دھنک
پھر آج میرے تصور میں موتیا جاگا پھر آج سبز پری اتری چھمچھماتی ہوئی پھر آج ڈالیاں پھولوں کی رقص کرنے لگیں پھر آج خوشبوؤں سے بام و در مہکنے لگے پھر آج پھیل گیا روح و دل میں سیل جمال اثر نہ درد کا باقی رہا نہ غم کا خیال پھر اٹھا چڑیوں کا ایک جھنڈ چہچہاتا ہوا ہوا ہرے بھرے کھیتوں سے ...