شاعری

شاعروں کا جبر

چائے کی بھاپ میں گھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپن کوئی مصرع دھوئیں کے بگولوں میں کمپوز ہوتا ہوا کوئی نکتہ جو اسرار کے گھپ اندھیرے سے شعلہ صفت سر اٹھائے عجب دھیما دھیما نشہ اختلافات کا اپنے نچلے سروں میں کوئی فکر مربوط کرتا ہوا زاویہ طنز کے ناوک خوش سلیقہ کی سن ...

مزید پڑھیے

دیو مالائیں سچی ہوتی ہیں

گھڑی دو گھڑی کی مسرت یہ صدیوں پہ پھیلا ہوا دیو قصہ ہمارے لہو میں رواں ہے کسی گھونسلے میں سے انڈے چراتا ہوا سورما ایک چیتے سے گر سیکھتا کوئی بچہ کماں کھینچتا اور مادہ کو ناوک سے نیچے گراتا ہوا آگ دریافت کرتا ہوا کوئی لڑکا عجب صورتیں ہیں شب داستاں گوئی صدیوں پہ پھیلی ہوئی ہے ہوا ...

مزید پڑھیے

کہیں سے تم مجھے آواز دیتی ہو

غبار شام کے بے عکس منظر میں ہوا کی سائیں سائیں پنچھیوں کو ہانکتی ہے دور چرواہے کی بنسی میں ملن رس کا سریلا ذائقہ ہے، رات رستے میں کہاں سے تم مجھے آواز دیتی ہو! مسلسل آہٹیں میری سماعت ہی نہ لے جائیں بچا رکھے ہوئے آنسو کی بینائی ٹپکتی ہے انہیں لفظوں کی لو میں رات کٹتی ہے جنہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی سالگرہ پر

گئے برسوں اک حاصل کیا! فقط اک موم بتی تین سو پینسٹھ دنوں میں کیک کے زینے پہ چڑھتی ہے ذرا سی پھونک پر ہم راہیوں کے ساتھ بجھتی ہے دھواں چکرا کے روشن دان سے باہر نکلتا ہے چھری کی دھار سے کتنے برس کاٹوں! ہوا کا آشنا چہرہ مری آنکھوں میں رہتا ہے گئے لمحوں کو دہراتی ہوا طرز محبت ہے وہ آئے ...

مزید پڑھیے

ساربان

کھجوروں سے مہکی ہوئی شام تھی شتر پر مال و اسباب تھا اور میں اک سرائے کے در پر کھڑا رات کرنے کو اک بوریے کا طلب گار تھا ٹمٹماتی ہوئی شمع کی لو میں ابن تمامہ کا سایہ (جو ماحول گھیرے ہوئے تھا) اسے دیکھ کر یوں لگا جیسے وہ روشنی پھانکتا ہو قوی الجسامت حریص آنکھ سے لحظہ لحظہ ٹپکتی کمینی ...

مزید پڑھیے

کہاں آ گئی ہو

چند سال اس طرف ہم شناسا نگاہوں سے بچتے بچاتے یہیں پر ملے تھے تمہیں یاد ہے کائنات ایک ٹیبل کے چاروں طرف گھومتی تھی ہمیں دیکھ کر کتنے بوڑھوں کی آنکھیں کسی یاد رفتہ میں نم ہو رہی تھی مگر میں نے آنکھوں میں اپنے لیے اور تمہارے لیے مچھلیوں کی طرح تیرتے آنسوؤں میں تمنائیں دیکھیں مجھے ...

مزید پڑھیے

ایک بزرگ شاعر پرندے کا تجربہ

عزیزو! اگر رات رستے میں آئے اگر دانہ و دام کا سحر جاگے اگر اڑتے اڑتے کسی روز تم آشیاں بھول جاؤ تو پچھلی کہانی میں موجود جگنو سے دھوکا نہ کھانا کہانی، نہیں دیکھتی غم کے نم کو کہانی نہیں جانتی کیف و کم کو کہانی کو وہم و گماں کی کٹھن راہ سے کون روکے کہانی کا پیرایہ خواہش کا قیدی ...

مزید پڑھیے

بہت خوبصورت ہو تم

بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم کبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سے تو مجھ کو خدا را غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوں سجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے ...

مزید پڑھیے

سنو

اطراف میں اپنے جو پھیلی روشنی محسوس کرتی ہوں تو لگتا ہے کہ جیسے تم کہیں پر ہو یہیں پر ہو یہ میرا خواب مت سمجھو کہو تو سچ کہوں میں واقعی لگتا ہے جیسے تم کہیں پر ہو یہیں پر ہو کسی چوکھٹ پہ چڑھتی اک لچکتی شاخ پر پھولوں کے جھرمٹ میں نہاں پھولوں سے بڑھ کر ہو بڑھا کر ہاتھ کوئی جس کو چھو ...

مزید پڑھیے

اے ہم راز

یہ اجلی سی زمیں نظروں کی حد سے اور آگے تک شجر پھیلے چلے جاتے ہیں اپنی حد سے آگے تک مرے کمرے کی سب چنگاریاں شاخوں پہ چمکی ہیں مرے بالوں پہ بکھری ہیں مرے آنچل سے سمٹی ہیں سحر کی پھوٹتی کرنیں تڑپ آئی دریچے سے لپٹ کر کھیلتی ہیں میرے گھر کے فرش مخمل سے تعیش کے ہر اک سامان پر اک نور بکھرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 104 سے 960