شب خزاں
تجھے اعتبار سحر بھی ہے تجھے انتظار بہار بھی مگر اے صدائے امید دل مری زندگی تو قلیل ہے یہ شب خزاں ہے مرے گماں سے عجیب تر کوئی آس پاس نہیں یہاں کوئی شکل ہو جو دل آفریں کوئی نام ہو جو متاع جاں کوئی چاند زینۂ ابر سے اتر آئے اور مجھے تھام لے کوئی خواب رو بڑی گہری نیند سے چونک کر مرا ...