شاعری

اس پار

چلے آئیے زبانوں کی سرحد کے اس پار جہاں بس خموشی کا دریا مچلتا ہے اپنے میں تنہا خود اپنے عدم ہی میں زندہ زبانوں کی سرحد کے اس پار کسی کی بھی آمد نہیں ہے بس اک جال پیہم حدوں کا مگر کوئی سرحد نہیں ہے

مزید پڑھیے

بیٹیاں

دل کی ٹھنڈک اور آنکھوں کی ضیا ہیں بیٹیاں جل کے خود جو روشنی دے وہ دیا ہیں بیٹیاں کوئی پوچھے قدر ان سے جو یہاں محروم ہیں وہ سمجھتے ہیں بتائیں گے کہ کیا ہیں بیٹیاں ہیں پرایا دھن مگر اپنی ہی رہتی ہیں سدا بڑھ کے بیٹوں سے بڑھاپے کا عصا ہیں بیٹیاں بیٹیوں کو بار سمجھے جو بڑا بد بخت ...

مزید پڑھیے

سفر قلم کا

تیرے سفر کا انت نہیں ہے تجھ کو چلتے جانا ہے قلم کی دھارا تجھ کو تو اب سدا ہی بہتے جانا ہے مانا سفر بہت لمبا ہے جانا تجھ کو دور ہے کوئی نہیں ہے ساتھ میں تیرے پھر بھی قدم بڑھانا ہے اس دھرتی کا ذرہ ذرہ دامن میں بھر لینا ہے پل پل ہر منظر کا تجھ کو ایک اک ہر منظر کا تجھ کو ایک اک نقش ...

مزید پڑھیے

شام ہے دھواں دھواں

کیوں شام کا آنچل میلا ہے ہر سمت دھواں سا پھیلا ہے معدوم ہوئے آثار سبھی کلیوں کی چنچل آنکھیں جھکی جھکی سی موندے پلکیں گل بدن سر نگوں ہو گئے خوشبو بھی اڑی اور گیسوئے شب میں جا الجھی مہتاب بھی ابھرا چپکے سے دھندلا دھندلا پھیکا پھیکا مغموم شعاعیں پھیکی سی ہر سمت تھا اس کا عکس ...

مزید پڑھیے

پریم بنا من سونا

من بھی سونا آنگن بھی سونا آنگن سونا سونا سب سنسار پڑا سونی اب یہ سیج پڑی ہے کب تو آ کر پریم براجے اندھیارے نینن میں چھائے دوارے دوارے ڈھونڈھ کے آئے پھر بھی تیرا ٹھور نہ جانا کٹھن بڑا ہے تجھ کو پانا چپکے سے کانوں میں کہہ جا خوشیوں کا سندیس سنا جا پریم تو اپنی ڈگر بتا جا کیا تو جوگن ...

مزید پڑھیے

زندگی اور موت

زندگی کی عجب کہانی ہے ایک دن موت سب کو آنی ہے کتنا نادان ہے مگر انسان جانتے بوجھتے بھی ہے انجان عیش و عشرت میں کھو گیا ہے یہ نیند غفلت کی سو گیا ہے یہ اس کو یہ بھی نہیں ذرا احساس آج جو زندگی ہے اس کے پاس وہ اسی ذات کی امانت ہے جو سدا سے ہے تا قیامت ہے ہاتھ میں ہے اسی کے شام و ...

مزید پڑھیے

مرے خواب

مرے خواب اشکوں میں تحلیل ہو کر کہیں کھو گئے ہیں خیال آ رہا ہے کہ شاید مری روح کے نیم تاریک سے جنگلوں میں بھٹکنے لگے ہیں کئی دن سے ان تک مری سوچ میرے تصور کی کوئی رسائی نہیں ہے مگر جانتی ہوں کہ وہ دھیرے دھیرے مرے ہی لہو میں سسکنے لگے ہیں کئی دن سے میں نے انہیں کوئی لوری سنائی نہیں ...

مزید پڑھیے

قاتل کو پہچانو

سوچ کہاں جا کر ٹھہرے گی اندھیارے میں کب تک خود کو ڈھونڈو گے شب کا سفر تو صبح پہ جا کر رکتا ہے لیکن یہ شب کتنی کڑی ہے برسوں سے اک دوراہے پر دم سادھے چپ چاپ کھڑی ہے خود کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر شب کے یہ بے نام مسافر بے حس گونگے سائے بن کر اندھیاروں میں ڈوب گئے ہیں یہ سب کتنے بد قسمت ...

مزید پڑھیے

دیکھو میں کس شان سے آئی

سورج نے جب ساتھ نبھایا سردی کو پھر میں نے بھگایا گرم ہواؤں کا ہے مہینہ ہر ماتھے پر آئے پسینا آموں کے میں تحفے لائی دیکھو میں کس شان سے آئی کوئی پئے تربوز کا شربت کسی کو خربوزے سے رغبت آڑو دیکھ کے جی للچائے سب نے مل کر مزے اڑائے جامن اور خوبانی کھائی دیکھو میں کس شان سے آئی محنت ...

مزید پڑھیے

میرا نام پڑا برسات

میں نے ایسی جھڑی لگائی گرمی چیخی اور چلائی لیکن میں نے زور دکھایا گرمی کو پھر مار بھگایا جان میں لوگوں کی جان آئی موسم نے لی پھر انگڑائی بانٹی خوشیوں کی سوغات میرا نام پڑا برسات بجلی کڑکی دل تھرایا بادل نے ٹکڑا ہے گرایا برسے جھوم کے کالے بادل دھوپ کے گھر میں پڑ گئی ہلچل سکھیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 262 سے 960