شاعری

غفلتوں کا ثمر اٹھاتا ہوں

غفلتوں کا ثمر اٹھاتا ہوں روز تازہ خبر اٹھاتا ہوں بات بڑھتی ہے طول دینے سے سو اسے مختصر اٹھاتا ہوں ہو کے باشندہ اک ستارے کا انگلیاں چاند پر اٹھاتا ہوں چومتے ہیں جسے اٹھا کر لوگ میں اسے چوم کر اٹھاتا ہوں اب کہاں آسمان چھونے کو زحمت بال و پر اٹھاتا ہوں سوئے منزل میں ہر قدم ...

مزید پڑھیے

تلخیٔ جام ڈولنے جیسی

تلخیٔ جام ڈولنے جیسی تشنگی ہونٹ کھولنے جیسی اس قدر شور روح میں برپا خاموشی میری بولنے جیسی ساعت شوق بو گیا ہے کوئی خون میں زہر گھولنے جیسی لو یہ امید پھر جگاتی ہے ایک آہٹ ٹٹولنے جیسی خواب اور خواہشوں کی قسمت ہے خالی رستوں پہ رولنے جیسی

مزید پڑھیے

ہزار ٹوٹے ہوئے زاویوں میں بیٹھی ہوں

ہزار ٹوٹے ہوئے زاویوں میں بیٹھی ہوں خیال و خواب کی پرچھائیوں میں بیٹھی ہوں تمہاری آس کی چادر سے منہ چھپائے ہوئے پکارتی ہوئی رسوائیوں میں بیٹھی ہوں ہر ایک سمت صدائیں ہیں چپ چٹخنے کی خلا میں چیختی تنہائیوں میں بیٹھی ہوں نگاہ و دل میں اگی دھوپ کو بجھاتی ہوئی تمہارے ہجر کی ...

مزید پڑھیے

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا درد کیسا ہے جو مدھم نہیں ہونے پاتا کیفیت کوئی ملے ہم نے سنبھالی ایسے غم کبھی غم سے بھی مدغم نہیں ہونے پاتا میرے الفاظ کے یہ ہاتھ بھی شل ہوں جیسے ہو رہا ہے جو وہ ماتم نہیں ہونے پاتا دل کے دریا نے کناروں سے محبت کر لی تیز بہتا ہے مگر کم نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

نگاہ خاک! ذرا پیراہن بدلنا تو

نگاہ خاک! ذرا پیراہن بدلنا تو وبال روح مرا یہ بدن بدلنا تو حقیقتوں کے سفر میں بہت اکیلی ہوں مجاز عشق! ذرا بانکپن بدلنا تو جنوں کے بوجھ سے تھکنے لگا زمان و خلا غریب شوق ذرا پھر وطن بدلنا تو نیا ملے تو کوئی ذائقہ تمنا کو دل تباہ مری یہ جلن بدلنا تو سلگ رہی ہوں ابھی بھی مگر مزا ہی ...

مزید پڑھیے

جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا

جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا سر پھوڑے نہ خود سے تو یہ تنہائی کرے کیا گزری جو ادھر سے تو گھٹن سے یہ مرے گی حبس دل وحشی میں یہ پروائی کرے کیا کہتی ہے جو کہنے دو یہ دنیا مجھے کیا ہے زندانی احساس میں رسوائی کرے کیا ہر حسن و ادا دھنس گئے آئینے کے اندر جب راکھ ہوں آنکھیں تو یہ ...

مزید پڑھیے

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے جواب پی لیے مگر سوال جاگتے رہے ہماری پتلیوں پہ خواب اپنا بوجھ رکھ گئے ہم ایک شب نہیں کہ ماہ و سال جاگتے رہے گزار کے وہ ہجرتیں عجیب زخم دے گئیں ملے بھی اس کے بعد پر ملال جاگتے رہے بس ایک بار یاد نے تمہارا ساتھ چھو لیا پھر اس کے بعد تو کئی جمال ...

مزید پڑھیے

بے تحاشہ اسے سوچا جائے

بے تحاشہ اسے سوچا جائے زخم کو اور کریدا جائے جانے والے کو چلے جانا ہے پھر بھی رسماً ہی پکارا جائے ہم نے مانا کہ کبھی پی ہی نہیں پھر بھی خواہش کہ سنبھالا جائے آج تنہا نہیں جاگا جاتا رات کو ساتھ جگایا جائے حرف لکھنا ہی نہیں کافی ہے آؤ اب حرف مٹایا جائے

مزید پڑھیے

تمہاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں

تمہاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں وہ رستہ بنتے جاتے ہیں کچھ اتنے در بناتی ہوں جو سارا دن مرے خوابوں کو ریزہ ریزہ کرتے ہیں میں ان لمحوں کو سی کر رات کا بستر بناتی ہوں ہمارے دور میں رقاصہ کے پاؤں نہیں ہوتے ادھورے جسم لکھتی ہوں خمیدہ سر بناتی ہوں سمندر اور ساحل پیاس کی ...

مزید پڑھیے

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو یہ آسمان ملال لے کر کہاں چلے ہو جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہوگی خرد کا کوہ وبال لے کر کہاں چلے ہو کہاں پہ کھولو گے درد اپنا کسے کہوگے کہیں چھپاؤ، یہ حال لے کر کہاں چلے ہو نہا رہے ہو عذاب ہجراں کی بارشوں میں ذرا سی گرد وصال لے کر کہاں چلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 905 سے 4657