سن باتھ
تمہارے ہاتھ کی خوشبو مرے الجھے ہوئے بالوں سے لپٹی ہے تمہارے لمس کا ہر ذائقہ محفوظ ہے اب تک مری پوروں کے ہونٹوں پر بدن پر گھاس کے پتوں نے رستہ روک رکھا تھا پسینے کی لکیروں کا مری بھیگی ہتھیلی کے تلے خواہش بدن میں کپکپاتی تھی تو جیسے جھیل کے ساحل پہ ٹھہری کشتیاں اٹھکھیلیاں کرتے ...