شاعری

جسے تو نے سمجھا ہے زندگی اسی انقلاب کا نام ہے

جسے تو نے سمجھا ہے زندگی اسی انقلاب کا نام ہے کبھی دن ہوا کبھی شب ہوئی کبھی صبح ہے کبھی شام ہے تہ خاک بھی دل مبتلا کو کبھی قرار نہ آئے گا ہوں ابھی سے حشر کا منتظر کہ نوید جلوۂ عام ہے کوئی حوصلہ ہے نہ مدعا کوئی آرزو ہے نہ التجا مرے دل میں اک تری یاد ہے مرے لب پہ اک ترا نام ہے وہاں ...

مزید پڑھیے

اسی کا جلوۂ زیبا ہے چاندنی کیا ہے

اسی کا جلوۂ زیبا ہے چاندنی کیا ہے یہ چاند کیا ہے یہ سورج کی روشنی کیا ہے اسی کے حسن پہ دیتا ہے جان پروانہ نہیں تو شمع کے شعلوں میں دل کشی کیا ہے کہاں کا وصل کہاں کا فراق کس کا گلہ وجود ایک ہی ٹھہرا تو پھر دوئی کیا ہے کسی پہ راز حقیقت کھلے تو خاک کھلے جب آدمی نہیں واقف کہ آدمی کیا ...

مزید پڑھیے

لہر نے جب بکھرتے وقت مڑ کے پل کو دیکھا تھا

لہر نے جب بکھرتے وقت مڑ کے پل کو دیکھا تھا ندی کے بہتے پانی پر کسی کا نام لکھا تھا اسی سوکھے شجر کے نیچے تیری راہ تکتا ہوں بچھڑتے وقت تو جس سے لپٹ کے خوب رویا تھا انوکھا شخص تھا اس سے ملایا ہاتھ جب میں نے لگا جیسے کہ اس کی انگلیوں میں دل دھڑکتا تھا گلی کے ایک گھر میں کانچ کی ایسی ...

مزید پڑھیے

کیا ستاروں کو تکا ہے رات بھر پل پل کبھی

کیا ستاروں کو تکا ہے رات بھر پل پل کبھی چاند کے گالوں پہ پڑتے دیکھے ہیں ڈمپل کبھی نام میرا یاد کرکے چسکیوں کے بیچ میں کیا ہوئی ہے چائے کے کپ میں ترے ہلچل کبھی جانتا ہوں عمر بھر تو ساتھ دے سکتا نہیں پر ذرا سی دور تک تو ساتھ میرے چل کبھی سرچ کرنا ہے مجھے بیکار انٹرنیٹ پر دھڑکنوں ...

مزید پڑھیے

بن ترے اک کمی رہی برسوں

بن ترے اک کمی رہی برسوں دنیا ویران سی رہی برسوں چاند بس ایک پل رکا لیکن میرے گھر چاندنی رہی برسوں اشک چھلکے نہیں کبھی لیکن آنکھ میں کچھ نمی رہی برسوں بے قراری اداس بستر پر سلوٹیں ڈالتی رہی برسوں مدتوں پہلے پیڑ سوکھ گیا پھر بھی کچھ چھاؤں سی رہی برسوں تیری خوشبو نہ لا سکے ...

مزید پڑھیے

ہر موڑ پہ ان کا ہمارا سامنا ہونے لگا

ہر موڑ پہ ان کا ہمارا سامنا ہونے لگا اب روز ہی یہ خوب صورت حادثہ ہونے لگا ہر اک ادا انداز میں ایسی کشش ہے آپ میں جو بھی ملا ہے آپ سے وہ آپ کا ہونے لگا مشکل بہت تھا چپ رہوں سوچا بہت کچھ نہ کہوں پر بات لب پہ آ گئی تو پھر گلہ ہونے لگا اک شخص تھا ہم نے جسے چاہا بہت پوجا بہت پہلے تو وہ ...

مزید پڑھیے

ہر شعر ہر غزل پہ ہے ایسی چھاپ تیری

ہر شعر ہر غزل پہ ہے ایسی چھاپ تیری تصویر بن رہی ہے اک اپنے آپ تیری ماحول خوش نما تھا منظر تھرک رہے تھے طبلے پہ پڑ رہی تھی جب تیز تھاپ تیری پازیب پہنے کوئی سیڑھی اتر رہا ہے زینے سے آ رہی ہے پھر مجھ کو چاپ تیری غصے میں تو نے اس کو جانے کو کہہ دیا پر ہر سانس کر رہی ہے اب پشچاتاپ ...

مزید پڑھیے

رشتوں کی گہرائی لکھ

رشتوں کی گہرائی لکھ ہر کاغذ پہ کھائی لکھ اس پہ ہی الزام نہ دھر خود کو بھی ہرجائی لکھ منہ مت پھیر حقیقت سے شعروں میں سچائی لکھ قصہ جھوٹ لگے گا سب مت اتنی اچھائی لکھ بالشتوں سے ناپ ذرا سایوں کی لمبائی لکھ آ جا شب کے ماتھے پر آج نہ تو تنہائی لکھ چاہت کے افسانے کا عنواں ہی ...

مزید پڑھیے

زندگی اک فلم ہے ملنا بچھڑنا سین ہیں

زندگی اک فلم ہے ملنا بچھڑنا سین ہیں آنکھ کے آنسو ترے کردار کی توہین ہیں ایک ہی موسم وہی منظر کھٹکنے لگتا ہے سچ یہ ہے ہم عادتاً بدلاؤ کے شوقین ہیں نیند میں پلکوں سے میری رنگ چھلکے رات بھر آنکھ میں ہیں تتلیاں تو خواب بھی رنگین ہیں راہ تکتی رات کا یہ رنگ ہے تیرے بنا چاند بھی مایوس ...

مزید پڑھیے

اشک تنہائی اداسی رہ گئی

اشک تنہائی اداسی رہ گئی ان دنوں کی یاد باقی رہ گئی موڑ پہ وہ آنکھ سے اوجھل ہوا بے قراری راہ تکتی رہ گئی تتلی کی پرواز کیسے دیکھتا آنکھ تو رنگوں میں الجھی رہ گئی سپنے تو سپنے تھے سپنے ہی رہے زندگی سپنے سجاتی رہ گئی باڑھ کا پانی تو اترا ہے مگر ہر طرف سڑکوں پہ مٹی رہ گئی پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 935 سے 4657