شاعری

خود اپنی خواہشیں خاک بدن میں بونے کو

خود اپنی خواہشیں خاک بدن میں بونے کو مرا وجود ترستا ہے میرے ہونے کو یہ دیکھنا ہے کہ باری مری کب آئے گی کھڑا ہوں ساحل دریا پہ لب بھگونے کو ابھی سے کیا رکھیں آنکھوں پہ سارے دن کا حساب ابھی تو رات پڑی ہے یہ بوجھ ڈھونے کو نہ کوئی تکیۂ غم ہے نہ کوئی چادر خواب ہمیں یہ کون سا بستر ملا ...

مزید پڑھیے

حوصلوں کو کبھی ترغیب تگ و تاز تو دو

حوصلوں کو کبھی ترغیب تگ و تاز تو دو شوق منزل ہے ثبوت پر پرواز تو دو اپنی ہر سانس کی گہرائی میں پاؤ گے ہمیں تم سے میں دور نہیں ہوں مجھے آواز تو دو کوئی بھٹکا ہوا منزل کی تمنا میں ہے شب غم کیسے گزارے کوئی آواز تو دو مسکرا لینے کے لمحوں کو غنیمت جانو تم غزل چھیڑو مرے ہاتھ میں اک ساز ...

مزید پڑھیے

اونچی ہے بہت میرے خیالات کی دنیا

اونچی ہے بہت میرے خیالات کی دنیا جیسے کسی فن کار کے جذبات کی دنیا الفت ہے کسی میں نہ مروت ہے کسی میں بس دل کی تشفی ہے ملاقات کی دنیا اے کاش کہ اس دل کو جواب ایک بھی ملتا بڑھتی چلی جاتی ہے سوالات کی دنیا اخلاص و محبت یہ جہاں بھول چکا ہے دیتی ہے اشارہ ہمیں اس بات کی دنیا سچ یہ ہے ...

مزید پڑھیے

مرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے

مرے وہم و گماں سے بھی زیادہ ٹوٹ جاتا ہے یہ دل اپنی حدوں میں رہ کے اتنا ٹوٹ جاتا ہے میں روؤں تو در و دیوار مجھ پر ہنسنے لگتے ہیں ہنسوں تو میرے اندر جانے کیا کیا ٹوٹ جاتا ہے میں جس لمحے کی خواہش میں سفر کرتا ہوں صدیوں کا کہیں پاؤں تلے آ کر وہ لمحہ ٹوٹ جاتا ہے مرے خوابوں کی بستی سے ...

مزید پڑھیے

ہم نشیں تیری شکایات سے جی ڈرتا ہے

ہم نشیں تیری شکایات سے جی ڈرتا ہے تیرے اندازۂ جذبات سے جی ڈرتا ہے عہد ماضی کی کوئی بات نہ دہرا اے دوست اپنے گزرے ہوئے لمحات سے جی ڈرتا ہے اب کے پھر مجھ سے نہ ہو رنگ بہاراں مایوس اپنی بے رنگیٔ جذبات سے جی ڈرتا ہے اے فلک مجھ پہ تو احسان بہت ہیں تیرے ہاں مگر تیری روایات سے جی ڈرتا ...

مزید پڑھیے

ہم اپنی کہانی بھول گئے ہم اپنا فسانا بھول گئے

ہم اپنی کہانی بھول گئے ہم اپنا فسانا بھول گئے ایسا یہ زمانہ رنگ لایا ہم ہنسنا ہنسانا بھول گئے بلبل کا چہکنا یاد رہا پھولوں کا مہکنا یاد رہا اپنی ہی حقیقت یاد نہیں اپنا ہی ترانا بھول گئے مے خانہ کی راتیں یاد آئیں بت خانے کی باتیں یاد آئیں پہنچے جو حرم کی چوکھٹ پر سر اپنا جھکانا ...

مزید پڑھیے

تو نے غم خواہ مخواہ اس کا اٹھایا ہوا ہے

تو نے غم خواہ مخواہ اس کا اٹھایا ہوا ہے دل یہ ناداں تو کسی اور پہ آیا ہوا ہے اس زمانے کو دکھانے کے لیے چہرے پر ہم نے اک چہرۂ شاداب چڑھایا ہوا ہے رات بھر چاند ستاروں سے سجاتے ہیں اسے ہم نے جس گھر کو تصور میں بسایا ہوا ہے ایک چہرہ جسے ہم نے بھی نہیں دیکھا کبھی اپنی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

رنگ خلوص گنگ و جمن میں نہیں رہا

رنگ خلوص گنگ و جمن میں نہیں رہا کیا حسن تھا جو ارض وطن میں نہیں رہا کرتا نہیں ہے دشت تمنا میں کوئی رم اب وہ غزال شوق ختن میں نہیں رہا اشجار گل کو میں نے ہی سینچا تمام عمر خوشبو اسے ملی جو چمن میں نہیں رہا یک لخت مجھ پہ اس کے سب اسرار کھل گئے اب کوئی جن چراغ بدن میں نہیں رہا تبدیل ...

مزید پڑھیے

سفر سے آئے تو پھر اک سفر نصیب ہوا

سفر سے آئے تو پھر اک سفر نصیب ہوا کہ عمر بھر کے لیے کس کو گھر نصیب ہوا وہ ایک چہرہ جو برسوں رہا ہے آنکھوں میں کب اوس کو دیکھنا بھی آنکھ بھر نصیب ہوا تمام عمر گزاری اسی کے کاندھے پر جو ایک لمحہ ہمیں مختصر نصیب ہوا ہوا میں ہلتے ہوئے ہاتھ اور نم آنکھیں ہمیں بس اتنا ہی زاد سفر نصیب ...

مزید پڑھیے

ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے

ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے تم کرو مشق ستم خیر تمہیں کیا اس سے صبح نو اب ہے شب غم میں بدلنے والی پھر نہ مل پائیں گے ہم خیر تمہیں کیا اس سے یاد آتے ہی برس پڑتی ہیں آنکھیں اکثر کتنے رسوا ہوئے ہم خیر تمہیں کیا اس سے کاش آ جاتے کبھی پرسش غم کو میری کچھ تو رہ جاتا بھرم خیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 974 سے 4657