شاعری

میں مسرور ہوں اس سے مہجور ہو کر

میں مسرور ہوں اس سے مہجور ہو کر کہ مجھ سے ملا وہ بہت دور ہو کر تری شان جدت پسندی کے قرباں کہ مختار ٹھہرا میں مجبور ہو کر وہ شکلیں جو دل میں کبھی جلوہ گر تھیں نظر آئیں برق سر طور ہو کر اٹھا ڈالے سارے حجابات میں نے شراب محبت سے مخمور ہو کر امیدوں کی دنیا نہ ہو جائے ویراں فریب تجسس ...

مزید پڑھیے

ہر لمحے میں صدیوں کا افسانہ ہوتا ہے

ہر لمحے میں صدیوں کا افسانہ ہوتا ہے گردش میں جب سانسوں کا پیمانہ ہوتا ہے ہم کو تو بس آتا ہے سانسوں کا کاروبار کیا کھونا ہوتا ہے اور کیا پانا ہوتا ہے دل کی ضد پر اس سے ملنا پڑتا ہے ہر روز اور پھر ساری دنیا کو سمجھانا پڑتا ہے آنکھیں بھر آتی ہیں میری ہنس لینے کے بعد شہر سے آگے اکثر ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں اگر آپ کی صورت نہیں ہوتی

آنکھوں میں اگر آپ کی صورت نہیں ہوتی اس دل میں محبت کسی صورت نہیں ہوتی جب تک پس پردہ وہ چھپے بیٹھے رہیں گے کچھ بھی یہاں ہو جائے قیامت نہیں ہوتی دیکھے جو تجھے لوگ تو سمجھے مرے اشعار لفظوں سے تو شعروں کی وضاحت نہیں ہوتی کیا اور کوئی کام کرے چھوڑیئے صاحب بیکاری سے دنیا میں فراغت ...

مزید پڑھیے

تسکین مرگ بھول گیا اضطراب میں

تسکین مرگ بھول گیا اضطراب میں اللہ پڑ گیا مرا دل کس عذاب میں اللہ رے فروغ رخ برق تاب میں مستی میں ہے شباب کہ مستی شباب میں اے دست شوق آج وہ آئے ہیں خواب میں دامن نہ چھوٹ جائے کہیں اضطراب میں ہر نقشۂ خیال بنا اور مٹ گیا امید اب کہاں دل خانہ خراب میں جویائے عیش و طالب راحت نہیں ...

مزید پڑھیے

اس عشق کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں

اس عشق کا انجام میں کچھ سوچ رہا ہوں ہاں اے ہوس خام میں کچھ سوچ رہا ہوں خالی ہوئے سب جام نہیں کوئی بھی مے کش اے درد تہ جام میں کچھ سوچ رہا ہوں جی بھر کے تجھے آج میں دیکھوں کہ نہ دیکھوں اے حسن لب بام میں کچھ سوچ رہا ہوں اپنے دل بیتاب سے میں خود ہوں پریشاں کیا دوں انہیں الزام میں کچھ ...

مزید پڑھیے

ذرا سوز دل بزم کا ساز دینا

ذرا سوز دل بزم کا ساز دینا کہ خود بولنا ہے خود آواز دینا عجب ذوق پنہاں ہے رنگ تپش میں تسلی نہ اے شوخ انداز دینا کبھی ڈھونڈھنا گو شہائے حرم میں کبھی دیر میں جا کے آواز دینا گلوں کے ہیں آغوش وا بہر رخصت ذرا بڑھ کے بلبل کو آواز دینا نہ لے میرا ایمان اے بے نیازی کہ ہے نذر جلوہ گہہ ...

مزید پڑھیے

در مے کدہ ہے کھلا ہوا سر چرخ آج گھٹا بھی ہے

در مے کدہ ہے کھلا ہوا سر چرخ آج گھٹا بھی ہے چلے دور ساقیٔ دل ربا کہ چمن میں رقص صبا بھی ہے غم زندگی سہی جاں گسل مگر اس سے کوئی بچا بھی ہے یہی غم ہے راز نشاط دل یہی زندگی کا مزا بھی ہے یہی زخم دل جو نصیب ہے یہی سوز دل کا نقیب ہے یہ مرے خلوص کا رنگ ہے کسی نازنیں کی عطا بھی ہے ہے مری ...

مزید پڑھیے

صحرا کوئی بستی کوئی دریا ہے کہ تم ہو

صحرا کوئی بستی کوئی دریا ہے کہ تم ہو سب کچھ مری نظروں کا تماشا ہے کہ تم ہو لوٹ آئے ہیں صحرا سے سبھی لوٹنے والے اس بار مرے شہر میں اچھا ہے کہ تم ہو تم ہو کہ مرے لب پہ دعا رہتی ہے کوئی آنکھوں نے کوئی خواب سا دیکھا ہے کہ تم ہو جب بھی کوئی دیتا ہے در خواب پہ دستک میں سوچنے لگتا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

تیرے ہونے سے بھی اب کچھ نہیں ہونے والا

تیرے ہونے سے بھی اب کچھ نہیں ہونے والا مجھ میں باقی ہی نہیں ہے کوئی رونے والا اس سے ملتا ہوں تو لگتا ہے کہ میرے اندر نیند سے جاگ گیا ہے کوئی سونے والا مجھ کو اس کھیل کے آداب سبھی ہیں معلوم میں تو اس کھیل میں شامل نہیں ہونے والا

مزید پڑھیے

تابش گیسوئے خم دار لئے پھرتا ہے

تابش گیسوئے خم دار لئے پھرتا ہے کوئی اس شہر میں تلوار لئے پھرتا ہے بات تو یہ ہے کہ وہ گھر سے نکلتا بھی نہیں اور مجھ کو سر بازار لئے پھرتا ہے جسم کے ساتھ تو رہتا ہوں میں اس پار مگر روح کے ساتھ وہ اس پار لئے پھرتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 928 سے 4657