شاعری

ایک نظم

آنکھیں اندھے کنویں کی مانند دور اندھیرے رستوں پر پانی کو کھرچ رہی ہیں گہری دھند کی چادر اوڑھے کون ابھاگن پھوٹ پھوٹ کے رو بھی نہ پائی صبر کی روٹی چپ کا سالن سب ذائقوں سے کڑوا زہر گلے کے اندر کند چھری کی مانند اٹکے کیا بولے سارے لفظ اپنے لہو کی گردش سے بے پروا لب پر اتریں معانی کے ...

مزید پڑھیے

پیاس

جی میں ہے کہ جل تھل برسوں پر یہ آنسو کس کس نام سے روؤں گی اک آنسو پر نام ہے اس کا جس کے ہاتھ سوالی ہیں اک آنسو ہے اس کے نام جو سردی میں کہر زدہ ان سڑکوں پر بھوکوں مرتا ہے یہ لمبی کالی کاروں میں کون سی دنیا بیٹھتی ہے کیا نام ہے ان کا کون ہیں وہ کیا بیچتے ہیں اور سرخ گلابی ہونٹوں پر یہ ...

مزید پڑھیے

اپنی پہچان

دانشوری ساری عقلوں کا اشتہار ایک طرف اور جذبوں کا بازار ایک طرف لوگوں کو پہچاننے ان کو جاننے کے لئے کیا اب اکادمی قائم ہوگی ہم سب کو اچھا کہنے والے لوگ ہماری اپنی پہچان جانے کس کے حوالے سے ہوگی ہماری زرد چہروں سے اور حیران آنکھوں سے کہ تماشا ہماری آنکھوں کے سامنے صدمے کی طرح ہو ...

مزید پڑھیے

تیرے نینوں کی خیر

میں جب پلکوں کے دروازوں پہ اتروں تو روشنیوں سے جھولی بھر لوں یہ سارے انوکھے دکھ بھرے دن میرے حافظے کی تختی سے مٹ مٹ جائیں گے اک پاگل امنگ بھرا دن ہوگا جب تو اندھیروں کی بستی سے نور کے رستے پر چلتا ہوا شہر میں اپنی آمد کا اعلان کرے گا تب سارے پرندے اپنے گھونسلوں سے باہر آ کر تمہیں ...

مزید پڑھیے

میرے بھی کچھ خواب

میرے بھی کچھ خواب ہیں جن کو میں جذبوں کا خون دے کر پال رہی ہوں کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے اجلے دنوں اور چاندنی چمکتی راتوں کی آس مجھے پروا کی طرح کہاں کہاں نہیں لئے پھرتی میرے خواب شیشے کی طرح خوب صورت اور نازک انہیں مت چھوؤ کہ ہاتھ لگنے سے میلے نہ ہو جائیں بس تم دور سے اس کی خوشبو ...

مزید پڑھیے

دائرے

اونچے مکانوں کی دیواروں پر ہری بھری پھولوں کی بیل سرمئی بادلوں کے گھونگھٹ سے میری چھوٹی کھڑکی کی طرف دیکھتی ہے پرسیوایڈرس ٹی وی پر فلم چل رہی ہے میں کس کے تعاقب میں اپنی طرف بھاگ رہی ہوں میں کولہو کا بیل ہوں روز ایک دائرہ اپنے ارد گرد کھینچتی ہوں اور اس دائرے کے آگے ایک اور دائرہ ...

مزید پڑھیے

دو آر ڈائی

گئے زمانوں کی گردشوں کو میں آنکھ کی پتلیوں میں رکھوں میں کب تلک ہونے اور نہ ہونے کے درمیاں کی اذیتوں کی خراش اپنے بدن پہ دیکھوں میں کس لئے بام پر سجاؤں کنواری شرمیلی دھڑکنیں اب میں کیسے اپنے لبوں کی خوشبو کا بار لے کر صنوبروں کا سماں بناؤں میں کس لئے رادھا بن کے ناچوں تو شام مرلی ...

مزید پڑھیے

ملن

میں ہواؤں کے سنگ آج بادلوں کی جھانجھریں پہن کر زمین پر اتری ہوں وصال کے لمحوں کا کوئی انت نہیں میرے چاروں طرف قطرے گھنگروؤں کی طرح چھن چھن ناچ رہے ہیں اور میں تتلیوں کی طرح رنگوں سے کھیلتی تمہارے گلے سے آ لگی ہوں انتظار کے دن اور رات میرے حافظے سے نکل گئے ہیں کہ میں نے کتنی راتوں ...

مزید پڑھیے

جاگتے رہنا

رات کو پہرے دار کی دستک اک آواز ہے جاگتے رہنا صبح کو روٹی اور عزت کی خاطر بھاگتے رہنا کس یگ ملے امان کوئی جان نہ پایا جاگتے رہنا بھاگتے رہنا

مزید پڑھیے

پیاسی روح

پیاسی روح کو بولتے کس نے سنا ہے ٹیلی ویژن کے پردے پر جو تصویریں سنتے ہو وہ بھی نظر کا دھوکا ہے میں تو اپنی بند آنکھوں کے اندر پورا ٹی وی اسٹیشن چلتے پھرتے دیکھتی ہوں پھر دیکھنا اور کچھ کہنا دونوں باتیں ایک نہیں ہیں ویسے بھی تو ہم کو دیکھنے والے اپنے اپنے لینس سے دیکھ کے اپنے تئیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 152 سے 960