خلا نوردی
یہ کس نے مرے جسم کی تاریخ الٹ دی؟ سانسوں کی زمیں پر، اک کھوئی ہوئی ساعت مسمار کے کتبے! رفتار کے گفتار کے اظہار کے کتبے! بے خواب ستاروں پہ جیے جا رہا ہوں میں۔ ناپید سمندر کو پیے جا رہا ہوں میں۔ صدیوں کے کئی رنگ جو تحلیل ہیں مجھ میں جدت کی دراڑوں سے ٹپکتے ہیں ابھی تک ناپید سمندر سے ...