شاعری

وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی

وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی صبح کاذب اور کیا کرتی چمک کر رہ گئی دل شب غم کاٹ لایا دم ہوا لیکن ہوا اک کلی تھی جو سحر ہوتے مہک کر رہ گئی نا شناس روئے خوش حالی ہے طبع غم نصیب جب مسرت سامنے آئی جھجک کر رہ گئی مجھ کو جلنے دے ابھی اے موت کیوں دنیا کہے آگ کیسی تھی جو سینے میں ...

مزید پڑھیے

بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا

بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا بہت پہلو ہیں ایسے بھی کہ جن میں دل نہیں ہوتا نشان بے نشانی مٹ نہیں سکتا قیامت تک یہ نقش حق جفائے دہر سے باطل نہیں ہوتا جہاں میں ناامیدی کے سوا امید کیا معنی سبھی کہتے ہیں لیکن دل مرا قائل نہیں ہوتا تڑپنا کس کا دیکھو گے جو زندہ ہوں تو سب کچھ ...

مزید پڑھیے

سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہے

سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہے بہت کچھ تھا مگر اب کچھ نہیں ہے جہاں میں ہوں مگر کیا جانئے کیوں مجھے دنیا سے مطلب کچھ نہیں ہے یہ وقت نزع ہے کیا نذر دوں میں اب آئے ہو یہاں جب کچھ نہیں ہے اندھیرے میں وہ سوجھی یہ نہ سوجھی تری شب ہے مری شب کچھ نہیں ہے فقط تقدیر کی کایا پلٹ ہے مناسب اور ...

مزید پڑھیے

ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے

ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے جو ہجر میں تڑپائے وہی رات بڑی ہے یہ ضعف کا عالم ہے کہ تقدیر کا لکھا بستر پہ ہوں میں یا کوئی تصویر پڑی ہے بیتابیٔ دل کا ہے وہ دلچسپ تماشا جب دیکھو شب ہجر مرے در پہ کھڑی ہے دیکھا تو زمانہ گلۂ ہجر سے کم تھا سمجھا تھا کہ فرقت سے شب وصل بڑی ہے رونے ...

مزید پڑھیے

پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا

پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا غش نے خبر نہ دی مجھے کب سامنا ہوا دشمن کی دوستی کا نتیجہ برا ہوا خنجر گلے ملا تو مرا سر جدا ہوا محشر میں رنگ چہرۂ ظالم ہوا ہوا سچ ہے برا ہوا کہ مرا سامنا ہوا گلشن سے اٹھ کے میرا مکاں دل میں آ گیا اک داغ بن گیا ہے نشیمن جلا ہوا کیا تیرگی لئے ہوئے آئی ...

مزید پڑھیے

ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا

ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا دل کی گتھی شانہ ہائے زلف سلجھائیں گے کیا وصل کے وعدے سے خوش ہو کر نہ مر جائیں گے کیا نامہ بر ہنستا ہوا آتا ہے خود آئیں گے کیا قیدیٔ غم تربتوں میں اور ان کو یہ خیال کاٹنے میں اک شب فرقت کے مر جائیں گے کیا کام اپنا کر چکے اہل وفا شک ہے تو ہو سر ...

مزید پڑھیے

رو رہا تھا میں بھری برسات تھی

رو رہا تھا میں بھری برسات تھی حال کیا کھلتا اندھیری رات تھی میرے نالوں سے ہے برہم باغباں یہ خفا ہونے کی کوئی بات تھی دن نہیں دیکھا سوائے شام ہجر زندگی بھر میں یہی اک رات تھی نالہ و آہ و فغاں سے بڑھ گئی ورنہ الفت اک ذرا سی بات تھی حشر تک لایا جہاں سے درد دل کس کو دیتا کیا کوئی ...

مزید پڑھیے

میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چل

میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چل خار ہیں پیراہن گل میں سنبھل کر راہ چل دور ہے ملک عدم اور تجھ میں دم باقی نہیں ہو سکے تو بس یوں ہی کروٹ بدل کر راہ چل طالب منزل ہے پھر عزلت نشینی کس لیے رہروؤں کو دیکھ لے گھر سے نکل کر راہ چل کوئے جاناں میں زمانہ ہو گیا روتے ہوئے تا کجا دل کا ...

مزید پڑھیے

آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا

آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا در مے خانہ تھا نقشہ تری انگڑائی کا ماسوا اس کے نہیں جس کا کوئی اور شریک کون بتلائے گا عالم مری تنہائی کا پاک دامانیٔ یوسف تھی زلیخا کی سزا راستہ چاک سے پیدا ہوا رسوائی کا سختیاں ہمت دل ہو تو بدل جاتی ہیں موت اک کھیل ہے لیکن ترے شیدائی کا ہم ...

مزید پڑھیے

میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے

میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے وگر نہ موت تو دنیا میں ہے سبھی کے لئے شب فراق کی روزانہ آفتیں توبہ یہ امتحان تو ہوتا کبھی کبھی کے لئے بہت سی عمر مٹا کر جسے بنایا تھا مکاں وہ جل گیا تھوڑی سی روشنی کے لئے وسیع بزم جہاں ہے تو ہو مجھے کیا کام جگہ ملی نہ مری حسرت دلی کے لئے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 943 سے 4657