جسے تو نے سمجھا ہے زندگی اسی انقلاب کا نام ہے
جسے تو نے سمجھا ہے زندگی اسی انقلاب کا نام ہے کبھی دن ہوا کبھی شب ہوئی کبھی صبح ہے کبھی شام ہے تہ خاک بھی دل مبتلا کو کبھی قرار نہ آئے گا ہوں ابھی سے حشر کا منتظر کہ نوید جلوۂ عام ہے کوئی حوصلہ ہے نہ مدعا کوئی آرزو ہے نہ التجا مرے دل میں اک تری یاد ہے مرے لب پہ اک ترا نام ہے وہاں ...