شاعری

اے رخ یار ادھر دیکھ ذرا

ہم کہ واماندگی شوق کا لمحہ لے کر آ گئے ہیں ترے پیکر کے اجالوں کے قریب کتنی صدیوں کی مسافت لے کر ایک درماندہ تہی دست مسافر کی طرح آ کے ٹھہرے ہیں ترے پیار کے برگد نیچے ہم کہ مسحور طلسمات کدے ہیں تیرے تیری آنکھوں تیرے ہونٹوں تیری زلفوں کے اسیر تیری تمنا کے فقیر منتظر ہیں کہ ترے جسم ...

مزید پڑھیے

ارون دھتی رائے کے لئے

تم نے سوچا مدھم لفظوں کی دستک سے در کھلتے ہیں روشن اور آباد زبانوں کی جانب تم نے سوچا تہذیبوں کے جرم بتانے سے انسان برا ہوتا ہے تم نے سمجھا سچ کہہ دینا کافی ہے ہر جھوٹ کے آگے لیکن سچ کہہ دینے سے بھی کیا بدلے گا وقت زمانہ تہذیبیں لے آئیں گی اک جھوٹ نیا اور سچ کو پرانا فیشن جان کے لوگ ...

مزید پڑھیے

چے گویرا

اپنے قد سے بڑے بھی تو ہو سکتے ہیں لوگ وہ جن کا ہے کردار بلند ان کے افکار سے بھی لوگ جو اپنی سچائی میں سچ سے زیادہ ممکن ہیں لوگ جو اپنے ہونے سے بھی بڑھ کر اپنے وجود کی نیک گواہی دینے والے ہیں

مزید پڑھیے

قیدی

ہم سب اپنے اپنے عقیدوں کے قیدی ہیں جو کچھ ہم نے سمجھا اس کو بوجھ لیا ہے جو کچھ ہم نے دیکھا اس کو جان لیا ہے جو کچھ ہم نے چاہا اس کو مان لیا ہے ہم کب سوچ بھی سکتے ہیں دیوار سے آگے چھید کیے سینوں میں ہم نے اپنے عقیدوں کے خنجر سے ہم نے دلوں میں زہر بھرا ہے ہم نے فصیلوں کی دھاروں سے خود ...

مزید پڑھیے

میری نظمیں

ہم جو نا معلوم ازل اور لامتناہی ابد کے بیچ میں ہوتے ہیں ہم جو گزرنے والے ہیں ہم کو باقی رہ جانے کی فکر بھی کیوں لاحق رہتی ہے لوگ بھلا دیں گے اس ڈر سے میری بھی کچھ نظمیں ہیں قرطاس پہ جو تحریر ہوئیں لیکن یہ بھی جانتی ہوں میں میری قبر کے کتبے پر بھی شاید میرا نام نہ ہوگا

مزید پڑھیے

پر اسرار

جانے کتنے دکھ ہیں ان چہروں کے پیچھے جن کو سکھ بانٹتے میں نے دیکھا ہے جانے کتنی خوشیوں کے ہیں رنگ ان بولتی آنکھوں میں جو ہر لمحہ خاموش رہیں جانے کیسی گدلاہٹ ہے ان روحوں میں جن کی اجلی گہرائی میں ایک زمانہ ڈوب گیا

مزید پڑھیے

حصار تیرگی

خواہشوں کے لمس میں ڈوبی ہوئی دائروں میں گھومتی تنہائیاں احتباس و جبر کی تاریک شب مضطرب رنجور گندم گوں سحر ایسا لگتا ہے اندھیرا کہہ رہا ہو زیر لب اے کبود و کور چشم اے لعین تجھ کو بخشی تھی کرن از راہ دل سوزی مگر تو سمجھتا ہے کہ یہ جود و سخا لطف و عطف تیرا استحقاق ہے اور تو خدائے ...

مزید پڑھیے

بھٹکا مسافر

میں جب چھوٹا تھا اپنی ماں سے اکثر ضد یہ کرتا تھا سناؤ دوپہر میں تم مجھے کوئی کہانی کوئی ایسی کہانی جس میں شہزادی ہو تم جیسی کوئی ایسی کہانی سیمیا گر جس میں شہزادہ ہو مجھ جیسا وہ کہتی بے خبر معلوم بھی ہے سناتا ہے اگر دوپہر میں کوئی کہانی تو بے چارے مسافر گھر کا رستہ بھول جاتے ...

مزید پڑھیے

لب تنور

میں اکثر رات کی تنہائی سے یہ پوچھتا ہوں کہ میرا آج میرے کل سے کیوں کر مختلف ہے وہی میں ہوں وہی دیوانگی ہے وہی وحشت وہی فکر معیشت یہ بے چینی یہ ویرانی مجھے کیوں کھائے جاتی ہے مگر جذبوں سے عاری درد سے غافل یہ تنہائی سدا خاموش رہتی ہے مجھے لگتا ہے تنہائی فقط بہری نہیں گونگی بھی ہے ...

مزید پڑھیے

بغداد

حسن جس شہر میں تو گیلی مٹی سے کبھی کوزے بناتا تھا تجھے اس شہر میں مٹی نہیں اب سر ملیں گے ہزاروں خستہ تن لاشوں سے رستا خون تیرے شہر کی مٹی کو یوں سیراب کرتا ہے کہ اب جو تو کبھی مٹی سے کھیلے گا تو ہر کوزہ صراحی جام و مینا لہو کے رنگ کے ہوں گے تری نقش و نگاری اور ترے ہاتھوں کی صناعی نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 205 سے 960