شاعری

عورت خدا کا اخبار ہے

آج سے صرف کچھ سال پہلے کی یہ بات ہے آسمان جب زمیں پر نہیں تھا خدا ایک اخبار تھا اور اخبار میں توتلی عینکوں کے برے شہر کا ذکر تھا اور میں نے کہا تھا اگر میری ناپاک آنکھوں کی الماریوں میں کبھی دودھ کا جام دیکھو تو آواز دینا چلا آؤں گا میں خطرناک چہروں کا دشمن نہیں ہوں آج کی رات عورت ...

مزید پڑھیے

پہلی نظم

دیوتا کے گن گانے والوں اڑتا سورج کیا ہے اڑتا سورج ایک پہیلی بڑی پرانی سونا امبر جس کو ہر دن دہراتا ہے اپرم پار اندھیروں میں وہ انجانی موت کی جانب جادو کی ناؤ پہ چڑھا دور بہت ہی دور کو اڑتا جاتا ہے اڑتا سورج کیا ہے بھگتو ایک روپہلی شان ہے چاندی کا شعلہ ہے اٹھتی اور نکھرتی کھیتی ...

مزید پڑھیے

شام

دھیرے دھیرے شام آ رہی ہے رات کی کتابوں میں پت جھڑوں کی سانسوں میں دھندلی دھندلی آنکھوں میں رات بڑھتی جا رہی ہے نیند ایک گاؤں ہے نیند کی تلاش میں آوازیں آ رہی ہیں پاؤں کھڑاؤں پہنے ست ست گا رہے ہیں پیپل کے پات ہرے دھیرے دھیرے گر رہے ہیں کئی ہاتھ بڑھ رہے ہیں شک والے رنگ لیے موروں کے ...

مزید پڑھیے

احساس

کانچ کی بوتلیں ٹوٹ کر گر پڑیں رات کے خواب سارے بکھرتے رہے اور میں خواہشوں سے دبا سر لئے نیند میں ہر کسی رہ گزر پہ بہکتا رہا

مزید پڑھیے

چیت

کوئل میرے شبدوں کو تو چھاپے خانے لے جا وہ اخبار تو پڑھتے ہوں گے پڑھ کے خبر میرے مرنے کی دوڑے دوڑے گھر آئیں گے ڈاکئے تو چٹھی کے بجائے آم مری بگیا کے اب کی ان کے دفتر لے جا سب سے چھپا کے آم وہ میرے ہاتھوں میں بھر لیں گے پھر کرتے کے نیچے, پیچھے، سینے کے جنگل میں ان کو دبکا لیں گے سکھی ...

مزید پڑھیے

شعلۂ عشق

ناز و انداز حسینوں کے وہ عشرے غمزے بعد مرنے کے مرے ختم ہوئے اب نہ ناخن میں حنا ہے نہ سرمہ ہے کہیں آنکھوں میں جو مرے دم سے تھا کہ میں عاشق تھا اکیلا تنہا بعد میرے کیا یہ منصب کوئی پائے گا کبھی شعلۂ شمع سیہ پوش ہوا ماتم میں دھواں بن کے کہیں خاموش ہوا شمع روشن تھی بجھ گئی جلتے جلتے بعد ...

مزید پڑھیے

کواڑ

سونا سو کر نیند میں کھونا بند کرو یہ بند کرو اپنے بچپن کو بات بات پر غیروں کی شنوائی میں پھر بونا بند کرو تم لوٹ کبھی نہ پاؤ گے اس آسمان کی چھاؤں میں تم واپس کبھی نہ جاؤ گے اپنی شنوائی بینائی کو لمس میں آتی تنہائی کو پھر سے کبھی نہ پاؤ گے بند کرو تم گزرے اس آنگن کی ٹھنڈک ان تلووں ...

مزید پڑھیے

دو سانسوں کی گہرائی میں

دو سانسوں کی گہرائی میں جہاں لہو بے حد بھیتر کے، بالکل ساکت میدانوں میں چاند کی ہر رنگت بہتا ہے وہاں پلی اک ننگی ناری بے حد بھیتر کی رکھوالی چاندی جیسے لہو کو اپنے بدن میں بھی تنہا پاتی ہے، شنوائی سے دور ہمیشہ شنوائی کا لب ہوتا ہے ننگی ناری دو سانسوں کے بے حد بھیتر سانس کے بن ...

مزید پڑھیے

لا سے خلا تک

ابوجہل ان پڑھ کہاں تھا کہ ان پڑھ تو نبی تھے جنہیں لا پہ اصرار تھا اور یہ بھی کہ لا سے خلا تک خلا سے پرے بھی خدا کا جہاں تھا کہ معراج آدم میں تکریم آدم خدا لا مکاں تھا ابوجہل اپنے قبیلے میں افضل تھا عالم صفت تھا کہ اجداد نے جن بتوں کو تراشا ابوجہل نے ان کو سجدہ کیا لا کو جانا تماشا

مزید پڑھیے

دل کے شیشے کے گھر ہیں

دل شیشے کے گھر ہیں ان کو مت ٹکراؤ پھر کچھ اتنے چور ملیں گے چہرے بھی آنکھوں سے اوجھل ہوں گے بے حد دور ملیں گے زہریلی تنہائی چاہت میں اترے گی صوت و صدا کی لہروں میں بھی موج طلب کی غار ہلاکت میں اترے گی دل شیشے کے گھر ہیں ان کو مت ٹکراؤ

مزید پڑھیے
صفحہ 221 سے 960