شاعری

آنے والی صبح کی باتیں

گو میرے دل میں اور افق کی لالی میں ہے رشتہ پیار کا پھر بھی ہم ریگ بیاباں میں اس سے مقتل کے سوا کیا اپنائیں یہ ریت جگر گوشے سورج کے جانے کب کس آنے والے عالم میں پھر لالہ و گل بن کر نکھریں اور دور افق کی لالی کے ہم رنگ بنیں آج تو میرے دل کا بس اتنا رشتہ ہے رنگ شفق سے دونوں روشن روپ طلب ...

مزید پڑھیے

شب خون

آنکھ لگی یا غفلت برتی متوالوں نے رات رہے شب خون مارا کن لوگوں نے کون بتائے کون کہے کہنے کو تو سچے سب تھے سازش کے تاریک گھروندے ارمانوں کی بستی میں نفرت کے نیزے اپنائیں عاشق حسن پرستی میں سچ کہیے تو کس سے کہیے

مزید پڑھیے

سازش

سازش کی عجیب سی علامت بولیں تو کہیں مبالغہ ہے چپ ہیں تو ضمیر کی ملامت

مزید پڑھیے

ہم گنہ گار تیرے

خود سری سے خفا کس لئے چاہتوں کا سفر خود سری ہے حسرتوں کی سلامت روی بے ثمر نا مرادوں کی چارہ گری ہے اور پس پشت تیری برائی کریں تیرے دشمن کہ ہم تن بدن سے طلب گار تیرے اگر نارسا آرزو سے عبارت وفا ہے تو ہو ہم کہ سرشار ہیں وصل سے ہم گنہ گار تیرے

مزید پڑھیے

شام

دن کو اس کا لہو تھا ارزاں پھر آئی یہ شام غریباں طوق گلے میں، پاؤں بہ جولاں صبر ہے گریاں، ظلم ہے خنداں شام ہوئی کرب و بلا، سناٹا ہر سو ہر سو اس کے لہو کی خوشبو میرے لفظ اور اس کے جادو شام ہوئی

مزید پڑھیے

رات

آندھیاں آسمانوں کا نوحہ زمیں کو سناتی ہیں اپنی گلو گیر آواز میں کہہ رہی ہیں، درختوں کی چنگھاڑ نیچی چھتوں پر یہ رقص آسمانی بگولوں کا اونچی چھتوں کے تلے کھیلے جاتے ڈرامہ کا منظر ہے یہ اس ظلم کا استعارہ ہے جو شہ رگ سے ہابیل کی گرم و تازہ لہو بن کے ابلا ہے آندھیوں میں تھا اک شور کرب و ...

مزید پڑھیے

زہر کا سفر

میں انسان ہوں میں نے اک ناگن کو ڈسا اس کو اپنا زہر دیا ایسا زہر کہ جس کا منتر کوئی نہیں اس کی رگ رگ میں چنگاری اس کے لہو میں آگ میرے زہر میں نشہ بھی ہے ایسا نشہ جس کا کوئی خمار نہیں وہ ناگن اب مست نشے میں جھومے گی بہک بہک کر ہر سو مجھ کو ڈھونڈے گی اس کی زباں باہر کو نکلی اس کے منہ میں ...

مزید پڑھیے

دیوار قہقہہ

ادھر نہ آؤ کہ یہ محل اب شکست شوکت کی داستاں ہے کہ یہ محل اب شکست اقدار کا نشاں ہے کہ یہ محل اب شکست افکار کی فغاں ہے ادھر نہ دیکھو کہ یہ کھنڈر ہے جنوں کا بھوتوں کا آستاں ہے کہ یہ امنگوں کی بے بسی کی بڑی طویل ایک داستاں ہے کہ یہ ہے مسکن سیاہ راتوں کا ، ہرطرف بس دھواں دھواں ہے ادھر نہ ...

مزید پڑھیے

پھیری والا

پریت نگر سے پھیری والا میری گلی میں آیا چوڑی، لونگ، انگوٹھی، چھلے رنگ برنگے لایا میں نے پوچھا اور بھی کچھ ہے، بولا میٹھا سپنا جس کو لے کر جیون بھر اک نام کی مالا جپنا میں نے کہا کیا مول ہے اس کا، بولا اک مسکان تن میں آگ لگاؤ اس سے رکھو من کی آن سستا سودا دیکھ کے آخر میں پگلی ...

مزید پڑھیے

صبح

آخر شب تھی وہ صحن مسجد میں بے سدھ پڑا سو رہا تھا میں نے اس کو جگایا اٹھ۔۔۔ یہ شہادت کا تکبیر کا وقت ہے دعاؤں کی تسخیر کا وقت ہے وہ اٹھا۔۔۔ میرا قاتل جسے میں نے خود ہی اٹھایا اٹھا۔۔۔ اور محراب مسجد میں میرے لہو سے چراغاں ہوا

مزید پڑھیے
صفحہ 222 سے 960