شاعری

ہمیشہ تشنگی کو زیب تن رکھا

تمہیں ہم نے بتایا تھا تمنا کے سبک قدموں سے رستے طے نہیں ہوتے مگر تم کو ہماری بات پر ایمان ہی کب تھا ہمیں تھے جو تمہاری ان کہی باتوں کا بھی ادراک رکھتے تھے یہ ہم تھے جو تمہارے لفظ کی حرمت کو دل کی رحل میں رکھ کر دعائے نیم شب کے ساتھ پڑھتے تھے مگر شاید ہماری سب مناجاتیں تمہارے دل کی ...

مزید پڑھیے

مرے عزیزو

حیات سکھ ہے کہ موت کچھ فاصلے پہ رستے کو کاٹنے کے لیے کھڑی ہے یہ موت سکھ ہے کہ اختصار حیات ہی وجہ دل کشی ہے جہان زیر و زبر کے جھگڑوں سے ماورا ہو کے دیکھ لینا تمام سکھ ہے یہ خواہشوں کا حصیر کچھ دیر کو لپیٹو فریب سود و زیاں سے کچھ دیر خود کو تفریق کر کے سوچو جہاں کی ساری اکائیوں کو شمار ...

مزید پڑھیے

مجھے آواز مت دینا

نہایت صاف گوئی سے مجھے اس نے بتایا ہے مجھے آواز مت دینا کبھی پر نور صبحوں میں کبھی رنگین شاموں میں کبھی خوابیدہ خوابوں میں مجھے آواز مت دینا کہ صوت و حرف کے جتنے تعلق تم سے قائم تھے وہ سب نا معتبر ٹھہرے محبت کی جنوں خیزی تو بس اک عارضی شے تھی قبائے شوق کے سب رنگ کچے تھے سو میں نے اب ...

مزید پڑھیے

پھر اس کے بعد کا عرصہ

پھر اس کے بعد کا عرصہ سنا اب تک یہی ہے جب زمیں چکی کے پاٹوں کی طرح گھومے مدار ذات کی اطراف میں جب رقص کرتی گھوم کر اپنی جگہ پہنچے تو دن تکمیل پاتا ہے مگر میں ایسی کیفیت میں زندہ ہوں جہاں تکمیلیت کی ساری تعریفیں زمانی گردشوں کے سب تصور خام رہتے ہیں جہاں شب کی سیاہی اور دن کی رو ...

مزید پڑھیے

اظہار محبت اک پہاڑی راستہ ہے

اسے بس ایک ہی ضد ہے میں اس کی ذات سے منسوب اپنے خیالوں کا کوئی پیکر تراشوں اور اس کے سامنے رکھ دوں اسے بتلاؤں میں اس سے مجھے کتنی محبت ہے اسے کیسے بتاؤں میں زمیں سے آسماں تک اس محیط بیکراں کو اپنی مٹھی میں جکڑنا میرے بس میں ہی نہیں ہے مرے سر پر چمکتے مہرباں سورج کی کرنوں کا کوئی ...

مزید پڑھیے

رستے روٹھ جاتے ہیں

اگر پامال راہوں پر قدم رکھنے کی عادت ختم ہو جائے مشام جاں میں خوشبو کی بجائے درد در آئے وصال آمادہ شہ راہوں پہ فرقت کا بسیرا ہو اک ایسا وقت آ جائے جو تیرا ہو نہ میرا ہو محبت کی سنہری جھیل پر غم کی گھنیری رات چھائی ہو کناروں پر فقط نم دیدہ تنہائی کی کائی ہو چمکتے پانیوں پر ...

مزید پڑھیے

مجھے معجز بیاں کر دو

مری اطراف میں بکھرے ہوئے روشن جبیں لفظو مجھے ڈھونڈو عجب آشوب ہے میرے قلم میں روشنائی سوکھتی جاتی ہے اور سوچیں نئی اشکال میں ڈھلنے سے قاصر ہیں جو سوچوں لکھ نہیں پاتا جو لکھوں وہ کلیشے ہے مروج استعاروں اور تشبیہوں کی اترن سے مری نظموں کے پیراہن نہیں بنتے تعفن سے بھرے پیرایۂ اظہار ...

مزید پڑھیے

محمد کا آخری خطبہ

مرے عزیزو زمان حاضر کے منتخب بے مثال لوگو مری طریقت پہ چلنے والو مری معیت میں جس گزر گاہ پر چلے ہو بہت کٹھن تھی قدم قدم پر نئے حوادث تمہارے سچ کا خراج لینے تمہاری رہ میں کھڑے ہوئے تھے زوال آمادہ لوگ تم سے عروج کی اس گھڑی میں آ آ کے پوچھتے تھے کہ جلتے سورج تلے عقیدے کی چھاؤں کب تک ...

مزید پڑھیے

توجیہہ

بھلا قطع تعلق کی کوئی توجیہہ کیسے ہو تعلق ٹوٹنے کی نہج پر آ کر ہمیشہ ٹوٹ جاتا ہے لب بام تمنا ہاتھ اکثر چھوٹ جاتا ہے کبھی کچھ موڑ سیدھے راستوں کو موڑ دیتے ہیں کبھی لمبی مسافت کی تھکن شوق سفر کو ماند کرتی ہے کبھی یکسانیت کا خوف جذبوں کی لگامیں کھینچ لیتا ہے کبھی اک راہرو جلدی میں ...

مزید پڑھیے

مناجات

خداوندا! تری اقلیم میں رہتے ہوئے اک عمر گزری ہے مگر اب تک طریق بندگی مجھ کو نہیں آیا مرے جذبوں نے اب تک جذب کے معنی نہیں سیکھے ابھی تک خواہشوں کے پاس دل کو رہن رکھا ہے ابھی تک نیم شب کی ساعتوں کی برکتیں مجھ پر نہیں اتریں مری آنکھوں میں تیری روشنی کے خد و خال اب تک نہیں ابھرے مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 204 سے 960