شاعری

میں زندہ ہوں

میں سنتا ہوں سو زندہ ہوں میں سونگھوں ہوں سو زندہ ہوں اور لمس بھی زندہ ہے میرا حیرانی اب تک باقی ہے ہے میری بصیرت اب بھی جواں اور چکھنے سے پرہیز کہاں پر سوچنا مجھ کو دوبھر ہے کہ سوچ کی راہیں مشکل ہیں جو سوچتے ہیں کب جیتے ہیں یا زہر کا پیالہ پیتے ہیں یا صدمے سے مر جاتے ہیں میں زندہ ...

مزید پڑھیے

انجام

ایک صبح کا تارا سر پہ آسماں اوڑھے روشنی کے زینے سے روز اتر کے آتا ہے اور اس نئے گھر کے ادھ کھلے دریچے میں آ کے بیٹھ جاتا ہے ہاتھ کے اشاروں سے دائرے بناتا ہے اور میں محبت کی بوند بوند کرنوں میں روز ڈوب جاتا ہوں

مزید پڑھیے

تعاقب

پھر مرے تعاقب میں اک اداس سا چہرہ زخم زخم یادوں کے جبر کی ردا اوڑھے ہجر کی تمازت میں وصل کی مسافت میں بے ثمر محبت کی بے نشان گلیوں میں ننگے پاؤں پھرتا ہے

مزید پڑھیے

انتظار

اور تم نہیں آتے چاند ڈوب جاتا ہے عمر بیت جاتی ہے انتظار کی بازی رات جیت جاتی ہے جبر کا کڑا لمحہ آس کا بجھا تارا شام ہجر کا دریا مجھ میں ڈوب جاتا ہے اور تم نہیں آتے

مزید پڑھیے

خواب

حصار رنج میں رہتے ہوئے تجھے چاہوں غبار راہ یقیں میں سدا تجھے دیکھوں جبین وقت پہ ہر آن بس تجھے لکھوں چراغ ہجر بنوں رات بھر تری آنکھوں کے جنگلوں میں کروں روشنی اڑاؤں تری سنہری نیند اندھیروں بھرے مکانوں میں ترے وجود سے اپنا وجود باندھ کے میں سمندروں میں کروں رقص جل پری کی طرح سناؤں ...

مزید پڑھیے

ہجر نگری

تری موجودگی موجود ہے تو پھر یہاں سب کچھ مجھے پھیکا فنا جیسا سکوت مرگ جیسا لگ رہا ہے کیوں نہ دنیا ہے نہ شور و غل نہ ہنگامے نہ دل کو کھینچتے میلے جھمیلے ہیں نہ لوگوں کے تماشے ہیں نہ آنکھوں میں کوئی رونق نہ سانسوں میں حرارت ہے نہ ہاتھوں میں قلم میرے نہ ہی تکیے تلے غزلیں نہ ہی نظمیں نہ ...

مزید پڑھیے

کتنی نعمتوں سے نوازا ہے مجھے

کتنی نعمتوں سے نوازا ہے مجھے خدائے عز و جل نے یہ پر کشش سا بدن جس پہ شاعر پوری بیاض لکھ دے یہ چاند کی کرنوں جیسا اجلا اجلا روپ یہ سونے جیسے بال یہ گلاب جیسے نازک ہونٹ یہ سیاہ گھنیری زلفیں جن پہ رات کا گماں ہوتا ہے ان آنکھوں میں سمندر کی گہرائی ہے لہجے میں پھولوں سی نرمی ...

مزید پڑھیے

میرے آنگن میں

میرے آنگن میں پہلی خوشی بن کر تم آئی ہو جیسے تپتے ہوئے صحرا میں بارش کی بوندیں گرتی ہوں تم نے مجھے کتنا بلند مرتبہ دیا ہے بالکل پریوں جیسی لگتی ہو تم تمہارے منہ سے ماں سن کر ایک انوکھا احساس ہوتا ہے تمہارے ننھے ننھے ہاتھوں کا لمس ایک عجیب سی توانائی بخشتا ہے تم میری زندگی کی پہلی ...

مزید پڑھیے

کبھی تم

کبھی تم میں سے نکل کر باہر تو آؤ دیکھو یہ دنیا کتنی حسین ہے قدرت کے ان انمول تحفوں پہ تمہارا بھی تو حق ہے تم نے ہر خوشی سے منہ موڑ لیا ہے کبھی اپنے میں سے نکل کر باہر تو آؤ دیکھو ذرا اور محسوس کرو کسی کی آنکھیں تمہارے دید کو ترس رہی ہیں کسی کی روح تم میں جذب ہونے کے لئے بے قرار ہے

مزید پڑھیے

شاعری

دل کی کشمکش لفظوں میں نکال دیتا ہوں جسم کیا میں روح کے کپڑے اتار لیتا ہوں میں نہیں جانتا قصیدہ قطعہ شعر و مصرع کیا ہے دل میں جو آتا ہے ورق پر اتار دیتا ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 255 سے 960