شاعری

جو لوگ چھوڑ کے نقش قدم گئے ہوں گے

جو لوگ چھوڑ کے نقش قدم گئے ہوں گے کہوں میں کیسے کہ سوئے عدم گئے ہوں گے طلسم خانۂ محویت خیال نہ پوچھ نہ آئے ہوں گے یہاں وہ نہ ہم گئے ہوں گے جو ظلم ڈھایا ہے انساں نے آج انساں پر فرشتے بھی اسے سن کر سہم گئے ہوں گے حرم ہی کیا ترے دیوانے جستجو میں تری بتوں کے در پہ خدا کی قسم گئے ہوں ...

مزید پڑھیے

گھڑی دو گھڑی کے لئے کبھی جو تم آئے بھی وہی شان سے (ردیف .. و)

گھڑی دو گھڑی کے لئے کبھی جو تم آئے بھی وہی شان سے ہمیں شکوہ ہے تو اسی کا ہے کبھی حوصلے سے ملا کرو ابھی آسماں کی جو ہے نظر تو اسی کا زعم ہے ہر طرف یہ تو وقت وقت کی بات ہے مرے حال پر نہ ہنسا کرو کبھی لالہ زار تھا یہ چمن جو کہ اب خزاں میں بدل گیا کہیں باغباں کا پتا نہیں چلو بڑھ کے اس کا ...

مزید پڑھیے

اب ان کے پاس بھی باقی بچا کیا

اب ان کے پاس بھی باقی بچا کیا میں مانگوں قاتلوں سے خوں بہا کیا تمہیں پچھتاوے کا ہے روگ کافی تمہیں دے کر کروں میں بد دعا کیا مجھے یوں کر کے موجوں کے حوالے سکوں سے سو سکے گا ناخدا کیا نگہ کا اٹھنا تھا رازوں کا کھلنا مری آنکھوں میں تو نے لکھ دیا کیا میرے بالوں سے کلیاں نوچ لیں ...

مزید پڑھیے

ہوا کچھ یوں کہ پچھتائے بہت ہیں

ہوا کچھ یوں کہ پچھتائے بہت ہیں تمہیں سوچا شرمائے بہت ہیں جسے پھولوں کے تحفے ہم نے بھیجے اسی نے سنگ برسائے بہت ہیں جو سچ پوچھو تو اب کے یوں ہوا ہے تیرے غم سے بھی اکتائے بہت ہیں چبھے پاؤں میں کانٹے یاد آیا کہ ہم نے پیل ٹھکرائے بہت ہیں اور اب تو غم چھپانا آ گیا ہے کہ آنسو پی کے ...

مزید پڑھیے

رنگ نکھرتے پھول بکھرتے جائیں گے

رنگ نکھرتے پھول بکھرتے جائیں گے جانے والے اک دن لوٹ کے آئیں گے جھوٹی سچی باتیں ان کی مت سننا پیار کے دشمن لوگ تمہیں بہکائیں گے تیرے بعد جدائیاں کیسے کاٹی ہیں اک اک لمحہ اک اک پل دہرائیں گے ہوش خرد اور عقل و خرد کے معنی اب دیوانے فرزانوں کو سمجھائیں گے امڈ رہی ہے یادوں کی ...

مزید پڑھیے

بظاہر تو پرایا بھی نہیں ہے

بظاہر تو پرایا بھی نہیں ہے وہ اپنا ہو کے بھی اپنا نہیں ہے مرے لب سے ہنسی چھینی تھی جس نے سنا ہے وہ بھی اب ہنستا نہیں ہے مری آوارگی پہ راستوں نے مجھے پوچھا کوئی تیرا نہیں ہے زمانہ منتظر ہے اس لہو کا جو میری آنکھ سے ٹپکا نہیں ہے مجھے تو خوف اپنے آپ سے ہے کسی سے ڈر مجھے لگتا نہیں ...

مزید پڑھیے

رحمت بن کے اتری تھی کیوں زحمت بن گئی بیٹی

رحمت بن کے اتری تھی کیوں زحمت بن گئی بیٹی میرا جرم گنہ بتلا دو پوچھتی رہ گئی بیٹی بڑھتی ہوئی تکرار جہیز کی اور غربت کا بوجھ اپنے آپ کو آگ لگا کے پھر اک مر گئی بیٹی باغی نا فرمان بنی اور کبھی کلنک کا ٹیکہ حق کی خاطر جب بھی کسی اصول پہ اڑ گئی بیٹی یہ لڑکی کمزور سی لڑکی مریم بھی ہے ...

مزید پڑھیے

تم نے سیکھا ہے اگر صرف حکومت کرنا

تم نے سیکھا ہے اگر صرف حکومت کرنا یاد رکھنا ہمیں آتا ہے بغاوت کرنا دونوں میدانوں میں اپنا نہیں ثانی کوئی ہم سے تم سوچ کے نفرت یا محبت کرنا خود سکھائے تھے جسے ہم نے یہ الفت آداب اب یہ لازم ہے کھلے اس پہ عداوت کرنا خود بخود لوگ بٹھائیں گے تمہیں پلکوں پر پہلے خود سیکھ تو لو اوروں ...

مزید پڑھیے

گلستاں ویران دیکھا

گلستاں ویران دیکھا دشت پر امکان دیکھا جب بھی جھانکا شہر دل میں یہ نگر سنسان دیکھا اس کو پا کر یوں لگا ہے اک کھرا انسان دیکھا کھنکھناہٹ کی دھنوں پر ناچتا ایمان دیکھا پھونک کر تحریر اس کی پہروں آتش دان دیکھا تھا وہی دل کا غنی جو بے سر و سامان دیکھا

مزید پڑھیے

کس کی آرزو تھے ہم کس نے بے اماں چھوڑا

کس کی آرزو تھے ہم کس نے بے اماں چھوڑا چھوڑو بیتی باتوں کو کس نے کیوں کہاں چھوڑا پیچھے پیچھے ہو لیتے جا کے ہم منا لیتے وہ تو یوں گیا کوئی نام نہ نشاں چھوڑا منہ چھپاتے پھرتے ہیں آپ اپنے دامن میں اس نے اس طرح چھوڑا کہ پھر کہیں کا نہ چھوڑا بات بات پر ہم کو جان چھوڑو کہتے ہو دعویٰ ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 975 سے 4657