میں زندہ ہوں
میں سنتا ہوں سو زندہ ہوں میں سونگھوں ہوں سو زندہ ہوں اور لمس بھی زندہ ہے میرا حیرانی اب تک باقی ہے ہے میری بصیرت اب بھی جواں اور چکھنے سے پرہیز کہاں پر سوچنا مجھ کو دوبھر ہے کہ سوچ کی راہیں مشکل ہیں جو سوچتے ہیں کب جیتے ہیں یا زہر کا پیالہ پیتے ہیں یا صدمے سے مر جاتے ہیں میں زندہ ...