شاعری

طبیب اعظم

جو زخم میں نے تجھے دیے ہیں جو زخم تو نے مرے خیالوں کے ان گداز اعضا پہ دیے ہیں وہ اب فضا میں بکھر گئے ہیں ہمارے جسموں کی قید سے وہ نکل گئے ہیں بکھر گئے ہیں ہر ایک شے میں ہوا میں پیڑوں میں بادلوں میں وہ کوہ و دریا کی چپیوں اور شور و غل میں اتر گئے ہیں جدھر بھی دیکھوں وہ زخم چپکے ...

مزید پڑھیے

گنگا

اے بہار گنگ اے بھارت نواز تیری ہستی پر ہے اک عالم کو ناز تیرے آئینے میں ہے عکس فلک قطرے قطرے میں مسرت کی جھلک تیرے سینے میں ہیں گوہر ہائے راز راگ پانی کا ہے کتنا دل گداز راگ کے پردے میں ہے شان حجاب تیری موجوں سے جھلکتا ہے شباب تیرتے ہیں پھول یوں ساحل کے پاس تازہ داغ دل ہوں گویا دل ...

مزید پڑھیے

بیوہ اور برسات

چھائی ہوئی ہے تیرگی اس پہ یہ منہ کی ہے جھڑی رات کٹے گی کس طرح حشر نما ہے ہر گھڑی دیکھتی ہے سوئے فلک ہائے ترس ترس کے آنکھ اور مجھے ڈبوئے گی آج برس برس کے آنکھ گریہ بے اثر مرا اپنا اثر دکھائے کیا دل کی لگی بجھائے کیا دل کی لگی بجھائے کیا آج یہ ابر کی گرج خوب رلائے گی مجھے لوں گی ہزار ...

مزید پڑھیے

شاعر

ساری دنیا سو رہی ہے اور تو بیدار ہے دور ہے راحت سے اور لذت کش آزار ہے لے رہا ہے ذرے ذرے سے تو عبرت کا سبق یعنی ہر ہر گام پر ہوتا ہے سینہ تیرا شق تیری نظریں دیکھتی ہیں انتہا آغاز میں محو ہو جاتا ہے جب تو انکشاف راز میں ظاہری رنج و الم سے دل ترا بیگانہ ہے انکشاف راز یزدانی کا تو ...

مزید پڑھیے

دل

اے دل بیتاب تجھ میں ہے صفت سیماب کی تیرے قطروں میں ہیں کچھ بوندیں شراب ناب کی تیرے آئینہ سے پیدا ہے محبت کا طلسم تیری نیرنگی میں پوشیدہ ہے حیرت کا طلسم ساغر رنگیں میں ہے کثرت نمائی کی جھلک تیری موجوں نے دکھائی ہے خدائی کی جھلک نقش الفت سے نمایاں اک نیا انداز ہے تو حریم عشق ہے یا ...

مزید پڑھیے

گنگا اشنان

اے بہار گنگ اے سرمایۂ پاکیزگی تیری ہستی تشنہ کاموں کے لئے مے خانہ ہے درس آموز فنا ہے قطرہ قطرہ آب کا یا حبابوں کی زباں پر نعرۂ مستانہ ہے تیرے پہلو میں ہے اک دوشیزۂ حسن و جمال جس کی تصویر جوانی اک سراپا نور ہے موج اک اٹکھیلیوں سے چھیڑ کرتی ہے وہ آنکھ جو ازل سے کیف آگیں ہے نشے میں ...

مزید پڑھیے

غریب کسان

اے نیچر کے راج دلارے اے فطرت کی آنکھ کے تارے محنت کا پھل پانے والے کاندھے پر ہل لے جانے والے صدیاں پلٹیں دنیا بدلے یا ملکوں کا نقشہ بدلے کچھ سے کچھ ہوں رنگ فضا کے چرخ سے برسیں آگ کے شعلے دھیمی ہو یا تند ہوا ہو عالم ہر وادی کا نیا ہو چرخ ہزاروں پلٹے کھائے کیا ممکن جو تجھ کو ...

مزید پڑھیے

آنسو

اے مرے آنسو کبھی بیکار ہو جاتا ہے تو اور کبھی دامن پہ بن جاتا ہے اک نقش وفا تیری قیمت کچھ نہیں رہتی ہے نظروں میں کبھی اور کبھی ہو جاتا ہے گنج ہائے بے بہا پرورش پاتا ہے تو قلب حزیں میں اس طرح جس طرح چشم صدف میں گوہر سرمایہ دار تیرے سینے میں ہیں پنہاں راز ہائے رنج و غم تو ہے پچھلی کیف ...

مزید پڑھیے

نظم

چپ رہوں گا تو زباں یوں بھی رہے گی بے کار اور بولوں تو زباں کاٹ ہی لی جائے گی کیوں نہ کچھ بول ہی لوں میں کہ پس قتل زباں یہ تو افسوس نہ ہوگا کہ زباں رہتے ہوئے مجھ کو اظہار خیالات کی جرأت نہ ہوئی مجھ سے اس ظلم و ستم کی بھی شکایت نہ ہوئی

مزید پڑھیے

بے یقینی کا پھیلتا دھواں

میں دفتر کی کرسی پہ بیٹھا ہوا گالیاں بک رہا ہوں موسم کی حدت کو حدت میں شدت کو حدت کی شدت میں پکتے ہوئے آم کو جو کہ میرا نہیں ہے ٹیبل پہ رکھے ہوئے کام کو جو ابھی تک پڑا ہے ہوا کو ہوا میں منافق سروں کی آمیزش کو کار محبت کو کار محبت میں تپتے ہوئے حسن کو بھی جسے دیکھ کر قیس کی آنکھ جفتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 201 سے 960