شاعری

گریز پا

دھیرے دھیرے گر رہی تھیں نخل شب سے چاندنی کی پتیاں بہتے بہتے ابر کا ٹکڑا کہیں سے آ گیا تھا درمیاں ملتے ملتے رہ گئی تھیں مخملیں سبزہ پہ دو پرچھائیاں جس طرح سپنے کے جھولے سے کوئی اندھے کنویں میں جا گرے ناگہاں کجلا گئے تھے شرمگیں آنکھوں کے نورانی دیے جس طرح شور جرس سے کوئی واماندہ ...

مزید پڑھیے

یاد

رات اک لڑکھڑاتے جھونکے سے ناگہاں سنگ سرخ کی سل پر آئنہ گر کے پاش پاش ہوا اور ننھی نکیلی کرچوں کی ایک بوچھاڑ دل کو چیر گئی

مزید پڑھیے

اندمال

شام کی سیڑھیاں کتنی کرنوں کا مقتل بنیں باد مسموم نے توڑ کر کتنے پتے سپرد خزاں کر دیے بہہ کے مشکیزۂ ابر سے کتنی بوندیں زمیں کی غذا بن گئیں غیرممکن تھا ان کا شمار تھک گئیں گننے والے ہر اک ہاتھ کی انگلیاں ان گنت کہہ کے آگے بڑھا وقت کا کارواں ان گنت تھے مرے زخم دل ٹوٹی کرنوں، بکھرتے ...

مزید پڑھیے

تیرے سوا

سوچتا ہوں کہ ترے پیار کے بدلے مجھ کو کیا ملا درد و غم و رنج و مصیبت کے سوا اک تڑپ ایک کسک ایک خلش ہے پیہم ایک لمحہ بھی سکوں کا نہ مرے پاس رہا اور تو اجنبی آغوش کی زینت بن کر اک چمکتی ہوئی فردوس میں جا بیٹھی ہے رقص کرتے ہیں نئے خواب نگاہوں میں تری دل سے ماضی کے سبھی نقش مٹا بیٹھی ...

مزید پڑھیے

اعتراف

جل بجھے آنکھوں میں خوابوں کے مہکتے پیکر اب کہیں کوئی شرارہ ہے نہ شعلہ نہ دھواں کھو گئے وقت کی پتھریلی گزر گاہوں پر چند بے نام تمناؤں کے قدموں کے نشاں ایک پرچھائیں ہوں جس میں نہ کوئی رنگ نہ روپ صرف احساس ہو تم جس کا کوئی نام نہیں میں بھی پابستہ ہوں حالات کی زنجیروں میں تم پہ بھی ...

مزید پڑھیے

آس

شب کے آوارہ گرد شہزادے جا چھپے اپنی خواب گاہوں میں پڑ گئے ہیں گلابی ڈورے سے رات کی شبنمی نگاہوں میں سیم تن اپسراؤں کے جھرمٹ محو پرواز ہیں فضاؤں میں رات رانی کی دل نشیں خوشبو گھل گئی منچلی ہواؤں میں جھیل کی بے قرار جل پریاں آ کے ساحل کو چوم جاتی ہیں دم بہ دم میری ڈوبتی نظریں تیری ...

مزید پڑھیے

بازار

اس قدر شوخ نگاہوں سے نہ دیکھو مجھ کو غیرت حسن پہ الزام نہ آ جائے کہیں تم نے خود بھی نہیں سمجھا ہے ابھی تک جس کو لب پہ وہ خواہش بے نام نہ آ جائے کہیں یہ جو معصوم تمنا ہے تمہارے دل میں کتنی سنگین خطا ہے یہ تمہیں کیا معلوم اور دنیا میں محبت کے خطا کاروں پر کس قدر ظلم ہوا ہے یہ تمہیں ...

مزید پڑھیے

علامت

سفر زندگی کی علامت ہے لیکن سبھی راستے کھوٹے سکوں کی طرح مری جیب میں جانے کب سے پڑے ہیں ہواؤں میں پیلا دھواں بھر گیا ہے کئی سال پہلے میں ان سے ملا تھا وہ جن کی راہوں میں تھی روشنی انہوں نے کہا تھا سفر زندگی کی علامت ہے چلتے رہو مگر آج میں اس جگہ آ گیا ہوں جہاں کچھ نہیں ہے ہواؤں میں ...

مزید پڑھیے

نام

ہزاروں برس پہلے کی بات ہے کہ جب میں کسی چیز کو کسی نام سے بھی نہیں جانتا تھا تو پھر میں ہر اک چیز کو نام دینے لگا مگر آج جب میں نے خود کو پکارا تو حیران ہوں کہ میں اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ہوں مرا نام کیا ہے میں کون ہوں

مزید پڑھیے

یہ وقت ہے زوال کا

بستیاں اجڑ گئیں خاک و خوں سے بھر گئیں مکین کیا مکان کیا زمین و آسمان کیا سورجوں کی آگ میں صدائیں سب جھلس گئیں روشنی کے شہر میں تیرگی اتر گئی زندگی بکھر گئی یہ وقت ہے زوال کا یہ وقت ہے زوال کا

مزید پڑھیے
صفحہ 161 سے 960