شاعری

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے بڑا حسین یہ منظر دکھائی دیتا ہے غموں کی دھوپ میں جلتی ہوئی نگاہوں کو صنم وفا کا سمندر دکھائی دیتا ہے تمہارے ہاتھ کی ان بے زباں لکیروں میں ہمیں ہمارا مقدر دکھائی دیتا ہے بنا لیا ہے جو شیشے کا گھر یہاں میں نے ہر اک نگاہ میں پتھر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

میں بناتا تجھے ہم سفر زندگی

میں بناتا تجھے ہم سفر زندگی کاش آتی کبھی میرے گھر زندگی میرے خوابوں کے بھی پاؤں جلنے لگے بن کے دریا نظر میں اتر زندگی ہر گھڑی آدمی خود میں مرتا رہا اس طرح کٹ گئی بے خبر زندگی ہم فقیروں کے قابل رہی تو کہاں جا امیروں کی کوٹھی میں مر زندگی تو گزارے یا جی بھر کے جی لے اسے آج کی رات ...

مزید پڑھیے

فصیل خواب پہ سیڑھی لگانے والا ہوں

فصیل خواب پہ سیڑھی لگانے والا ہوں میں ایک راز سے پردہ اٹھانے والا ہوں تخیلات کے دانے بکھیر کر ہر سو زمین عقل پہ حیرت اگانے والا ہوں مری نظر میں یہ جیون ہے جل پری جیسا میں شوخ رنگ کے ساگر دکھانے والا ہوں گماں کی حد سے بھی آگے پڑاؤ ڈالا ہے بہت رکا تو فقط شب بتانے والا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

آنکھ ہے اک کٹورا پانی کا

آنکھ ہے اک کٹورا پانی کا اور یہ حاصل ہے زندگانی کا رائیگاں کر گیا مجھے آخر خوف ایسا تھا رائیگانی کا چل نکلتا ہے سلسلہ اکثر خوش گمانی سے بد گمانی کا درد بوتا ہوں زخم کھلتے ہیں ہے بہت شوق باغ بانی کا کیا ٹھکانہ غم و خوشی کا ہو دل علاقہ ہے لا مکانی کا جا کے دریا میں پھینک آیا ...

مزید پڑھیے

کئی سلسلوں سے جڑا ہوا یہ جو زندگی کا سفر رہا

کئی سلسلوں سے جڑا ہوا یہ جو زندگی کا سفر رہا نئی منزلوں کی تلاش میں یہ رہین راہ گزر رہا وہ جو لوگ میرے خلوص کا بڑا برملا سا جواز تھے جو نگاہ ناز کا زعم تھے میں انہی کا صرف نظر رہا میں دیار یار میں اجنبی جہاں عمر ساری گزر گئی جسے میں نے اپنا سمجھ لیا وہ نگر جہان دگر رہا کبھی ساز ...

مزید پڑھیے

سر طوفان غم اکثر سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں

سر طوفان غم اکثر سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں اداسی کے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ لیتے ہیں کبھی تو سامنے کی بات بھی ہم پر نہیں کھلتی کبھی تہداریوں میں گم اشارہ ڈھونڈ لیتے ہیں طبیعت رنگ میں آئے تو ہم چشم تصور سے کسی بے جان منظر میں نظارہ ڈھونڈھ لیتے ہیں بدل ڈالے ہیں کتنے گھر خوشی کے واسطے ...

مزید پڑھیے

جہان فکر میں مثل ہوا چلتا رہا ہوں میں

جہان فکر میں مثل ہوا چلتا رہا ہوں میں لئے گرد خرد چاروں دشا چلتا رہا ہوں میں سراغ آگہی کو میں کوئی منزل سمجھ بیٹھا سراب عقل کی جانب سدا چلتا رہا ہوں میں نورد کائنات نو ہوں لیکن اجنبی سا ہوں مشینی دور سے ہٹ کر ذرا چلتا رہا ہوں میں مجھے تعبیر کی خواہش تھی یا شاید نہیں بھی تھی علم ...

مزید پڑھیے

ہزار رنگ یہ وحشت قدم قدم پہ کھلی

ہزار رنگ یہ وحشت قدم قدم پہ کھلی کہ زندگی کی حقیقت قدم قدم پہ کھلی مرے وجود کا عقدہ کبھی بھی کھل نہ سکا مرے خیال کی وسعت قدم قدم پہ کھلی صراط جاں پہ ہمیشہ سفر طلب ہی رہے مسافتوں سے عقیدت قدم قدم پہ کھلی وفا کی راہ میں چپ چاپ چلتے رہنے سے گریز کوش محبت قدم قدم پہ کھلی دیار عشق ...

مزید پڑھیے

ہمارا آشیاں جب سے بنا ہے

ہمارا آشیاں جب سے بنا ہے نظر میں بجلیوں کی کھل رہا ہے رویہ آپ کا بدلا ہے جب سے ہماری جان اس دن سے خفا ہے وفا کرنے سے پہلے سوچ لینا زمانہ آج کل کا بے وفا ہے دوانہ آپ کا کوئی کہے تو بتاؤ اس میں میری کیا خطا ہے مرا سلمانؔ چھوٹا گھر ہے لیکن مرا رتبہ زمانہ کو پتہ ہے

مزید پڑھیے

کسی کا گھر کسی کا دل جلا ہے

کسی کا گھر کسی کا دل جلا ہے محبت میں تو یہ ہوتا رہا ہے اندھیروں نے بھی ایسا کھیل کھیلا اجالا بھی اندھیرا ہو گیا ہے وہ اپنا مانتے ہیں پھر یہ کیا ہے ہمارے بیچ یہ کیسی خلا ہے ذرا اس کی سیاست بھی تو دیکھو وفا کے نام پر کرتا جفا ہے ہرا کیسے سکے گا اس کو کوئی وہ جس کی سائباں ماں کی دوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 954 سے 4657