شاعری

خلا نوردی

یہ کس نے مرے جسم کی تاریخ الٹ دی؟ سانسوں کی زمیں پر، اک کھوئی ہوئی ساعت مسمار کے کتبے! رفتار کے گفتار کے اظہار کے کتبے! بے خواب ستاروں پہ جیے جا رہا ہوں میں۔ ناپید سمندر کو پیے جا رہا ہوں میں۔ صدیوں کے کئی رنگ جو تحلیل ہیں مجھ میں جدت کی دراڑوں سے ٹپکتے ہیں ابھی تک ناپید سمندر سے ...

مزید پڑھیے

ایک نیوکلیئر نظم

جہاں کو پھر بتائیں گے سمندر بھاپ بن کر کس طرح اڑتے ہیں آنکھوں سے بدن شق ہوتے ہوتے کس طرح پاتال بنتے ہیں نفس کے شہر کیسے ریزہ ریزہ خاک ہوتے ہیں مساموں سے ابل کر آسماں کیسے سلگتے ہیں عدم مشروم بن کر کیسے خلیوں سے ابھرتا ہے کہ اکھڑی ارتقا کی بوند میں سرشار یہ پتلے ہمارے دو جہانوں کا ...

مزید پڑھیے

ویران خواہش

مرے اندر گھنا جنگل گھنے انجان جنگل میں لچک شاخوں کی وحشت میں شجر کے پتے پتے پر منقش ان گنت صدیاں زمانوں کے بدن عریاں ازل کی زد، ابد کی حد کھنڈر، مینار اور گنبد رواں لا سمت تہذیبیں نئے امکان کی سانسیں، کبھی اپنی گرفتوں میں گرفتوں سے کبھی باہر لہو، آفاق، اک دریا بدن لمحات کا ...

مزید پڑھیے

بنارس

بھٹکتی ہوئی وقت کی آتمائیں ترے گھاٹ کے پتھروں کی زباں سے یگوں کی صداؤں کی صورت ابھر کر گھلی جا رہی ہے بجھے پانیوں میں تری سانس کی شاہراہوں پر پھوٹی وہی تنگ گلیاں، وہ گلیوں میں گلیاں! کہ جیسے رگوں کا بنے جال کوئی جہاں لاکھ بھٹکو، نہ کوئی سفر ہو سفر فاصلہ ہے، سفر مرحلہ ہے یہیں پر ...

مزید پڑھیے

صابن

دو عالم کی سیاحی میں گزرے ہیں نکہت نکہت میرے لب اجلے پستانوں سے زیر ناف گھنی راتوں کے ایوانوں سے بھیگی بھیگی کھال کی اندھی رونق سے واقف ہوں میں بھی جسموں سے سیلابی پیچ و خم سے گھس کر لمحہ لمحہ جان گنوائی ہے میں نے بھی جھاگ بنا کر ہستی اپنی مٹی کے سپنے دھوتا ہوں تیرے خلیوں کے حلقوں ...

مزید پڑھیے

معذرت

مجھے معاف کرنا ہواؤں کے پرسوز چہرو کہ میں نے تمہارے فلک در فلک تیوروں کا سراب بھی پایا نہیں ہے مجھے معاف کرنا ستاروں کے سایو تمہاری سیاہی کے بوسیدہ نقطوں میں ڈھلنے سے اب تک میں قاصر رہا ہوں غیابوں کی نظروں سے تنہا بہا ہوں مجھے معاف کرنا محبت کے حامل سرابو کہ بانہوں میں آ کر بسا ...

مزید پڑھیے

وینس

پہنا کے زنجیر آبی بنا تاب کی اب بھی جکڑے رکھا ہے مجھے پانیوں نے نفس میرا پانی مری روح پانی مرے عکس کی لہر در لہر سطحوں میں سیال پتوار کھولے ہیں در اور دریچوں کی تاریخ کے مرتعش مرتعش اپنی پھیلی رگوں کی فراوانیوں میں بہاتا ہوں میں نغمہ زن کشتیوں کے چراغ آسمانوں کا آئینہ سر پہ ...

مزید پڑھیے

مستقبل کی آنکھ

میرے ماضی کی آنکھ مستقبل اور یہ میرا ثبوت بوند جو پہلے سمندر تھی کبھی یہ ہوائیں جو کبھی تھیں سانسیں اور اس پیڑ کی تنہائی مری آواز کے پانی میں کبھی بھیگے گی مرے ماضی کی آنکھ مستقبل اور یہ میرا ثبوت وقت ناپید سے آتے جاتے اس کی تاریخ میں سو جاؤں گا میں اگر تھا تو میں ہو جاؤں گا

مزید پڑھیے

نا مکمل تعارف

اور جنموں سے ترے اندر چھپا تھا وہ بھی میں اور ترے اظہار سے باہر اڑا تھا وہ بھی میں اور تجھ سے تجھ تلک جو فاصلہ تھا وہ بھی میں اور سارے فاصلوں میں راستہ تھا وہ بھی میں اور تیری رات کی زد پر جلا تھا وہ بھی میں اور ایوان فلک میں جو بجھا تھا وہ بھی میں اور کھنڈر کے دل میں جو نغمہ سرا تھا ...

مزید پڑھیے

گائے

گھاس کے سبز میدان تو رہ گئے ہیں فقط خواب میں میرا بھاری بدن چاروں پیروں کی تحریک پر اٹھ کے چل تو پڑا ہے ان آوارہ گلیوں کی انگڑائیوں میں مگر شہر کی دوڑتی پھرتی سانسوں سے ٹکرا کے مسمار ہونے لگی ہے مری ہر ادا اب تو آوارہ گلیوں کی پرچھائیں میں مکھیاں شوق سے کر رہی ہیں زنا مری مغموم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 261 سے 960