شاعری

ہوا بند ہے

ہوا بند ہے سانس آتی نہیں اسقدر شور ہے کوئی آواز کانوں میں آتی نہیں کب سے تازہ گلابوں کی شاخوں پہ کلیوں کو کھلنے کی مہلت نہیں مل رہی شہر میں تم بھی ہو ہم بھی ہیں پھر بھی دونوں کو ملنے کی فرصت نہیں مل رہی سب کے سب جبر کی حالتوں میں جئے جا رہے ہیں کسی کو بھی اپنی محبت نہیں مل رہی ہوا ...

مزید پڑھیے

فرار

ٹوٹے پھوٹے وعدوں سے خوش فہمیوں کا کشکول سجائے مجھ میں رہنے کی خاطر تم آئے اس سے پہلے میں دروازہ کھولوں کچھ بولوں افواہوں کی گرد میں لپٹے زہر آلود محبت نامے لئے ہوئے تم ادھڑے ہوئے رشتوں کے جامے سیے ہوئے تم مجھ میں آن سمائے میں رہنے کے لئے بنا ہوں جو آئے مجھ میں رہ جائے مجھے ...

مزید پڑھیے

وقت منصف ہے

تمہیں خبر ہے کہا تھا تم نے میں لفظ سوچوں میں لفظ بولوں میں لفظ لکھوں میں لفظ لکھنے پہ زندگی کے عزیز لمحوں کو نذر کر دوں میں لفظ لکھوں اور ان کی آنکھوں میں منجمد رتجگوں کو اپنے لہو کی تازہ حرارتیں دے کے جگمگا دوں تو میں بڑا ہوں تمہیں خبر ہے مری رگوں میں بڑے قبیلے کے شاہزادے کا خون ...

مزید پڑھیے

دعا

بام و در چپ سادھ چکے ہیں طاق میں اک مٹی کا دیا اندھیاروں سے باتیں کرتا ہے میرے بچے میری جھوٹی باتیں سن کر ابھی سوئے ہیں رات کا آخری پہر ہے میں ہوں سچے مالک آج میں پہلی بار دعا کو ہاتھ اٹھائے تجھ سے اتنا چاہتا ہوں جب تک میرے بچے جاگیں میری ساری جھوٹی باتیں سچی کر دے

مزید پڑھیے

آرٹ گیلری میں ایک تصویر

صبح سویرے سڑکوں پر جاتے اونٹوں کے گلے میں بولتی گھنٹی کی آواز ہوا کے تیروں سے زخمی ہے اور کسی کی نظر نہیں ہے دور سفر پر گئے ہوؤں کے رستوں پر ان گنت دعائیں بچھی ہوئی ہیں اور کسی کو خبر نہیں ہے سب دیکھے ان دیکھے دکھ آسیب زدہ تحریروں کو چہرے پر ملتے پھرتے ہیں اور کئی برس سے یوں ہوتا ...

مزید پڑھیے

پرانے ساحلوں پر نیا گیت

سمندر چاندنی میں رقص کرتا ہے پرندے بادلوں میں چھپ کے کیسے گنگناتے ہیں زمیں کے بھید جیسے چاند تاروں کو بتاتے ہیں ہوا سرگوشیوں کے جال بنتی ہے تمہیں فرصت ملے تو دیکھنا لہروں میں اک کشتی ہے اور کشتی میں اک تنہا مسافر ہے مسافر کے لبوں پر واپسی کے گیت لہروں کی سبک گامی میں ...

مزید پڑھیے

نائٹ کلب

نئی تہذیب کے شہکار عظیم! تیری پر کیف و طرب خیز فضاؤں کو سلام! کتنے نوخیز و حسیں جسم یہاں چاروں طرف رقص میں محو ہیں عریانی کی تصویر بنے اپنی رعنائی و زیبائی کی تشہیر بنے ساز پرجوش کی سنگت میں تھرکتے جوڑے فرش مرمر پہ پھسلتے ہیں بہک جاتے ہیں دوڑتی جاتی ہے رگ رگ میں شراب گلفام نئی ...

مزید پڑھیے

گمشدہ راستے

ساعت خود گری خود شناسی رفاقت محبت کے وہ جاگتے قافلے جو مہ و سال کی گرد میں اٹ گئے تھے اب بھی اک گمشدہ راستے پر رواں ہیں ہم نوائی کے وہ رات دن وقت کی گہری اندھی گپھاؤں سے اٹھ کر میرے اطراف یوں جمع ہونے لگے ہیں جیسے مجھے مجھ سے مری بے حسی کا گلہ کر رہے ہوں پوچھتے ہوں کہ کیا موسموں کے ...

مزید پڑھیے

کاغذی ہے پیرہن

یہ بے نور اندھی سیاست کا بازار ہے مصلحت کی دکاں ہے شناسا یہاں اجنبی ہیں مسرت کے لمحے بھی بے جان ہیں جسم و جاں کی حقیقت نہیں ہیں ریاکار سوچوں کے جامد حصاروں میں لپٹی ہوئی سر زمین کہہ رہی ہے کہ یہ محفل تنگ داماں ہے ساقی کا اعجاز مطرب کی آواز اور نعرۂ سرمدی کچھ نہیں ہے یہاں تو بس ذوق ...

مزید پڑھیے

یہ کس کی سازش ہے

یہ کس کی سازش ہے کس کا خون ہے یہ کون آمادۂ جنوں ہے یہ کون آگ اور خون کی ہولی جلا رہا ہے یہ کون تیروں سے کھیلتا ہے یہ کون خنجر بکف اخوت کا جسم نازک کچل رہا ہے ہمکتی معصومیت کو نیزوں سے چھیدتا ہے لرزتی انسانیت کے خیمے جلا رہا ہے کہ آسماں سے مہیب شعلے برس رہے ہیں ہوائیں مسموم ہو گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 216 سے 960