شاعری

وقفہ

سرد راتوں کی گرمی جھلستے دنوں کی ہوا لے گئی ریگزاروں پہ بارود کی بو سے جھلسے ہوئے خشک پتے بکھرنے لگے چیختے آگ اگلتے گرجتے ہوئے زہر آلود لہجے اچانک بدلنے لگے پیلی آنکھوں سے تاریک چشمے اترنے لگے سارے اخبار کی سرخیاں گھٹ گئیں سہمی سہمی زمیں اپنی آغوش میں ٹوٹے پھوٹے گھروندے چھپائے ...

مزید پڑھیے

مستقبل کا ایک دن

زمین اک دن فلک کے سینے میں کوئی خنجر اتار دے گی خلائیں چیخیں گی ٹوٹ کر جب گریں گے دھرتی پہ چاند تارے ادھر مسرت کا جشن ہوگا زمیں کے باسی بھریں گے اپنی ہوس کے دامن

مزید پڑھیے

عجیب بات

عجیب بات ہوئی رات ایک لمحے میں ہزاروں صدیوں نے برسوں کا روپ دھار لیا ہر ایک سال مہینوں میں ہو گیا تبدیل ہر ایک ماہ دنوں میں دنوں سے گھنٹوں میں ہر ایک گھنٹے بھی لمحات میں بدلنے لگے عجیب بات ہوئی پھر کہ ایک لمحہ بھی ہزاروں ٹکڑوں میں بکھرا پھر ایک ٹکڑا جب میرے وجود سے ٹکرا کے پاش پاش ...

مزید پڑھیے

ایک لمحہ

لمحہ دل کے بہت پاس سے گزرا ہوا صرف ایک لمحہ بہا لے گیا ہے جانے کتنے خوابوں خواہشوں اور منصوبوں کو بچا ہے ہڈیوں تک دھنسا ہوا سناٹا رکتی ہوئی سانسیں ڈوبتی ہوئی نبض اور سرد ہوا جسم پھر کوئی تیز ہوا کا جھونکا ڈھیر ساری گڈمڈ آوازیں چیخ ہنسی اور مسکراہٹ گھر دفتر بیوی بچے اور آئندہ بیس ...

مزید پڑھیے

ایک لمحے کا خوف

شب و روز کے مشغلوں سے پرے کوئی ایسا بھی لمحہ ہے جس کے تصور میں کتنے شب و روز بے چین گزرے دھڑکتی ہوئی نبض ڈوبی آتی جاتی ہوئی سانس راہوں میں رکنے لگی اندھیروں کے طوفان میں ایک کشتی بھی ساحل سے اوجھل ہوئی کوئی جگمگاتا ستارہ فلک کی بلندی سے گر کر کہیں کھو گیا سرد سارا بدن ہو گیا اور ...

مزید پڑھیے

کانٹا

کیا عجب ہے کہ کبھی دل کے سیہ خانے میں مسکرا اٹھے کوئی شوخ کرن یہ بلا خانۂ تاریک منور ہو جائے توڑ دے اپنی خموشی جو ضمیر غم کے تہہ خانوں کے اسرار کھلیں پھر نہ احساس چبھوئے نشتر پھر نہ رہ رہ کے جھنجھوڑے یہ ضمیر اور سینے پہ کوئی بوجھ بھی باقی نہ رہے ذہن سے فکر کا انبار ہٹے اک کڑے درد کا ...

مزید پڑھیے

خواہش

بہت دنوں سے پھول کی یہ خواہش تھی کہ اڑ پائے لطف رہے گا جب وہ اپنی خوشی سے آئے جائے اسی پھول نے آخر اک دن دیا شاخ کو دھوکا تیلی بن ہی گیا وہ جب پھر اس کو کس نے روکا ہر دن بیٹھ کے سوچا کرتا دیپک کا اجیالا میں پرواز جو کرتا تو خوشیاں ہو جاتیں دوبالا اسی سوچ میں آخر اک دن پنکھ اس نے بھی ...

مزید پڑھیے

زمیں تھم گئی ہے

بدن میں نہ پہلی سی حدت نہ دھڑکن ہے دل میں جئے جانے کی ایک بے شرم عادت ادھر کچھ دنوں سے نگاہوں میں اپنی سبک کر رہی ہے ہزاروں بکھیڑوں میں بھی جانے کب بے ستر آ کھڑی ہوتی ہے یہ حقیقت تو کیا میں بھی ان ان گنت لوگوں میں ہوں جنہیں زندگی اک سزا ہے کوئی بد دعا ہے مگر جی رہے ہیں ابھی کچھ دھواں ...

مزید پڑھیے

مرد---عورت

کب کہاں سے چلی تھی پتہ نہیں جنت نے ٹھکرایا کہ آدم نے پکارا چاروں اور گھنا جنگل ہر شاخ ہاتھ بڑھاتے ہی خود میں سمٹ جاتی تھی جانے کب بے ستر ہوئی کس نے شرم گاہ کی لاج رکھی پاؤں کے نیچے ان گنت راہیں بے حساب نشیب و فراز دونوں طرف سوال و جواب کی اٹوٹ خواہشیں الزامات کے تبادلے کی ...

مزید پڑھیے

گلشن نا آفریدہ

بدن کے جھروکے میں جتنی نگاہیں لگی ہیں مری ہیں کوئی اور کب سوچتا ہے کہ غم خانۂ میرؔ کے اس طرف ایک ہنستا مہکتا باغیچہ بھی ہے کتنی ان چھوئی کلیاں جواں تتلیاں رس بھری جھومتی ڈالیاں سوندھی مٹی کی ہم جنس خوشبو لبالب سی اک باؤلی جانے کیا کچھ مگر وہ جھروکہ کہ جس کا مرے دل سے اک واسطہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 163 سے 960