شاعری

برق طور

میں اپنے عرصۂ ہستی کی ڈھونڈھتی تھی اساس تمام عمر بس اک ایسی روشنی کی تلاش کہ جو نگاہ کے دامن میں ہو سکے نہ اسیر مری طبیعت بے چین کی رہی تقدیر مری طلب کی وراثت مری جبیں سائی یہ عبدیت کا تقاضا وہ دشت پیمائی ترے حضور مگر یہ بھی کارگر نہ ہوئی کہیں فضاؤں میں چمکتی تو تھی وہ برق تپاں اس ...

مزید پڑھیے

سر شام

ابھی تو منظر گل دعوت نظارہ تھا ابھی تو دیدہ و دل کارزار ہستی ہیں رہ نجات کا عنوان بننے والے تھے ابھی تو شام کے اس موج خیز دریا میں نوا و صوت کا طوفان اٹھنے والا تھا نہاں تلاطم لا‌ انتہا تھا سینے میں ابھی سے کیوں مرے نالے لبوں پہ سوکھ گئے ابھی سے مہر بہ لب کیوں ہوئی نوائے خروش ابھی ...

مزید پڑھیے

ہماری روح کا نغمہ کہاں ہے؟

وہ درد آرزو جو لرزہ بر اندام تھا پہنائے عالم میں وہ حرف تشنگی جو نغمہ بر لب تھا دبستان شب غم میں وہ اک دنیائے نا پیدا کراں تھی آسماں کی وسعتیں جس میں سمائی تھیں بڑے گہرے سمندر موجزن تھے کرۂ دل میں جنہیں اک جستجوئے خام نے خاموش کر ڈالا بہت منہ زور موجیں تھیں جنہیں خود ہم نے پابند ...

مزید پڑھیے

آئینے نظر کے گرد ہوئے

جب درد کے ناتے ٹوٹ گئے جب منظر منظر پھیلے ہوئے ان دیکھے لمبے ہاتھوں نے سب عہد پرانے لوٹ لئے ماضی کے خزانے لوٹ لئے سب عشق کے دعوے روٹھ گئے جاں گنگ ہوئی دل چھوٹ گئے ہر زخم تمنا راکھ ہوا جو شعلۂ جاں تھراتا ہوا شفاف اندھیری راتوں میں رقصاں تھا فلک کے زینے پر تھک ہار کے آخر بیٹھ ...

مزید پڑھیے

وہ عشق جو ہم کو لاحق تھا

وہ عشق جو ہم کو لاحق تھا شب ہائے سیہ کے دامن میں اسرار جنوں کے کھول گیا بحر موجود کے مرکز سے اک موج تلاطم خیز اٹھی اک درد کی لہر اٹھی دل کے روزن سے جس میں سمٹ گئے دونوں عالم کے رنج و طرب اور ہست و بود کے محور پر رنج و راحت ہم رقص ہوئے فرقت کے تنہا لمحوں میں آباد تھی اک دنیائے ...

مزید پڑھیے

کب سے محو سفر ہو

ساجدہ کن یگوں کی مسافت سمیٹے ہوئے اس بیاباں میں یوں ہی بھٹکتی رہو گی ان بگولوں کے ہم راہ یوں رقص کرتی رہو گی کتنے صحراؤں میں تم نے پھوڑے ہیں پاؤں کے چھالے کتنی بیدار راتوں سے مانگا ہے تم نے خراج تمنا ساجدہ کچھ کہو ہجر کی کن زمانوں میں اشکوں کی مالا پروئی کن حسابوں چکایا قرض ...

مزید پڑھیے

اجنبی موڑ پر

ہے کہاں وہ سماں درد کے نور میں دھل کے نکھرے ہوئے جسم و جاں بے حسی کی چٹانیں گراتی ہوئی راہ سنگ خار ہٹاتی ہوئی کرب تخلیق کی ندیاں روح کے زخم دھوتی ہوئی تند جذبات کی بدلیاں آبشار رواں وہ متاع گراں روز و شب کی فرومایہ گردان میں کھو گئی لذت وصل کی بیکلی ہجر بیتاب کی روشنی منزل بے نشاں ...

مزید پڑھیے

عجب بلا خیز مرحلہ تھا

عجب سفر تھا عجب پر اسرار مرحلہ تھا عجیب ہنگام رہ نوردی عجیب شوق جہاں نما تھا نہ کوئی صوت درا صدائے رحیل تھی اور نہ کوئی منزل نہ کارواں تھا عجیب خوئے سفر تھی جو زاد راہ تھی ہم سفر تھی رہرو تھی راہبر تھی نہ دل میں اندیشۂ مراحل نہ خوف جادہ نہ انتظار سواد منزل ہر اس طوفان باد و ...

مزید پڑھیے

مئی یوم الحساب

مجھے بے رحم ہستی کے زیاں خانے میں کیوں بھیجا گیا کیوں حلقۂ زنجیر میں رکھ دی گئیں بے تابیاں میری ہر اک منظر مری نظروں کا جویا تھا فروزاں شاخساروں پر ہجوم رنگ و بو اڑتا ہوا بر رواں سیماب پا موجیں صبا کا رقص بے پروا شب مہتاب کا افسوں مہ و انجم کے رقصاں دائرے روئے شفق تاباں افق دریاؤں ...

مزید پڑھیے

اک سوال خدائے برتر سے

ہم اس زمین و آسماں کے درمیاں حیران ہیں اور سر گراں اے خدائے دو جہاں! اے حرف کن کے راز داں! اے منبع کون و مکاں! اتنا تو بتلا دے کوئی ایسی بھی دنیا ہے جہاں انسانیت کی صاف پیشانی پہ علم و فن کی پو پھٹتی ہو اور فکر و نظر کے آئینوں سے نور کی کرنیں ابلتی ہوں دلوں میں خیر و برکت کی دعائیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 217 سے 960