شاعری

دھنک

پھر آج میرے تصور میں موتیا جاگا پھر آج سبز پری اتری چھمچھماتی ہوئی پھر آج ڈالیاں پھولوں کی رقص کرنے لگیں پھر آج خوشبوؤں سے بام و در مہکنے لگے پھر آج پھیل گیا روح و دل میں سیل جمال اثر نہ درد کا باقی رہا نہ غم کا خیال پھر اٹھا چڑیوں کا ایک جھنڈ چہچہاتا ہوا ہوا ہرے بھرے کھیتوں سے ...

مزید پڑھیے

سنو

اطراف میں اپنے جو پھیلی روشنی محسوس کرتی ہوں تو لگتا ہے کہ جیسے تم کہیں پر ہو یہیں پر ہو یہ میرا خواب مت سمجھو کہو تو سچ کہوں میں واقعی لگتا ہے جیسے تم کہیں پر ہو یہیں پر ہو کسی چوکھٹ پہ چڑھتی اک لچکتی شاخ پر پھولوں کے جھرمٹ میں نہاں پھولوں سے بڑھ کر ہو بڑھا کر ہاتھ کوئی جس کو چھو ...

مزید پڑھیے

بہار کا قرض

دہکتی آگ میں پگھل کے قطرہ قطرہ گر رہی ہیں چوڑیاں یہ جشن آتشیں ہے کیا بہار کا کہ جس کی درد ناک چیخ سے لرز رہا ہے آسماں تمام رنگ و بو کے سلسلے یہ کھیت پھول ڈالیاں جھلس جھلس کے سب ہوئے برہنہ اور بے زباں افق پہ درد سے لکھے حروف کب سے ہیں لہو میں یوں ہی تر بہ تر یہ حادثات نو بہ نو کبھی نہ ...

مزید پڑھیے

زرد چمیلی

یہ کس کے قدموں کی چاپ آئی۔۔۔ کون آیا یہ بام و در اب جو خستہ جاں ہیں یہ چونک اٹھے اور یاس و حسرت سے شکل ہم سب کی تک رہے ہیں دراڑ اپنے جگر کی لے کر کرب کی شدت کو سہہ کر نیلے سے پڑ گئے ہیں۔۔۔ کسی کے ہاتھوں کے لمس کو ترس رہے ہیں نمی کو آنکھوں میں ڈبڈبائے صحن کے رستے عبور کر کے اسی ستوں کے ...

مزید پڑھیے

خواہش

نہیں آج سگریٹ نہیں آؤ اس موڑ تک ہو کے آئیں وہیں سامنے پل کے اس پار رستوں کے جنگل سے پیچھے وہیں چل کے اک جاوداں قہقہہ تم لگانا چلو یہ بھی اچھا رہا میں کہوں اور پھر تم سے واپس پلٹنے کا اصرار کرنے لگوں سو تم مسکرانے کی زندہ اداکاری کرتے ہوئے لوٹ آنا لوٹ آنا

مزید پڑھیے

سراب ذات

میں وہ نہیں ہوں میں ہوں جو شاید میں اپنے ہونے سے کچھ الگ ہوں حیات کی کچھ علامتوں میں نگار جاں کی قباحتوں میں فریب جیسی صداقتوں میں تمام اندھی بصارتوں میں میں خود کو آواز دے رہا ہوں نہ جانے کب سے یہیں کھڑا ہوں مگر میں ہوں کب یہ میرے ہونے کا ایک دھوکہ مجھے بھی حیران کر رہا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کاش

جو تم ساتھ ہوتے تو میں تم کو رستے کا وہ پہلا پل اور وہ نالہ دکھاتا جہاں پر ہوا اپنے پر کھولتی ہے جہاں دھوپ ہر روز کچھ دیر رک جواں سال کرنوں کے در کھولتی ہے جو تم ساتھ ہوتے

مزید پڑھیے

تسلی

بہت دیر سے ایک چڑیا میری چھت کی کڑیوں میں بیٹھی ہوئی اپنے بچوں کو دنیا کے آداب سکھلا رہی ہے کہ بہلا رہی ہے سو نہ جا میرے ننھے یوں بھوکے نہ سو ابھی جبکہ بارش رکے گی میں اڑ کر بہت دور سے دانہ لاؤں گی دانہ بہت ڈھیر سا خوب کھائیں گے مل کر ابھی بس ذرا دیر میں دور اونچے گگن میں مگر کالے ...

مزید پڑھیے

فنا

میں ڈبے کا آخری بسکٹ اس موجود جہاں سے نکل کر اس عالم کی سمت رواں ہوں میرے ساتھی جہاں پہنچ کر میرا رستہ دیکھ رہے ہیں

مزید پڑھیے

ساتھی

ساتھی آ جس کی سونی شام ان زندہ شاموں کے نام جن میں تیری سرگوشی نغمہ بن کے ابھری تھی سایہ بن کے بکھر گئی

مزید پڑھیے
صفحہ 105 سے 960