسرت زدہ اب تو کہیں ایسا نہ ہو کچھ راز کی باتیں بھی کہہ جائے مگر اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے مرے منہ کھولتے ہی تم مجھے چپ شاہ کے روزے کی چپکے سے قسم دے کر زباں کا بت مرے ہونٹوں کی محرابوں میں رکھ دو اور مجھے خاموش کر دو

مزید پڑھیے

تم اپنی آنکھوں کو بند کر لو

تمہاری آنکھیں جو میری آنکھوں میں بس گئی ہیں وہ صبح سے شام تک مرے ساتھ گھومتی ہیں وہ رات بھر میری نیند سے چور بند آنکھوں میں جاگتی ہیں میں صبح آئینہ دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سے جھانکتی ہیں مجھے ہر اک بات پر کچھ اس طرح ٹوکتی ہیں کہ جیسے میں ایک طفل ناداں ہوں جانتا ہی نہیں زمانے کے ...

مزید پڑھیے

وقت وقت کی بات ہے

وہی ہم تھے کہ اس شہر سکوں میں رت جگوں کی دھوم تھی ہم سے وہی ہم ہیں کہ شہر بے اماں کی بھیڑ میں خود اپنی تنہائی پہ حیراں ہیں ہمارا جبر مجبوری ہمیں جب صبر آمادہ بناتا ہے تو آنکھیں اس قدر شعلے اگلتی ہیں کہ خاموشی بھی اک شور فغاں معلوم ہوتی ہے

مزید پڑھیے

رات کے سائے

میزوں کے شیشوں پر بکھرے خالی جام کے گیلے حلقے سگریٹوں کے دھوئیں کے چھلے دیواروں پر ٹوٹ چلے ہیں سارا کمرہ دھواں دھواں ہے ساری فضا ہے مہکی مہکی دو اک دھندلے دھندلے سر ہیں جھکے ہوئے بے سدھ ہاتھوں پر رات کا نشہ ٹوٹ رہا ہے جب آئے تھے اس محفل میں نئے پرانے سب ساتھی تھے کون کسے پہچانے گا ...

مزید پڑھیے

ان چاہی موت

فاصلہ جب تمہارے مرے درمیاں کا ذرا بڑھ گیا تو تمہاری جدائی کے احساس کی گرم بوندیں مری منتظر چشم بے خواب سے رات بھر قطرہ قطرہ ٹپکتی رہیں صبح تک کروٹیں میرے بستر پہ جلتی رہیں آگ سی خون کے ساتھ میرے بدن میں دہکتی رہی یاد کی شمع کمرے میں شب بھر سلگتی رہی اور تمہارا نشہ میری نس نس ...

مزید پڑھیے

بے بسی

یہ جینا کیا یہ مرنا کیا کچھ بھی تو ہمارے بس میں نہیں اک جال بچھا ہے خواہش کا اور دل ہے کہ پھیلا جاتا ہے ہم بچنے کی جتنی کوشش کرتے ہیں پھنستے جاتے ہیں یہ ریگ روان عمر ہی کچھ ایسی ہے کہ دھنستے جاتے ہیں جب ریت ہمارے پیروں کے نیچے سے کھسکنے لگتی ہے دنیا کی تمنا بجھتی ہوئی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

آبلہ

وہ رات کتنی عجیب تھی کٹ نہیں رہی تھی کہ وقت ہی جیسے رک گیا تھا زبان چپ تھی نگاہیں اک داستان محرومیٔ تمنا سنا رہی تھیں بساط آغوش بجھ گئی تھی ہمارا ہی انتظار تھا فرش دل بری کو مگر ہم اپنی شرافت نفس کی گراں باریوں سے مجبور ہو گئے تھے خود اپنی فطرت سے اس قدر دور ہو گئے تھے کہ دل کی آواز ...

مزید پڑھیے

زاد سفر

یہ زندگی کا سفر عجب ہے کہ اس میں جو بھی ملا وہ مل کر بچھڑ گیا ہے چلا تھا جب کارواں ہمارا نئے افق کی طرف تو ہم بھی جواں امنگوں کے پاسباں تھے قدم قدم پر جب ایک اک کر کے سب ہمارے رفیق چھوٹے تو جن نئی منزلوں کی جانب چلے تھے کل ہم وہ سب افق کی طرح گریزاں خلاء میں تحلیل ہو گئی تھیں میں اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 276 سے 960