شاعری

مجبوری میں ڈوبی نظم

اپنے اپنے غموں نے ہمیں کیسا شاکی کیا ہے مجھے اپنے سیبوں کو کل شام سے پہلے ہر حال میں بیچنا ہے کوئی آئے گا انساں نما سائیکل پہ گھسٹتا ہوا جس کی قسمت کی ریکھاؤں میں مستقل تیرگی ہے وہ میرا نشانہ مرے پیٹ نے جب اصول و ضوابط کا جامہ اتارا قواعد کو پھر اپنے دل کی گلی سے نکالا مجھے کیا جو ...

مزید پڑھیے

آوارگی ہواؤں کی

ابھی نہیں ابھی موسم نہیں بہاروں کا ابھی تو برف بھی پگھلی نہیں ہے ہونٹوں کی ابھی تو رنگ بھی بدلا نہیں ہے زخموں کا ابھی تو دشت سے لوٹے نہیں ہیں سودائی گھروں کے دیپ ابھی روشنی نہیں دیں گے ابھی چراغ جلانے کی رت نہیں آئی ابھی نہیں ابھی موسم نہیں بہاروں کا ابھی تو دیکھیے آوارگی ہواؤں ...

مزید پڑھیے

چاند میری زمین پھول میرا وطن

چاند میری زمیں پھول میرا وطن میرے کھیتوں کی مٹی میں لعل یمن میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے میرے دہقاں پسینوں کے ڈھالے ہوئے میرے مزدور اس دور کے کوہ کن چاند میری زمیں پھول میرا وطن میرے فوجی جواں جرأتوں کے نشاں میرے اہل قلم عظمتوں کی زباں میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن چاند میری زمیں ...

مزید پڑھیے

سنسر شپ

چھپائیں گے کس طرح اہل چمن سے وہ روداد غم ساکنان قفس کی یہاں رسم نامہ بری گلستاں کی ہواؤں کو سونپی گئی ہے گل و برگ ہیں رازداں داستان ستم کے

مزید پڑھیے

یہی پیشانی کہ جس پر کوئی سلوٹ بھی نہیں (ردیف .. ے)

یہی پیشانی کہ جس پر کوئی سلوٹ بھی نہیں یہی رفتار کہ جس میں کوئی آہٹ بھی نہیں ہاں یہی ہات جو اب تک مرے ہاتوں میں نہیں یہی انگشت کہ حیرت سے جو دانتوں میں نہیں یہی بے داغ سا چہرہ ہے جو تخیل میں تھا جیسے اک سادہ ورق بھی کوئی انجیل میں تھا یہی ملبوس جو اس تن پہ کہاں ٹھہرا ہے آئینے پر ...

مزید پڑھیے

کالی بارش

تارکول سا سیاہ آسمان اپنی پتھرائی آنکھوں اور موم جیسی پتلیوں سے گریۂ شب کرتا رہا واہ کیا جھرنا تھا کیا آبشار تھا کیا جل ترنگ تھا کہ آدم نے زمین پر سجدۂ شکر ادا کیا اور اپنے کفن تک کو بے داغ بارش کی طرح سفید و شفاف رکھا آج بارش کالی ہو گئی تو کیا میں اپنے کفن کے رنگ کو کالا کر ...

مزید پڑھیے

مجبوری

چلو اچھا ہوا تم نے مرا خط نذر آتش کر دیا اور مری تصویر واپس بھیج دی مجھ کو اسے بھی خاک کر دیتیں تو قصہ پاک ہو جاتا اب اس تصویر کو میں بھیج دوں گا اس رسالے میں جو ماہانہ تمہارے گھر میں آتا ہے

مزید پڑھیے

ایک سوال

تمام عمر جو اپنے لئے نہ مانگ سکی وہ سب دعائیں تمہارے لئے ہی مانگی ہیں ہر اک دعا میں تمہارا ہی نام لب پہ رہا ہر ایک حرف محبت تمہارے نام رہا گئی رتوں کے حسیں خواب ساتھ ساتھ چلے ڈگر ڈگر پہ تمہارا ہی نام لکھتے چلے جو لوح سادہ پر اک بار تیرا نام لکھا غبار گرد زمانہ اسے مٹا نہ سکا یہ ...

مزید پڑھیے

اسے کہنا

خزاں کے زرد پتوں کا کوئی سایہ نہیں ہوتا بہت بے مول ہو کر جب زمیں پر آن گرتے ہیں تو یخ بستہ ہوائیں بھی انہی کو زخم دیتی ہیں اسے کہنا کہ مجھ کو بھول کر بے مول نہ کرنا

مزید پڑھیے

تمہارے ہجر کے موتی

تمہارے ہجر کے موتی ابھی پلکوں پہ رکھے ہیں عجب اک خوف سے ہر دم کھلی رکھتی ہوں میں آنکھیں گرے تو ٹوٹ بکھریں گے تمہارے ہجر کے موتی ابھی پلکوں پہ رکھے ہیں یہاں گنجان رستوں پر یہاں پر پیچ گلیوں میں جدائی رقص کرتی ہے چلے آؤ تو اچھا ہے کہ اب تو تھک چکیں آنکھیں تمہارے ہجر کے موتی ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 202 سے 960