شاعری

خود سے اپنا ہاتھ چھڑا کر چلنا مشکل ہو جاتا ہے

خود سے اپنا ہاتھ چھڑا کر چلنا مشکل ہو جاتا ہے ریت لہر کو پی جاتی ہے دریا ساحل ہو جاتا ہے بعد تمہارے یہ ہی موسم کتنا بوجھل ہو جاتا ہے ساتھ تمہارے یہ ہی موسم کتنا خوش دل ہو جاتا ہے آنکھ برابر ساتھ گھٹا کے خوب برستی ہے مل جل کے باہر بوندیں اندر آنسو سب کچھ جھلمل ہو جاتا ہے جس کو ...

مزید پڑھیے

بہتے پانی پہ ایک دریا نے

بہتے پانی پہ ایک دریا نے اپنی لہروں سے لکھے افسانے بادلوں میں سمیٹ کے بارش اشک دھرتی کے لائی لوٹانے کاغذی پھول کی مہک کا سچ یہ دیہاتی پرندہ کیا جانے جھومی دیواریں کس کی آہٹ پہ تلسی آنگن لگی ہے مہکانے شام کی راہ تکتے ہیں کب سے دھوپ میں پیڑ چھتریاں تانے ہم سمجھتے ہیں ایک دوجے ...

مزید پڑھیے

پہلے وہ دیوار پر نقشہ لگائے

پہلے وہ دیوار پر نقشہ لگائے بعد میں رستوں کا اندازہ لگائے جانے سورج نے ندی سے کیا کہا ہے بہہ رہی ہے دھوپ کا چشمہ لگائے چاند کی آنکھیں بڑی دکھنے لگیں گی رات گر سرمہ ذرا گہرا لگائے میں سمندر کے سفر سے لوٹ آؤں وہ اگر آواز دوبارہ لگائے شام کا دل کل ہی ٹوٹا آج پھر کیوں آ گئی امید کا ...

مزید پڑھیے

خیالوں میں رہتے ہیں جو ساتھ میرے

خیالوں میں رہتے ہیں جو ساتھ میرے کبھی چھو نہ پائے انہیں ہاتھ میرے لبوں پہ ہمیشہ ترا نام آیا دعا کے لیے جب اٹھے ہاتھ میرے لئے کانچ جیسا بدن پتھروں پہ بڑی دور تک وہ چلا ساتھ میرے میں تیرے محل کی طرف جب چلا تھا لپٹتے تھے قدموں سے فٹ پاتھ میرے ابھی تک مہکتی ہیں کلیاں لبوں کی کسی ...

مزید پڑھیے

پہنے کپڑے سنہرے چمکتی ہوئی

پہنے کپڑے سنہرے چمکتی ہوئی دھوپ آئی مرے گھر جھجکتی ہوئی پھول سا اک لفافہ میرے نام کا ایک چٹھی تھی اس میں مہکتی ہوئی پل کے محراب بھی ڈوبے تھے پانی میں بہہ رہی تھی ندی بھی لچکتی ہوئی میں نے محسوس کی ہے میرے ہاتھ سے رات ریشم کی طرح سرکتی ہوئی آج پھر روٹھ کے لوٹ جائے گی گھر ایک ...

مزید پڑھیے

ڈھلتے دن کے دھندھلے سائے

ڈھلتے دن کے دھندھلے سائے شام کو مجھ سے ملنے آئے شاور سے جب بادل برسے زلفیں کھولے شام نہائے دریا سا آگے بڑھتا چل راہ میں چاہے پربت آئے شام ڈھلے پھر میرے گھر میں کس نے آ کر بلب جلائے تم سا کوئی مجھ سے لپٹے خود روئے اور مجھے رلائے بادامی بادل کے پیچھے ایک پرندہ اڑتا جائے منزل ...

مزید پڑھیے

دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے

دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے آئنہ اس کو دیا ہے مجھے چہرہ دے دے راستے بند نظر آتے ہیں چاروں جانب میرے مولیٰ مجھے امید کا تیشہ دے دے پوچھتی ہیں مری آنکھیں کہ تو کب آئے گا جاتے جاتے مجھے اتنا تو دلاسہ دے دے اس طرح دل سے نکالا مجھے تو نے جیسے اپنے ہی گھر پہ کسی غیر کو قبضہ دے ...

مزید پڑھیے

شبیہ روح کچھ ایسے نکھار دی گئی ہے

شبیہ روح کچھ ایسے نکھار دی گئی ہے انا فقیروں کے کاسے پہ وار دی گئی ہے تمہارے دل پہ بھی کچھ تو اثر ہوا ہوگا گرے پڑے ہوئے لفظوں کو دھار دی گئی ہے ہماری آنکھ کے آنسو ثبوت ہیں اس کا ہنسی ہمارے لبوں کو ادھار دی گئی ہے مرے بدن کے قفس آسماں سے پھر اس بار زوال صبح کی سرخی گزار دی گئی ...

مزید پڑھیے

موج دریا کی طرح رقص کناں رہتے ہیں

موج دریا کی طرح رقص کناں رہتے ہیں ہم سے مت پوچھئے کس وقت کہاں رہتے ہیں دل کی بیتابیاں معشوق نیا چاہتی ہیں اس طرف چل کہ جہاں ماہ رخاں رہتے ہیں سر بلندی ہے مقدر سے عمل سے حاصل ہاں تعاقب میں تو کوتاہ قداں رہتے ہیں کاش ہو جائے کبھی ہم سے کوئی کار درست زندگی میں تو بہت کار زیاں رہتے ...

مزید پڑھیے

کاسۂ فکر میں رکھتا ہوں میں دولت اپنی

کاسۂ فکر میں رکھتا ہوں میں دولت اپنی مفلسی میں بھی بدلتی نہیں عادت اپنی مجھ کو اس تلخ نوائی نے کیا ہے رسوا اپنی نظروں میں بہ ہر حال ہے عزت اپنی ہے مرے شہر میں کتنے ہی شکاری چہرے اپنی صورت میں جو رکھتے نہیں صورت اپنی میرا اخلاق ہی ایسا ہے کہ میرے سر پر جس کو دیکھو وہی رکھتا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 936 سے 4657