شاعری

لوگ تھے جن کی آنکھوں میں اندیشہ کوئی نہ تھا

لوگ تھے جن کی آنکھوں میں اندیشہ کوئی نہ تھا میں جس شہر سے گزرا اس میں زندہ کوئی نہ تھا چیزوں کے انبار لگے تھے خلق آرام سے تھی اور مجھے یہ رنج وہاں افسردہ کوئی نہ تھا حیرانی میں ہوں آخر کس کی پرچھائیں ہوں وہ بھی دھیان میں آیا جس کا سایہ کوئی نہ تھا چونک پڑا جب یادوں میں اس کی ...

مزید پڑھیے

تم نے اتنا بھلا دیا ہم کو

تم نے اتنا بھلا دیا ہم کو جب بھی چاہا رلا دیا ہم کو نیند تو خیر آ نہیں سکتی پیار کا جو صلہ دیا ہم کو خواب جھوٹے بڑے ہی سچے تھے خواہ مخواہ کیوں جگا دیا ہم کو آپ ایسا کبھی کرو گے نہیں وقت نے ہی دغا دیا ہم کو چاہتا ہوں جسے بہت زیادہ خاک میں ہی ملا دیا ہم کو

مزید پڑھیے

وقت کے ناخون سے یادیں ہیں کچھ کھرچی ہوئیں

وقت کے ناخون سے یادیں ہیں کچھ کھرچی ہوئیں ایک پرانا سا مکاں دیوار جاں جھڑتی ہوئیں تو تو میں میں کامیابی اور کوشش میں غضب ہاٹ پر جیوں کچھ پرانی بوڑھیاں لڑتی ہوئیں کچھ نئے قدموں کو گم گشتہ ٹھکانوں کی تلاش کچھ گذشتہ آہٹیں طے فاصلہ کرتی ہوئیں ذہن نے اپنی گرفتوں میں لیا ہے دل کو ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے ہوگا کہ چپ رہیں گے

یہ کیسے ہوگا کہ چپ رہیں گے جو جی میں آیا وہی کہیں گے ابھی اندھیرا جو چھا گیا ہے چراغ یادوں کے جل اٹھیں گے ابھی تو جی لیں جو زندگی ہے جو موت آئی تو مر بھی لیں گے ہم اپنے شانوں پہ گھر لیے ہیں جہاں پہ جی ہو وہاں رکیں گے سفر میں تنہا ہی چل رہے ہیں یہ سچ ہے لیکن نہیں کہیں گے یہ محفلیں ...

مزید پڑھیے

باہر گلیوں میں ویرانی اندر کمرہ سناٹا

باہر گلیوں میں ویرانی اندر کمرہ سناٹا ہار گیا آواز کا لشکر دیکھو جیتا سناٹا خاموشی کے نل سے ٹپکتیں قطرہ قطرہ آوازیں دیواروں کی سیلن پر ہے کائی جیسا سناٹا گرم دوپہر میں یہ سڑکیں حد نظر تک ویراں ہیں تیز دھوپ کے سارے بدن سے بہتا پسینہ سناٹا ملنا جلنا گپ ٹھہاکے پل پل اپنے ساتھ ...

مزید پڑھیے

دکھنے میں ہے سیدھی لڑکی

دکھنے میں ہے سیدھی لڑکی لیکن ہے وہ ضدی لڑکی مجھ کو ہر دم تڑپاتی ہے اپنی ماں کی بگڑی لڑکی اس پر لکھتا غزلیں پیاری سب کچھ ہے وہ پگلی لڑکی ہم کو چھوڑا گھر کی خاطر یعنی ہے وہ اصلی لڑکی وعدہ تھا اک سنگ جینے کا مجبوری میں بدلی لڑکی

مزید پڑھیے

اللہ اللہ یہ کیا انجمن آرائی ہے

اللہ اللہ یہ کیا انجمن آرائی ہے خود تماشا ہے وہی آپ تماشائی ہے درد کو جس کے ترستے ہیں ملک اور فلک شیشۂ دل میں مرے وہ مئے مینائی ہے آہ اس طائر مجبور کی حسرت کو نہ پوچھ جو یہ سنتا ہو قفس میں کہ بہار آئی ہے جس کے جلوے کا فرشتوں نے کیا تھا سجدہ کوہ فاراں پہ وہی شعلۂ سینائی ہے تم جو ...

مزید پڑھیے

ہر نفس اک مستقل فریاد ہے

ہر نفس اک مستقل فریاد ہے کتنی پر غم عشق کی روداد ہے گھٹ رہی ہیں میرے دل کی قوتیں اب یہ شاید آخری فریاد ہے ہو گئی شاید کہ اب تکمیل عشق ورنہ کیوں شور مبارک باد ہے جسم پابند تعین ہو تو ہو روح تو ہر قید سے آزاد ہے پھر کہاں گلشن میں وہ آسودگی آشیاں جب وقف برق و باد ہے دیکھیے انجام ...

مزید پڑھیے

کسی کو عکس کشی میں کمال ہو نہ سکا

کسی کو عکس کشی میں کمال ہو نہ سکا مہ دو ہفتہ حریف جمال ہو نہ سکا زبان شوق سے کیا حرف آرزو نکلے کہ جب نگاہ سے بھی عرض حال ہو نہ سکا تپاں تھا خاک محبت پہ دل کا اک ذرہ مگر وہ درد کی زندہ مثال ہو نہ سکا کہاں جمال کی وسعت کہاں دماغ کا ظرف وہ جلوہ رونق بزم خیال ہو نہ سکا سعود نجد نے ...

مزید پڑھیے

نہ کر تو اے دل مجبور آہ زیر لبی

نہ کر تو اے دل مجبور آہ زیر لبی نہ ٹوٹ جائے کہیں یہ سکوت نیم شبی یہ کاوش غم پنہاں ہے عشق کا حاصل روا نہیں تری فرقت میں آرزو طلبی خدا کرے یہیں رک جائے گردش دوراں ہے راز دار محبت سکوت نیم شبی کہاں ہوا ہے تو شکوہ گزار محرومی جہاں ہے سانس بھی لینا کمال بے ادبی نمود حسن ہے گویا سراب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 927 سے 4657