شاعری

زندگی

اے زندگی تجھے یوں گزرتے دیکھا کبھی گرتے تو کبھی سنبھلتے دیکھا جب دل چاہا تجھے بھر لیں ان بانہوں میں ہاتھ سے ریت سا پھسلتے دیکھا رکھا جو آئنہ تیری نگاہوں پر تجھ میں خود کو سنورتے دیکھا کھلی جو آنکھ ٹوٹا وہ خواب خود میں تجھ کو بکھرتے دیکھا کچھ جاگی کچھ سوئی یوں خود میں ہی ...

مزید پڑھیے

گریز

میں نے جس راہ کو مدت سے بدل ڈالا ہے پھر سے وہ راہ دکھانے کو چلی آئی ہو اپنے نینوں سے سلگتے ہوئے دیپک لے کر پیار کی جوت جگانے کو چلی آئی ہو میری امید کے ٹوٹے ہوئے پتواروں کو تند حالات کے طوفان سے ٹکرانے دو اک تہی دست کی مظلوم تمناؤں کو بربریت کے ہر ایوان سے ٹکرانے دو ایک محور ہی پہ ...

مزید پڑھیے

دیوداس کی واپسی

سنا ہے میں نے کہ شہر کا اک رئیس زادہ شرت کے ناول کا ایک کردار بن گیا ہے شراب پی کر وہ خاک چکلوں کی چھانتا ہے وہ ویشیاؤں میں اپنی پارو کو ڈھونڈھتا ہے مگر نہ پارو ملی اسے تو وہ بھی کیا خودکشی کرے گا نہیں جئے گا

مزید پڑھیے

افلاک گونگے ہیں

مگر یہ آرزو کب تھی کہ ہم افلاک کے فرمان کی سولی پہ جا لٹکیں تو آخر کس لیے وقت و مکاں کی گھاٹیاں اتریں بنا کر مرقدوں کو در عدم کے آسماں کی خاک چھانیں اور پھر جیون کے موسم کو اسیری کا کفن اوڑھیں مگر ان سب سوالوں کے جوابوں سے بہت پہلے نیا دن سورجوں پر بیٹھ کر کھڑکی کے رستے خواب زاروں ...

مزید پڑھیے

نندیا آنکھوں میں آ

نندیا آنکھوں میں آ نندیا آنکھوں میں آ ان میں کلیاں ان میں خوشبو ان میں ہے رس بھرا نندیا آنکھوں میں آ ان میں ہے چاندنی ان میں ہے روشنی ان میں تارے ان میں جگنو ان میں ہے اک دیا نندیا آنکھوں میں آ آنکھوں کی راہ سے تو آ جا چاہ سے ان آنکھوں سے دل تک جائے چاہت کا راستہ نندیا آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

ہم پنچھی بن جائیں

بن کے ننھے پنچھی ہم بھی نیل گگن میں اڑتے اڑتے جائیں گہرے گہرے ساگر اونچے اونچے پربت نیلی نیلی جھیلیں سب نیچے رہ جائیں بن کے ننھے پنچھی بادلوں میں ہم تیریں اور دھنک پر جھولیں چاند پہ مل کر دوڑیں تاروں کو ہم چھو لیں کھیلیں آنکھ مچولی کرنوں میں چھپ جائیں ہاتھ کبھی نہ آئیں نفرت کی ...

مزید پڑھیے

چاند نگر سے خط آیا ہے

چاند نگر سے خط آیا ہے دیکھنا اس میں کیا لکھا ہے اس میں لکھا ہے پیارے بچو میں آکاش پہ بیٹھا بیٹھا تم سب لوگوں کی دنیا کو خاموشی سے دیکھ رہا ہوں اس میں لکھا ہے پیاری دنیا پہلے کتنی بھولی بھالی نیلی برف کے گولے جیسی سندر سی اچھی لگتی تھی اس میں لکھا پیارے بچو اب یہ خون کی رنگت جیسی اب ...

مزید پڑھیے

اپنا گھرانا

چھوٹا سا گھرانا اپنا دیکھا ہے آنکھوں نے سدا جس کا سپنا چھوٹا سا وہ اپنا گھرانا ہے شور کہیں بچوں کا بہنوں کو ستانا دن بھر بھائی کا اور شام کو تھک کر سو جانا چھوٹا سا وہ اپنا گھرانا سب کھیلیں آنکھ مچولی جیسے اک عمر کے ہمجولی وہ کھیل میں شامل ہونا ابا کا امی کا مگر وہ شرمانا چھوٹا سا ...

مزید پڑھیے

منا چلا پاؤں پاؤں

منا چلا پاؤں پاؤں بادلوں کی چھاؤں چھاؤں انگلی چھوڑ کے بھاگا امی کا دل شاد ہوا دھوم مچائیں بابا منا چلا پاؤں پاؤں ننھے ننھے پیر اٹھائے چلتے چلتے ڈولا جائے اک پل سنبھلے اک پل جھومے چلنے سے پر باز نہ آئے منا چلا پاؤں پاؤں گرنے سے وہ نہ گھبرائے چلنے سے وہ نہ شرمائے کہتے ہیں ایسا ہی ...

مزید پڑھیے

ننھا منا تارا

میں نے کھڑکی میں سے دیکھا اک ننھا منا تارا میں نے اس کو بلایا میں نے اس کو پکارا یوں تو چپکے چاپ کھڑا تھا لیکن مجھ کو دیکھ رہا تھا شاید وہ بھی سوچ رہا تھا میرے دل میں سمائے گا پھر وہ جگنو بن کے چمکا اور آکاش میں ایسے لپکا جیسے پاؤں پاؤں چل کے میری گود میں آئے گا میں نے اس کو پکارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 274 سے 960