شاعری

سن باتھ

تمہارے ہاتھ کی خوشبو مرے الجھے ہوئے بالوں سے لپٹی ہے تمہارے لمس کا ہر ذائقہ محفوظ ہے اب تک مری پوروں کے ہونٹوں پر بدن پر گھاس کے پتوں نے رستہ روک رکھا تھا پسینے کی لکیروں کا مری بھیگی ہتھیلی کے تلے خواہش بدن میں کپکپاتی تھی تو جیسے جھیل کے ساحل پہ ٹھہری کشتیاں اٹھکھیلیاں کرتے ...

مزید پڑھیے

محبت روایت نہیں ہے

محبت وہ پامال رستہ نہیں ہے کے آتے ہوئے موڑ کی ہر خبر کرم خوردہ کتابوں کے بوسیدہ صفحوں کی دھندلی لکیروں میں چھپ چھپ کے عریاں ہوئی ہو محبت کی تصویر کس نے بنائی محبت کے سفر کا سفر نامہ کس نے لکھا ہے اگر کوئی اک گمشدہ سی صدی میں ادھر سے گزر بھی گیا تھا تو اس کو خبر کیا کوئی بیتا موسم ...

مزید پڑھیے

دیوتا

میں جانتا ہوں تمہیں مری آرزو نہیں ہے طلب مری آنکھ میں مچل کے ہی اتنی ارزاں ہوئی ہے ورنہ میں اپنے دامن میں ذات کی کرچیاں سمیٹے کھنکتی مسکان بھیک لینے تمہارے رستے میں روز اپنا سوال آنکھوں میں لے کے بیٹھوں یہ خو مری تو نہیں تھی جاناں میں جانتا ہوں تم اس قدر دیوتا تو ہو ہی کہ دل کے ...

مزید پڑھیے

ابلاغ: بغیر لفظوں کے ایک نظم

ایک بے چہرہ خواب ایک بے نام خوشبو میں لپٹا ہوا ایک خوشبو کہ جس نے کوئی رنگ پہنا نہ ہو ایک خاموش لے ایک لے میرے کانوں میں رس گھولتی اپنی عریانیوں میں لپیٹا ہوا ایک سر ایک سر جس کی بنتر میں آواز کی گانٹھ آئی نہ ہو جس کے شفاف تن پر کسی لفظ کا کوئی گہنا نہ ہو لفظ سے ماورا ایک نغمہ کسی نے ...

مزید پڑھیے

حویلی

وقت کی ریت کے کچھ آخری ذرے ہیں مری مٹھی میں تن پہ ہر بیتے ہوئے پل کے لیے اک سلوٹ ذہن کے گوشوں میں یادوں کی نمی اور دیواروں پہ دیمک زدہ لمحوں کو لئے چوکھٹوں میں کئی دھندلے چہرے صحن ماضی میں کئی گمشدہ نسلوں کی وراثت کا امیں ایستادہ کوئی بوڑھا برگد فرش پر وقت کے پڑتے ہوئے پیلے ...

مزید پڑھیے

خواہش

ماہ و سال سے تھوڑا ہٹ کے دشت اور در سے دور ہجر وصال کی زد سے باہر رات اور دن کے پار کبھی فرصت سے مل یار تن کی مٹی جھاڑ دے من مندر کی کھڑکی کھول آوازوں کے جنگل میں کبھی چپ کی بولی بول میری آنکھ کے درپن میں دیکھ اپنا روپ سروپ میرے عشق کے گہنے سے کبھی اپنا آپ سنوار کبھی فرصت سے مل ...

مزید پڑھیے

پورا دن اور آدھا میں

وحید احمد کے سحر میں لکھی گئی اک نظم آنکھ کھلی تو سلوٹ سلوٹ بستر سے خود کو چن چن کے کپڑوں کی گٹھڑی میں باندھا پیروں کی بیساکھی لی اور باہر نکلے دفتر کے دروازے پر اک کاغذ کالا کرنے کے سکے لینے کو دفتر پہنچے علم کی ردی آدھی بیچی آدھی بانٹ کے لوگوں پر احسان دھرا اور اپنا آپ اٹھا کر ...

مزید پڑھیے

سوال

سڑکوں پہ سناٹا ہے اور جن عمروں میں مائیں بیٹوں کے سگریٹ سے سلگے کپڑوں کی جیبوں میں کوئی مہکتا خط دیکھیں تو ہنس کر واپس رکھ دیتی تھیں ان عمروں میں اب ماؤں کو جسموں میں بارود کی بو اور لاشوں میں سکے کے چھید رلا دیتے ہیں دل پر زخم اٹھانے والی عمر میں لڑکے کمرے کی دیوار کے ...

مزید پڑھیے

محبت

محبت کیفیت ہے وصال اور ہجر سے لفظوں کے دامن میں یہ پوری آ نہیں سکتی میں کہتا ہوں وصال اور ہونٹ بھی اک دوسرے سے مس نہیں ہوتے میں کتنا ہجر لکھوں لفظ تو جوڑے ہی جاتے ہیں جو تجھ میں اور مجھ میں ہے وہ دوری آ نہیں سکتی

مزید پڑھیے

گوادر چھاؤنی

اگر کہیں ان کے بس میں ہو تو وطن کی مٹی کے چپے چپے پہ چھاؤنی ہو اگر کہیں ان کے بس میں ہو تو بدن کی مٹی کے چپے چپے پہ چھاؤنی ہو جو لوگ اب تک مسائل ہست و بود ہی سے نمٹ رہے تھے اب ان میں اک فصل نیست کٹتی ہو اور نابود اگ رہا ہو اگر کہیں ان کے بس میں ہو تو زمین سے بارود اگ رہا ہو اگر کہیں ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 211 سے 960