شاعروں کا جبر
چائے کی بھاپ میں گھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپن کوئی مصرع دھوئیں کے بگولوں میں کمپوز ہوتا ہوا کوئی نکتہ جو اسرار کے گھپ اندھیرے سے شعلہ صفت سر اٹھائے عجب دھیما دھیما نشہ اختلافات کا اپنے نچلے سروں میں کوئی فکر مربوط کرتا ہوا زاویہ طنز کے ناوک خوش سلیقہ کی سن ...