شاعری

الہ آبادی کی ناکامی کی آخری نظم

آگ کی اک دو لکیریں چھ لکیریں دس لکیریں ہاتھ کی موجوں سے ملنے جا رہی ہیں ہاتھ کی موجوں میں مرنے جا رہی ہیں گھر بسانا کھیل کیسا خود کشی ہے گھر کی ندی میں نہانے کا عمل اک سرکشی ہے باغ میں ننگے قدم چلنا شرارت کی خوشی ہے بے وقوفی بے وفائی آج کل اک بانس پر چڑھ کر ستارے کھا رہی ہے بھول ...

مزید پڑھیے

لکھنؤ

لکھنؤ شہر میں سب شیعہ اور سنی نہیں لکھنؤ بھی تو ہے ہم وہیں جائیں گے

مزید پڑھیے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے اس سے محبوب مرا اچھا بہت اچھا ہے بوسہ دیتا نہیں پر دل میں چھپا جاتا ہے پاس رکھتا ہوں میں اک جام سفال ہر لمحہ ساغر جم سے تو بہتر ہے بازار میں مل جاتا ہے مرا محبوب جب آتا ہے مرے گھر دیکھنے طبیعت میری اس کے دیکھن سے جو آ جاتی ہے چہرے پہ رمق وہ سمجھتا ہے ...

مزید پڑھیے

خوش گوار موسم کی آخری سطریں

ماحول سے پرے کسی خوش رنگ جھیل میں وہ اپنے نرم جسم پہ قالین ڈالے ہے آنکھوں میں موسموں کی چتا کو سنبھالے ہے کوئی نہیں جو ریت پہ دوزخ سنبھالے ہو کوئی نہیں جو آنکھوں میں اک جال تانے ہو سردی اداس جسم کی پرچھائیں بھی اداس کمرے کے نیلے پردے سے تنہائی نوچ کر سوچا ہے جا بسوں کسی حیران ...

مزید پڑھیے

موم بتی

اور جب اس کے قد پر اٹیچی کا سامان رکھا گیا موم بتی ہنسی موم بتی کا ہنسنا بجا ہے مجھے کوستی ہے مرے گھر میں پچھلے کئی سال سے ایک آواز جس کے کئی راستے دھند کے سرد لہجے میں الجھے ہوئے ہیں مرے گھر کو اک موم بتی کی خواہش کہیں جنگلوں کا نہ رستہ دکھا دے سفر جب نیا کتھئی سوٹ پہنے نئی ریل ...

مزید پڑھیے

ایک صبح کا منظر

ایک بھرے گھر کے آنگن میں پھول کھلے ہیں گھاس اگی ہے گھاس ہری مخمل جیسی ہے جس کے اوپر جھوم رہی ہیں ننھی ننھی اوس کی بوندیں گھر کے دو مینار کپاسی جانے کب سے روک رہے ہیں سپنوں کے شہزادے کو

مزید پڑھیے

منظر

سارا منظر پانی میں ڈوبا ہوا ایک چھوٹی سی نہر بن گیا ہے سب لوگ کہرے سے ڈھکے اور دھوپ کے بستر سے بندھے منتظر ہیں کہ کوئی آواز اوپر سے اترے اور انہیں ثبت کر دے ایک ایسی سمت کے منظر میں کہ اگر وہ اپنے گھروں کو ڈوبتے دیکھیں تو دیر تک ہنستے رہیں رو بھی سکیں لیکن سکون کی پد چاپیں اپنے عصا ...

مزید پڑھیے

تیسری نظم

تھوڑا تھوڑا یہ جو سہاگن رنگ اکٹھا دل میں ہوا ہے جانے کتنے بھید نچوڑے نیند گنوائی پیاس چرائی کون سے چور ہاتھوں سے لٹ کر آج یہ گھر آباد کیا ہے برسوں سے سوندھی مٹی نے کیسی ہیکڑ جوت جگائی خوشیوں کی بوچھار جو پلٹی غم کا مکھڑا دھل سا گیا ہے ساون ماس خزانے اپجے سر سے پاؤں تلک ہریائی کون ...

مزید پڑھیے

مبارک ہو

اچانک خود میں یہ کیسی تبدیلیاں محسوس کر رہا ہوں میں میرے بال دراز اور گھنے ہو گئے ہیں میں اب دو چوٹیاں باندھنے لگا ہوں میری آنکھیں پہلے سے زیادہ مخمور ہو گئی ہیں وہ اب دیکھنے کے بجائے زیادہ رونے لگی ہیں میرے ہونٹ کہرے کی ٹھنڈ کی طرح سفید پڑ گئے ہیں وہ اب بولنے کے بجائے زیادہ ...

مزید پڑھیے

خوشبو

کوئی خوشبو سی خلاؤں کے گہرے گھنے جنگلوں میں چھپی دیکھتی ہے ضدی بچے کو جس کا کھلونا نری دھول سے اٹ گیا ہے اس کے چاند اور سورج مٹی میں رل مل گئے ہیں گھر میں سناٹا پھیلا ہوا ہے کواڑوں کی باریک جھریوں کے پیچھے کوئی پاک معبود کی نرم آغوش میں جل رہا ہے ابھی ایک لمحے کے زیر اثر یکایک کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 220 سے 960