شاعری

شب خزاں

تجھے اعتبار سحر بھی ہے تجھے انتظار بہار بھی مگر اے صدائے امید دل مری زندگی تو قلیل ہے یہ شب خزاں ہے مرے گماں سے عجیب تر کوئی آس پاس نہیں یہاں کوئی شکل ہو جو دل آفریں کوئی نام ہو جو متاع جاں کوئی چاند زینۂ ابر سے اتر آئے اور مجھے تھام لے کوئی خواب رو بڑی گہری نیند سے چونک کر مرا ...

مزید پڑھیے

پذیرائی

دل بڑھا اس کی پذیرائی کو ہاتھوں میں اٹھائے سبز جگنو نقرئی گل سرخ نارنجی سنہری کانپتی لو کا چراغ ایسی گل رو تھی کہ جب آتی نظر کے سامنے ساری سمتوں میں مہک اٹھتے تھے باغ ایسی مہ رخ تھی اندھیرے میں بھی جب دل کے قریب آتا کبھی اس کا خیال اس ادا سے سر پہ رکھے چاند تاروں سے بھرا پورا ...

مزید پڑھیے

سمندر کی خوشبو

سمندر کی خوشبو کہیں دور سے آ رہی ہے، سمندر کی بو سے ہیں بوجھل۔۔۔ نشیلی ہوائیں ہوائیں جو ساحل کی خستہ تمنا سے ٹکرا رہی ہیں ہوائیں پرانے زمانے کے کچھ راز دہرا رہی ہیں یہاں سے ذرا فاصلے پر نگر ہے جہاں لوگ بستے ہیں اپنی خموشی میں ڈوبی ہوئی زندگی کو۔۔۔ سہارا دیے لوگ روتے ہیں۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

اس چہرے پر شام ذرا سی گہری ہے

یہ آنکھیں بالکل ویسی ہیں جیسی مرے خواب میں آتی تھیں پیشانی تھوڑی ہٹ کر ہے پر ہونٹوں پر مسکان کی بنتی مٹتی لہریں ویسی ہیں آواز کا زیر و بم بھی بالکل ویسا ہے اور ہاتھ جنہیں میں خواب میں بھی چھونا چاہوں تو کانپ اٹھوں یہ ہاتھ بھی بالکل ویسے ہیں یہ چہرہ بالکل ویسا ہے پر اس پر چھائی ...

مزید پڑھیے

عمر اک نا قابل تردید سچائی ہے

بہت پہلے میں اپنی ماں کی باتیں سن کے ان پہ خوب ہنستی تھی کہ امی آپ سارا دن کبھی ٹانگوں کبھی بازو کبھی سر یا کمر کے درد کے قصے سناتی ہیں الرجی کے کئی حملے دوائیوں کے کئی شکوے ہمیشہ ہی بتاتی ہیں ہمیشہ شہر کے سارے کلینک ڈاکٹر نرسیں کہاں پہ ہیں یا کیسے ہیں سبھی کچھ جانتی ہیں ان کی ...

مزید پڑھیے

کم علمی اک سزا ہے

کانوں میں نقرئی بالیاں پہنے کندھوں بازوؤں ہاتھوں اور گردن پہ عجیب و غریب ٹیٹوز کھدوائے برانڈڈ کپڑوں جوتوں سے سجا قیمتی پرفیومز سے مہکتا کھسیانی ہنسی ہنستا بے چینی سے سر کھجاتا گھبراہٹ میں ٹانگیں ہلاتا پاؤں پٹختا باڈی بلڈر جیسا لمبا تڑنگا میکسیکن نا جاننے کے خوف سے ادھ موا عین ...

مزید پڑھیے

ال زائمر

لفظ بھول جاتا ہوں بات کہہ نہیں پاتا موتیوں سے پانی پر عکس تو بناتا ہوں کچھ میں یاد رکھتا ہوں کچھ میں بھول جاتا ہوں روشنی کو تکتا ہوں تھوڑی دیر چلتا ہوں دل میں بات جو بھی ہے تم سے کہہ نہیں پاتا لفظ بھول جاتا ہوں پھر یہ سوچ آتی ہے دل کی بات کرنے کو لفظ کیوں ضروری ہیں جو بھی تم کو ...

مزید پڑھیے

ایک ساکت منظر

اسٹیشن پر جب مجھے چھوڑ کے وہ چل دیا میں دیکھتی رہی اسے جاتے ہوئے اچانک اس نے دیکھا مڑ کر میں اب تک واپس نہیں گئی تھی دور سے اس نے ہلایا ہاتھ میں نے ایک ایسے انداز سے اسے دیکھا کہ وہ میری طرف دوڑ کر واپس آنے لگا مجھے لگتا ہے میں شہر کے اسی اسٹیشن پہ کھڑی ہوں اور وہ کئی صدیوں سے میری ...

مزید پڑھیے

جنون

فضائیں تھک چکی ہیں جسم ڈھوتی گاڑیوں کی سسکیاں اور سائرن کے بین سن سن کے در و دیوار کے نتھنے جھلسنے لگ گئے بارود کی بو سے بدن کے چیتھڑے چن چن کے اب بیزار ہیں گلیاں وہ ملبہ آگ کا چاٹا ہوا ملبہ اکٹھا کرتے کرتے خاک داں تنگ آ چکے ہیں مگر انسان اکتاتا نہیں ہے

مزید پڑھیے

بوسہ

جھیل کنارہ حبس میں ڈوبی بوجھل بھاری شام تین طرف جنگل کی خوشبو چوتھی کھونٹ طلسم سات درا اک شہر کہ جس میں صدیوں بوڑھے بھید پہلے در کا بھید ہوا الہام ابھی اس پل میں ہاتھوں سے تن ڈھکتی مورت میں آدم کا جایا تو بھی کچھ تو بول ترا کیا نام ابھی اس پل میں

مزید پڑھیے
صفحہ 210 سے 960