وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی
وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی صبح کاذب اور کیا کرتی چمک کر رہ گئی دل شب غم کاٹ لایا دم ہوا لیکن ہوا اک کلی تھی جو سحر ہوتے مہک کر رہ گئی نا شناس روئے خوش حالی ہے طبع غم نصیب جب مسرت سامنے آئی جھجک کر رہ گئی مجھ کو جلنے دے ابھی اے موت کیوں دنیا کہے آگ کیسی تھی جو سینے میں ...