شاعری

دنیا

اب یاد نہیں سینے میں کہیں اک سورج تھا سو ڈوب گیا اب اپنا دل ہے کھوٹ بھرا دنیا کو بدلنے اٹھے تھے دنیا نے بدل ڈالا کہ نہیں

مزید پڑھیے

توجیہہ

تو کیا دیکھتا ہوں فضا نور ہی نور تھی پہاڑ اپنے اندر سے پھوٹے ہوئے درد سے جل رہا تھا پڑوسی سمندر سنہرا ہوا تھا بشارت ملی تھی ننوں، کاہنوں کے برہنہ ہجوم داہنے ہاتھ میں اپنے غم اور بائیں میں اپنے سوال اور رانوں میں گھوڑوں کی پیٹھیں پہن کر نکل آئے تھے روشنی کی طرف خامشی سے بڑھے جا ...

مزید پڑھیے

پام کے پیڑ سے گفتگو

مجھے سبز حیرت سے کیوں دیکھتے ہو وہی تتلیاں جمع کرنے کی ہابی ادھر کھینچ لائی مگر تتلیاں اتنی زیرک ہیں ہجرت کے ٹوٹے پروں پر ہوا کے دوشالے میں لپٹی مرے خوف سے اجنبی جنگلوں میں کہیں جا چھپیں۔۔۔ اور تھک ہار کر واپسی میں سرکتے ہوئے ایک پتھر سے بچتے ہوئے اس طرف میں نے دیکھا تو ایسا ...

مزید پڑھیے

زندہ پانی سچا

پل کے نیچے جھانک کے دیکھو آج ندی طوفانی ہے بپھری لہریں جھاگ اڑاتی ہیں کیا زندہ پانی ہے اور بھنور پل کے بے رنگ ستونوں سے ٹکراتے ہیں جن پر بوجھ ہے اس پل کا وہ شانے ٹوٹے جاتے ہیں وہ اک کبڑا پیڑ ندی پر یوں جھک آیا ہے جیسے ایک کنارہ ہاتھ بڑھا کر دوسرے سے ملنا چاہے دور اک میڈک چیخ رہا ہے، ...

مزید پڑھیے

خالی بورے میں زخمی بلا

جان محمد خان سفر آسان نہیں دھان کے اس خالی بورے میں جان الجھتی ہے پٹ سن کی مضبوط سلاخیں دل میں گڑی ہیں اور آنکھوں کے زرد کٹوروں میں چاند کے سکے چھن چھن گرتے ہیں اور بدن میں رات پھیلتی جاتی ہے۔۔۔ آج تمہاری ننگی پیٹھ پر آگ جلائے کون انگارے دہکائے کون جد و جہد کے خونیں پھول کھلائے ...

مزید پڑھیے

مردہ خانہ

مری رگوں میں خنک سوئیاں پروتا ہوا برہنہ لاشوں کے انبار پر سے ہوتا ہوا ہوا کا ہاتھ بہت سرد، موت جیسا سرد وہ جا رہا ہے، وہ دروازے سر پٹکنے لگے وہ بلب ٹوٹ گیا، سائے ساتھ چھوڑ گئے وہ ناچتے ہوئے بھیجے کسی رقیق سے تر وہ رینگتے ہوئے بازو، وہ چیختے ہوئے سر وہ ہونٹ نیم تراشیدہ، دانت نکلے ...

مزید پڑھیے

صدمہ

وہ سولہ بہاروں کے بعد دوبارہ ملا ہے تو کیا ہے کہ مختار کو دیکھ کر میری آنکھوں میں حیرت کے آثار پیدا ہوئے میرا دل بجھ گیا ہے وہ عیار یاروں کا یار اپنا لہجہ اسی طرح سے نرم ریز اور نظر تیز رکھے مگر اس سے کس نے کہا تھا کہ خوشبو، شراب اور عورت سے پرہیز رکھے۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیے

میں اور میں!

میں ہوں میں وہ جس کی آنکھوں میں جیتے جاگتے درد ہیں درد کہ جن کی ہمراہی میں دل روشن ہے دل جس سے میں نے اک دن اک عہد کیا تھا عہد کہ دونوں ایک ہی آگ میں جلتے رہیں گے آگ کہ جس میں جل کر جسم ہوا خاکستر جسم کہ جس کے کچے زخم بہت دکھتے تھے زخم کہ جن کا مرہم وقت کے پاس نہیں ہے وقت کہ جس کی زد ...

مزید پڑھیے

محاصرہ

خواب کی بالکنی بالکنی پر یہ سرکتی ہوئی پرچھائیں مری۔۔۔ سامنے بالکنی کے نیچے برف میں لتھڑا ہوا روشنی روتا ہوا بلب ابھی زندہ ہے ایک احساس زیاں باقی ہے رات کے زینۂ پیچاں سے اترنے لگی تنہائی مری اس کے کتبے پہ تباہی کا یہ تازہ بوسہ صرف بوسے کا نشاں باقی ہے نیم جاں دائرۂ نوحہ گراں ...

مزید پڑھیے

سرخ گلاب اور بدر منیر

اے دل پہلے بھی تنہا تھے، اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے، جو داغ کہ بدر منیر ہوئے اس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے کوئی ابر اڑے کسی قلزم سے رس برسے مرے ویرانے پر کوئی جاگتا ہو کوئی کڑھتا ہو مرے دیر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 200 سے 960