شاعری

وقت

وقت اپنے ساتھ سب خواہشیں سمیٹ کر چلا گیا جنگلوں کی دھوپ میں راستے بکھر گئے تم کدھر چلے گئے میں کہاں پہ آ گیا ہر طرف تھی روشنی پر دکھائی کیا دیا وقت اپنے ساتھ سب خواہشیں سمیٹ کر چلا گیا

مزید پڑھیے

مجھے آواز مت دینا

مجھے ایسی زمینوں سے کبھی آواز مت دینا جہاں پر خواب سارے ٹوٹ جاتے ہیں جہاں کے لوگ ہاتھوں کی لکیروں سے سیاہی دھو نہیں سکتے جہاں کے آسمانوں میں کہیں سورج نہیں ہوتا کوئی رستہ نہیں ملتا گھنے تاریک جنگل سے نکلنے کا مجھے ایسی زمینوں سے کبھی آواز مت دینا ہوا ہو یا کہ پانی ہو صدا ہو یا کہ ...

مزید پڑھیے

ماں کا رتبہ

چھوٹا سا اک بچہ ہوں میں باتیں بھی چھوٹی ہیں میری کرنا چاہوں ایک وضاحت بتلاؤں میں ایک حقیقت مسجد مندر ماں ہوتی ہے پیار سمندر ماں ہوتی ہے اک سرمایہ ماں ہوتی ہے ٹھنڈی چھایا ماں ہوتی ہے خود دکھ سہہ کر سکھ دیتی ہے حق کہتی ہے سچ کہتی ہے ڈھال کی صورت وہ رہتی ہے سب کچھ خود ہی وہ سہتی ...

مزید پڑھیے

موسم

سال میں آتے موسم چار پت جھڑ گرمی سردی بہار گرمی کا ہے اپنا رنگ کر دیتی ہے سب کو تنگ گرمی جوبن پر جب آئے آ کر یہ فصلوں کو پکائے گرمی آئے آم بھی لائے یہ ہم سب کے دل کو بھائے خربوزے تربوز بھی آئیں سب مل بیٹھیں کاٹیں کھائیں سردی کا اک اپنا مزہ ہے کوٹ سوئیٹر پہن لیا ہے کینو مالٹوں کی ...

مزید پڑھیے

دل کا موسم

بارشیں بادل گھٹائیں سنسناتی یہ ہوائیں یہ پھواریں یہ مہک مٹی کے سوندھے جسم کی کتنا پیارا ہے یہ سب کچھ پڑھ رہی ہوں اس دریچے سے میں موسم کی خبر ہاں مگر یہ تو تم بھی جانتے ہو دل کا موسم اور ہے

مزید پڑھیے

ننھی بوند

اس دفعہ کے موسم برسات میں ایک ٹھنڈی گھپ اندھیری رات میں ایک ننھی بوند آنکھیں میچتی ہچکچاتی آہ ٹھنڈی کھینچتی چھوڑ کر بادل کی گودی جوں چلی خود سے وہ یہ گفتگو کرنے لگی یہ اندھیری رات اور لمبا سفر دیکھیے ہوتا ہے کیا میرا حشر عین ممکن ہے گروں میں پھول پر یہ بھی امکاں ہے گروں میں دھول ...

مزید پڑھیے

ممبئی کی ایک رات

چکا چوندھ حیرت زدہ روشنیوں کے اس شہر میں چند تاریک لمحوں کی خاطر بھٹکتا رہا ہوں کھلے بازوؤں ابھرے سینوں کھلی پنڈلیوں نیم عریاں لباسوں میں جکڑے ہوئے جسم کی خوشبوؤں سے میں گھبرا اٹھا ہوں چیختے پتھروں سنسناتی ہواؤں سمندر کی لہروں سے بھی ڈر گیا ہوں اک اونچی عمارت کے اک تنگ کمرے سے ...

مزید پڑھیے

عجیب لوگ

عجیب لوگ ہیں صحرا میں شہر میں گھر میں سلگتی ریت پہ ٹھٹھرے ہوئے سمندر میں خلا میں چاند کی بنجر زمیں کے سینے پر جو صبح و شام کی بے ربط راہ میں چپ چاپ تعلقات کی تعمیر کرتے رہتے ہیں ہوا کے دوش پہ طوفان زلزلہ سیلاب دیا سلائی کی تیلی پہ ٹینک ایٹم بم کوئی جلوس کوئی پوسٹر کوئی تقریر امڈتی ...

مزید پڑھیے

کرفیو

آج شب باہر نہ نکلو چل رہی ہیں ہر طرف خونی ہوائیں نفرتوں کے چھا گئے ہیں ابر ہر سو وحشتوں کا ہے اندھیرا کھڑکیوں کو بند کر دو ان پہ احساسات کے پردے چڑھا دو میز سے اخلاق کے کاغذ ہٹا دو پھاڑ دو انسانیت کی سب کتابیں علم کی شمعیں بجھا دو بند کر لو انگلیوں سے کان اپنے شاہراہیں چیختی ہیں ہر ...

مزید پڑھیے

کہیں کچھ نہیں ہوتا

کہیں کچھ نہیں ہوتا نہ آسمان ٹوٹتا ہے نہ زمیں بکھرتی ہے ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی ہے ماہ و سال شب و روز برف کی طرح جم گئے ہیں اب کہیں اجنبی قدموں کی چاپ سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا نہ کہیں کسی جادوئی چراغ سے کوئی پریوں کا محل تعمیر ہوتا ہے نہ کہیں بارش ہوتی ہے نہ شہر جلتا ہے کہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 162 سے 960