شاعری

شاعر خوش نوا

وہی کار دنیا وہی کار دنیا کے اپنے جھمیلے وہی دل کی حالت وہی خواہشوں آرزوؤں کے میلے وہی زندگی سے بھری بھیڑ میں چلنے والے سبھی لوگ اپنی جگہ پر اکیلے کئی گرد آلود منظر نگاہوں کی دہلیز پر جم گئے ہیں مجھے یوں لگا جیسے چلتے ہوئے وقت کے قافلے تھم گئے ہیں ذرا سیڑھیوں سے ادھر میں نے ...

مزید پڑھیے

آؤ کمرے سے نکلتے ہیں

آؤ کمرے سے نکلتے ہیں کہیں چلتے ہیں روزن حبس میں ٹھہری ہوئی زنداں کی ہوا پا بہ زنجیر کئے جاتی ہے ہر طرف خوف بھری آنکھوں میں ایک تلوار سی لہراتی ہے کوئی در باز نہیں زیر لب بھی کوئی آواز نہیں ایسا اندیشۂ کم یابیٔ حرف کچھ بھی تو یاد نہیں ہم کوئی بات سلیقے سے نہیں کہتے تھے اس پہ بھی ...

مزید پڑھیے

امید

دیکھو باہر آگ لگی ہے دروازے پر نئی رتوں کی خوشبو روتی ہے اور اندر بیتے موسم ویرانی پر ہنستے ہیں پھر بھی بے منظر آنکھیں امید کا جھولا جھولتی ہیں پھر بھی دل سناٹے کو آواز بنائے جاتا ہے کسے بلاتا ہے

مزید پڑھیے

اسم آب

جو تو تصویر کرتا ہے جو میں تحریر کرتا ہوں نہ تیرا ہے نہ میرا ہے مگر اپنا ہے یہ جب تک اسے پڑھنے میں کتنی دیر لگتی ہے ابھی ماحول کو چاروں طرف سے حبس کے صحرا نے گھیرا ہے مگر کب تک ہوا چلنے میں کتنی دیر لگتی ہے کوئی زنجیر ہے شاید ہمارے پاؤں میں اور راہ میں کافی اندھیرا ہے مگر کب تک دیا ...

مزید پڑھیے

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکا جو تیرا لہجہ جو تیرے گیتوں پہیلیوں کا امین بن کر سماعتوں کو ہزار لفظوں کی داستانیں سنا گیا ہے ابھی ابھی بے کراں سا لمحہ جو کتنی صدیوں کا بوجھ اٹھائے گزر گیا ہے جو میری آنکھوں میں سوئے منظر جگا گیا ہے ابھی ابھی تیرا اک صحیفہ اک عہد بن کر دیار دل میں اتر ...

مزید پڑھیے

محبت ڈائری ہرگز نہیں ہے

محبت ڈائری ہرگز نہیں ہے جس میں تم لکھو کہ کل کس رنگ کے کپڑے پہننے کون سی خوشبو لگانی ہے کسے کیا بات کہنی کون سی کس سے چھپانی ہے کہاں کس پیڑ کے سائے تلے ملنا ہے مل کر پوچھنا ہے کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے یہ فرسودہ سا جملہ ہے مگر پھر بھی یہی جملہ دریچوں آنگنوں سڑکوں گلی کوچوں میں ...

مزید پڑھیے

ایک بھولی ہوئی یاد

تم بھی مجھ سے سارے رشتے توڑ چکی تھیں میں نے بھی اک دوسرا رستہ دیکھ لیا تھا تم نے مجھ سے عہد لیا تھا میں نے بھی اک بات کہی تھی تم نے میری سب تصویریں واپس دے کر اپنے خط مجھ سے مانگے تھے لیکن آج رسالے میں اپنا اک شعر تمہارے نام سے دیکھا ہے تو سوچ رہا ہوں چہروں کی پہچان ادھوری رہ جائے تو ...

مزید پڑھیے

ماں

عظیم ماں تو نے اپنے بیٹوں کو بیوگی کی سیاہ چادر میں روشنی کا سبق پڑھایا عظیم ماں تو نے دکھ اٹھائے کہ تیرے بیٹے جوان ہوں گے تو عمر بھر کی مسافتوں کا خراج لوں گی تمام حصے وراثتوں کے تمام لمحے محبتوں کے تمام آنسو مسرتوں کے جوان ہوں گے تو اپنے بیٹوں میں بانٹ دوں گی عظیم ماں تیرے سارے ...

مزید پڑھیے

میری بچی

میری ننھی بچی مجھ سے کہتی ہے ابو رات گئے تک آخر جاگتے کیوں ہو بیٹی میں راتوں کو اکثر شعر لکھا کرتا ہوں میری بچی حیرت سے مجھ کو تکتی ہے اور کہتی ہے ابو ایسے شعر نہ لکھو جن کو لکھنے کی پاداش میں راتوں کو بھی نیند نہ آئے ہاں بیٹی تم سچ کہتی ہو لیکن بات ہی کچھ ایسی ہے میں جو سچے شعر ...

مزید پڑھیے

سال کی آخری شب

سال کی آخری شب میرے کمرے میں کتابوں کا ہجوم پچھلی راتوں کو تراشے ہوئے کچھ ماہ و نجوم میں اکیلا مرے اطراف علوم ایک تصویر پہ بنتے ہوئے میرے خد و خال ان پہ جمتی ہوئی گرد مہ و سال اک ہیولیٰ سا پس شہر غبار اور مجھے جکڑے ہوئے خود مری باہوں کے حصار کوئی روزن ہے نہ در سو گئے اہل خبر سال کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 215 سے 960