شاعری

میں تو زہر غم بھی پی کر جی لیا

میں تو زہر غم بھی پی کر جی لیا دہر میں سقراط کا چرچا ہوا جان دے کر ان کو پایا ہے مگر پھر بھی یہ سودا بہت سستا ہوا بولتی آنکھیں تبسم زیر لب چہرۂ گلفام شرمایا ہوا حسن نے چپکے سے عنواں لکھ دیا عشق کا مشہور افسانہ ہوا آبروئے حسن آنکھیں خشک ہیں ابر غم بھی ہے مگر برسا ہوا مست و ...

مزید پڑھیے

لرز لرز تو گیا اک چراغ نیم شبی

لرز لرز تو گیا اک چراغ نیم شبی مگر سنبھل کے جلا اک چراغ نیم شبی سبھی دلوں میں عجب خوف تھا اندھیرے کا مگر ذرا نہ ڈرا اک چراغ نیم شبی میں سوچتا تھا اکیلا ہی جل رہا ہوں یہاں مرا رفیق ہوا اک چراغ نیم شبی نہ جانے کہنا تھا کیا اس نے سونے والوں سے پکارتا ہی رہا اک چراغ نیم شبی تپش حروف ...

مزید پڑھیے

کر چکے نوحے بہت گزرے زمانے کے لئے

کر چکے نوحے بہت گزرے زمانے کے لئے کچھ نئے شہروں کے دکھ بھی ہیں سنانے کے لئے اس طرح تیزی سے بھاگا جا رہا ہے ہر کوئی جیسے چھپنا ہو کہیں خود کو بچانے کے لئے ایک لمحے کے لئے بھی خود سے ہم نہ مل سکے زندگی تھی شہر والوں کو دکھانے کے لئے تھی خبر سستی ملے گی آج نفرت اس جگہ خلق ٹوٹی ہے ...

مزید پڑھیے

گزر گیا میکدے کا موسم گزر گیا ہے سبو کا موسم

گزر گیا میکدے کا موسم گزر گیا ہے سبو کا موسم وہ خلوتوں کا گلاب موسم وہ آرزو کی نمو کا موسم عبث ہے اب یہ تمنا ان کی کہ زخم سارے رفو کریں گے یہ چاک دامن سمیٹ لوں اب چلا گیا وہ رفو کا موسم کہ نام تیرا کڑھا ہو جس پہ اسی چنریا کی آرزو میں گنوائی بالی عمریا اپنی گزر گیا آرزو کا ...

مزید پڑھیے

یہ سسکا بھی یہ رویا بھی مجھے اس دل پہ حیرت ہے

یہ سسکا بھی یہ رویا بھی مجھے اس دل پہ حیرت ہے یہ ٹوٹا بھی یہ بکھرا بھی مجھے اس دل پہ حیرت ہے یہ سوز جاں دئے جس نے اسی کے نام پر اب بھی یہ مچلا بھی یہ دھڑکا بھی مجھے اس دل پہ حیرت ہے مری نیندوں کا جو بیری اسی کم لطف کی خاطر یہ ترسا بھی یہ جاگا بھی مجھے اس دل پہ حیرت ہے مجھے صحرا کیا ...

مزید پڑھیے

بہت دل کو دکھاتا ہے

بہت دل کو دکھاتا ہے بہت مجھ کو رلاتا ہے میں ہر پل ہار جاتی ہوں وہ ہر پل جیت جاتا ہے کبھی شعلہ کبھی شبنم اسے ہر روپ بھاتا ہے میں جتنا بھولنا چاہوں وہ اتنا یاد آتا ہے نہ ہوں پورے کبھی شاید جو وہ سپنے دکھاتا ہے اسے سورج کہے دنیا جو شب کو ڈوب جاتا ہے

مزید پڑھیے

مرے دل کے دریچے میں مری پلکوں کی چوکھٹ پر

مرے دل کے دریچے میں مری پلکوں کی چوکھٹ پر ابھی تک ہے تری خوشبو مرے ہونٹوں کی چوکھٹ پر تری آشا کا ہر شب میں بجھا سا جو دکھائی دے وہ تارا جھلملائے پھر مری صبحوں کی چوکھٹ پر نیا پھر درد کا موسم یہ غم شاداب پھر ہوں گے ترے خوابوں کی دستک پھر مرے نینوں کی چوکھٹ پر تری یادوں کے سب جگنو ...

مزید پڑھیے

لگتا ہے ربط ہی نہیں صبحوں کے ساتھ ساتھ

لگتا ہے ربط ہی نہیں صبحوں کے ساتھ ساتھ شاموں میں ڈھل گئی ہوں میں شاموں کے ساتھ ساتھ اب اس سے بڑھ کے سانحہ ہونا ہے اور کیا آنکھیں بھی جل بجھیں مری خوابوں کے ساتھ ساتھ جھولی میں بھر کے چاند کی کرنیں تری طرف چلتی رہی ہوں رات میں تاروں کے ساتھ ساتھ جاناں تمہاری یاد کے موسم ہرے ...

مزید پڑھیے

ساجن کے سواگت کو سورج لایا بھر بھر تھالی دھوپ

ساجن کے سواگت کو سورج لایا بھر بھر تھالی دھوپ خوش ہو کر دونوں ہاتھوں سے چاروں اور اچھالی دھوپ چھن چھن کر پتوں سے دکھائے کیا کیا کلا نرالی دھوپ بن جائے دھرتی پر کیسی سندر سندر جالی دھوپ جب تک ساتھ تھا من موہن کا جیون کتنا سہانا تھا چاندنی جیسے دودھ کی دھاریں جیسے مدھ کی پیالی ...

مزید پڑھیے

ہم قفس میں رہ کے جس کو آشیاں کہتے رہے

ہم قفس میں رہ کے جس کو آشیاں کہتے رہے تھی فقط حد نظر ہم آسماں کہتے رہے اک سراب مستقل کو گلستاں کہتے رہے اس بت نا مہرباں کو مہرباں کہتے رہے آندھیوں نے آشیانے تو مٹا ڈالا مگر چند تنکے آشیاں کی داستاں کہتے رہے جب زباں نے ساتھ چھوڑا بن گئیں یہ ترجماں ہم جن آنکھوں کو ہمیشہ بے زباں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 91 سے 4657