خاک بستہ ہیں تہ خاک سے باہر نہ ہوئے
خاک بستہ ہیں تہ خاک سے باہر نہ ہوئے جسم اپنے کبھی پوشاک سے باہر نہ ہوئے جرأت بازوئے پیراک سے باہر نہ ہوئے یہ سمندر مری املاک سے باہر نہ ہوئے ذہن خفتہ نے ہمہ وقت سعی کی لیکن فکر کے زاویے ادراک سے باہر نہ ہوئے زخم دیتی ہے نیا روز مجھے بھوک مری یہ مصائب مری خوراک سے باہر نہ ...