شاعری

وہم ہے یا اک گماں ہے زندگی

وہم ہے یا اک گماں ہے زندگی کن کا بس اک اک بیاں ہے زندگی زندگی کی شام سے پہلے تلک موج ہے بہتی رواں ہے زندگی سوز ہے جس میں نہ کوئی ساز ہے رائیگاں ہی رائیگاں ہے زندگی ڈوبتے سورج سے جا کے پوچھ لو آسماں پہ اک دھواں ہے زندگی کائناتی زندگی تفسیر ہے زندگی کی ترجماں ہے زندگی سانس لیتے ...

مزید پڑھیے

میں نے کہا کے چاند کی روشن مثال دو (ردیف .. ھ)

میں نے کہا کے چاند کی روشن مثال دو اس نے کہا کے آنکھ سے چلمن ہٹا کے دیکھ میں نے کہا کے رات کے آنچل میں کون تھا اس نے کہا کے زلف پہ شبنم گرا کے دیکھ میں نے کہا کے ہجر کی شاخوں پہ پھول کیوں اس نے کہا کے دید کی خوشبو ملا کے دیکھ میں نے کہا کے ریت کے پہلو میں کیا چھپا کہنے لگے کے دھوپ ...

مزید پڑھیے

محبت کے سبھی جذبے تمہارے نام کرتی ہوں

محبت کے سبھی جذبے تمہارے نام کرتی ہوں وفا کے دل نشیں قصے تمہارے نام کرتی ہوں بنایا ہے جنہیں میں نے محبت کے گلابوں سے تر و تازہ وہ گلدستے تمہارے نام کرتی ہوں نہیں کچھ اور پانے کی تمنا اب مرے دل میں جو دیکھے آج تک سپنے تمہارے نام کرتی ہوں تمہیں جی میں بسایا ہے تمہیں اپنا بنایا ...

مزید پڑھیے

بڑے ہی تیز چبھتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں

بڑے ہی تیز چبھتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں مجھے اکثر یہ اپنوں کے رویے مار دیتے ہیں جسے اپنا سمجھتے ہیں وہی تکلیف دیتا ہے یہ در در جا پہ ہیں کھلتے دریچے مار دیتے ہیں جسے ہم طول دیتے ہیں تکلف بر طرف ہو کر تعلق سے بندھے اکثر وہ رشتے مار دیتے ہیں بہت تکلیف دیتے ہیں وہ قصے نا شناسی ...

مزید پڑھیے

اے ارض وطن ہم تجھے تعمیر کریں گے

اے ارض وطن ہم تجھے تعمیر کریں گے ہم تیرا مقدر تری تقدیر لکھیں گے ڈالی ہے کمند ہم نے ستاروں پہ ہمیشہ ہم راہ ثریا کی بھی زنجیر کریں گے خورشید وطن کو انہی ہاتھوں سے اجالا ہم چاند ستاروں کو بھی تسخیر کریں گے اقبال کے شاہین ہیں شہباز اسی کے دیکھے ہوئے ہر خواب کی تعبیر بنیں ...

مزید پڑھیے

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا جان من کیسے بتائیں تمہیں کیا کیا دیکھا زندگی آگ ہے اور آگ کی خاطر ہم نے دیپ کی آنکھ میں جلتا ہوا چہرا دیکھا میں نے لمحوں میں گزاری ہیں ہزاروں صدیاں وقت کی دھوپ میں پگھلا ہوا دریا دیکھا صبح روشن نے اتاری ہیں ستاری آنکھیں شاخ شمشاد نے گلشن کا ...

مزید پڑھیے

ایسے خود پر یہاں خدائی کی

ایسے خود پر یہاں خدائی کی دل کی دیکھی نہ ہی سنائی کی بے قراری سی دل کو ہونے لگی جانے کس نے کہاں رسائی کی وہ ہی صد رنگ ہے جزیرہ نما میرے خوابوں کی کیوں رہائی کی تہمتیں دوسروں پہ دھرتے ہیں بات کرتے ہیں پارسائی کی میری آنکھوں کے جل پڑے تھے دئے آنسوؤں نے یوں جگ ہنسائی کی آج دامن ...

مزید پڑھیے

کھینچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے

کھینچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے دائرے ہی دائرے ہیں دائروں پر دائرے پانیوں کی کوکھ سے بھی پھوٹتا ہے دائرہ دیر تک پھر گھومتے رہتے ہیں اکثر دائرے اس کتاب زیست کے بھی آخری صفحے تلک کھینچ ڈالے قوس نے بھی زندگی پر دائرے جانے کیا کیا گھومتا ہے گرد کی آغوش میں جھانکتے ہیں آسمانوں ...

مزید پڑھیے

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا

شوق دیدار نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا جان من کیسے بتائیں تمہیں کیا کیا دیکھا زندگی آگ ہے اور آگ کی خاطر ہم نے دیپ کی آنکھ میں جلتا ہوا چہرا دیکھا میں نے لمحوں میں گزاری ہیں ہزاروں صدیاں وقت کی دھوپ میں پگھلا ہوا دریا دیکھا صبح روشن نے اتاری ہیں ستاری آنکھیں شاخ شمشاد نے گلشن کا ...

مزید پڑھیے

ہو گیا سنسان سارا شہر ہر گھر سو گیا

ہو گیا سنسان سارا شہر ہر گھر سو گیا میری آنکھیں جاگتی ہیں سارا منظر سو گیا پھر وہ شہر اجنبی تنہائیوں کی سرد رات اوڑھ کر یادوں کی وہ میلی سی چادر سو گیا رات دن کے درمیاں گزری ہے ایسے زندگی ایک منظر جاگتا تھا ایک منظر سو گیا کشتیاں ساحل پہ لہروں کو ترستی رہ گئیں اور زمیں کی گود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 959 سے 4657