شاعری

کارتک

پانی میں عکس دیکھا جنگل میں رقص دیکھا سورج لباس پہنے چندا سے زیادہ ٹھنڈا اس رات آئینے میں اک ایسا شخص دیکھا چاندنی کے رتھ پر سج کے اس شخص کی سواری اب ہو رہی ہے دیکھو سوئے افق روانہ اب لائے گی وہاں سے کچھ درد کا خزانہ ان منظروں سے ہٹ کے جھرنے کے شور و شر میں ہم نے نہاتے دیکھی اک ...

مزید پڑھیے

دعا بد دعا

سمجھا کے خواہشوں کو تمنا کی دھوپ میں وہ آ گئی ہے میرے مکاں کے سراب میں انگارے رکھ رہی ہے مسلسل کتاب پر وہ بد حواس پھاڑ رہی ہے ورق ورق خود میں سمٹ رہا ہوں مگر بھاگتی نہیں لمحے گزر رہے ہیں مگر بھاگتی نہیں اب میں اگر زبان کو پاؤں پہ پھینک دوں وہ مجھ کو تنہا چھوڑ کے لکھ جائے گی کہیں اک ...

مزید پڑھیے

شب تنہائی

آتش عشق سے میری شب تنہائی میں سائے نے بھی نہ دیا ساتھ مری جاں کا وہ ناراض رہا میں نے جب آئنہ دیکھا تو پشیمان ہوا اپنا چہرہ نہ نظر آیا مجھے آئنے میں کوئی ویرانہ تھا پیالہ گردش میں تھا مے اس میں نہیں تھی ہرگز میں بلاتا رہا ساقی کو پہ وہ نکلا نہیں مے خانے سے خس و خاشاک ہوئی میری ...

مزید پڑھیے

سایۂ گریزاں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر گیا بہت روئے ہیں ہم ہزار بار در پہ تمہارے بیٹھ کے چلمن اٹھا کے ایک دن دیکھا نہیں جناب نے دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم شاید جناب کا گزر اس رہ گزر سے ہو کبھی ہم دیکھ لیں گے گر تمہیں آنکھوں میں دید آئے گی ہم کو نوید امن ...

مزید پڑھیے

دوسری نظم

سیاہ راتوں کے بے اماں راستوں پہ چھٹکے ہوئے یہ چہرے کہ جیسے پت جھڑ میں بکھر گئے ہوں بس ان کی بے چین زخم خوردہ سی پتلیوں میں رقم ہے باقی جو گھومتی ہیں جو منتظر ہیں مرے زمانے میں پھل نہیں ہیں فقط اخزاں کے زوال ہیں اور ایسے طوفاں کہ دیکھتے دیکھتے ہزاروں درخت جڑ سے اکھڑ گئے ہیں امید ...

مزید پڑھیے

نادیدہ فراق

باغ میں اضطراب ایسا ہے جیسے گہر میں کرتا ہے قطرہ اضطراب یہ خزاں کی ہی تو بخشش ہے جو آتی ہے بہار کلفتیں اور اضطراب اور ان کے ساتھ ساتھ وصل خزاں ہی زندگی میں است ہے پیوست ہے یہ اندھیری شب ہے کیسی دور تک جلتی نہیں مشعل کوئی کوئی چراغ دل ہی جلتا ہے مرا اور اس کی روشنی میں بت کدہ کے در ...

مزید پڑھیے

رات کئی دنوں سے غائب تھی

رات کئی دنوں سے غائب تھی سخت کہرے کی دبیز ساعتوں میں حلق میں رم کی ایک پوری بوتل جھونک کے سارجنٹ رات کی وجلینس پہ نکلا رات کئی راتوں سے غائب تھی لوٹا آٹھ گھنٹے کے بعد خالی ہاتھ مضمحل نڈھال سا اپنے گھر دیکھا رات بے لباس اس کے سامنے پلنگ پر پڑی ہوئی تھی گاڑ رہا تھا سورج اپنا نیزہ اس ...

مزید پڑھیے

پھاگن

آنگن میں اک شجر ہے دالان میں ہوائیں کمرے میں ایک لڑکی اجلی اداس لڑکی واٹر کلر سے دل پہ پتے بنا رہی ہے اتنے میں پیڑ آیا کمرے میں پیڑ آیا پتے گرا کے بولا ''باہر ہوا بہت ہے'' لڑکی تھی پہلے اجلی اب پیلی ہو گئی ہے پھر چند پل بیتے داخل ہوئی ہوائیں پتے اڑا کے بولیں اندر ہوا بہت ہے لڑکی تھی ...

مزید پڑھیے

چاند ڈوب جاتا ہے

چاند اپنے بستے میں بے سفر شبیہوں کو مٹیوں کے پاؤں میں لکڑیوں کے گھوڑوں میں اوس کے پیالوں میں رات کے کھلونوں میں کس لیے سموتا ہے آنکھوں کے بستر سے روز وہ اترتا ہے پاؤں پاؤں چلتا ہے برف سے ڈھکی ہوئی بازوؤں کی شاموں میں روز ڈوب جاتا ہے چاند ڈوب جاتا ہے

مزید پڑھیے

کیوں ترا رہ گذار یاد آیا

تیری جنت سے بہت بہتر ہے میرے محبوب کا گھر اے خدا تو مجھے جنت کے عوض گھر دے دے میرے محبوب کا گھر وہ کرے لاکھ ستم مجھ پہ میں سب سہہ لوں گا موسم سرما میں وہ آگ لگا کے دل میں ہاتھ بھی تاپے گوارا ہے مجھے دل نے گر تنگ کیا تو جگر کو میں صدائیں دوں گا اس کو بھی تشنہ جو پایا تو بھی فریاد کروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 219 سے 960