شاعری

صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگو

صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگو وہ عالم وحشت ہے کہ مر جاؤ گے لوگو یادوں کے تعاقب میں اگر جاؤ گے لوگو میری ہی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے لوگو وہ موج صبا بھی ہو تو ہشیار ہی رہنا سوکھے ہوئے پتے ہو بکھر جاؤ گے لوگو اس خاک پہ موسم تو گزرتے ہی رہے ہیں موسم ہی تو ہو تم بھی گزر جاؤ گے ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے

کیا ہوا ہم پہ جو اس بزم میں الزام رہے صاحب دل تو جہاں بھی رہے بدنام رہے کوئی تقریب تو ہو دل کے بہلنے کے لئے تو نہیں ہے تو ترا ذکر ترا نام رہے ہم کو تو راس ہی آئی کسی کمسن کی وفا ہائے وہ لوگ محبت میں جو ناکام رہے اس ارادے سے اٹھایا ہے چھلکتا ہوا جام ہم رہیں آج کہ یہ گردش ایام ...

مزید پڑھیے

کوئی دل کش سا افسانہ کسی دل دار کی باتیں

کوئی دل کش سا افسانہ کسی دل دار کی باتیں فسردہ رات ہے چھوڑو لب و رخسار کی باتیں یہ ممکن ہے پرندہ قید ہو کوئی مرے اندر مجھے اچھی نہیں لگتیں در و دیوار کی باتیں ذرا یہ بھی تو دیکھو بے سروں کے بیچ بیٹھے ہو کہاں کرنے لگے ہو تم اماں دستار کی باتیں تمہاری شاعری سے بور میں اب ہو گیا ...

مزید پڑھیے

سنجیدگی کی خاص ضرورت تو ہے نہیں

سنجیدگی کی خاص ضرورت تو ہے نہیں افسانہ ہے یہ زیست حقیقت تو ہے نہیں ادنیٰ سا ایک دائرہ ہے عشق و انس کا اس دل میں آسمان کی وسعت تو ہے نہیں اک سوچ ہے ذرا سی مری تم سے مختلف کچھ میری تم سے ذاتی عداوت تو ہے نہیں بازار سے ہے سب کو منافع کی ہی غرض پر سب کے پاس طرز تجارت تو ہے نہیں اس نے ...

مزید پڑھیے

اک چراغ دل فقط روشن اگر میرا بھی ہے

اک چراغ دل فقط روشن اگر میرا بھی ہے رہنما میرا بھی ہے پھر راہبر میرا بھی ہے اب تلک حیران ہوں میں رات کے اس خواب سے خون کی برسات ہے گھر تر بہ تر میرا بھی ہے شرط ہر منظور کر لی زندگی کی میں نے بھی دستخط اب اس قرار زیست پر میرا بھی ہے یوں بہاروں کے لیے محو دعا رہتا ہوں میں پھول کی ...

مزید پڑھیے

پھوٹے من سے بول لگا، یہ زندہ ہوں میں

پھوٹے من سے بول لگا، یہ زندہ ہوں میں اب مجھ کو احساس ہوا یہ زندہ ہوں میں یارو میرے نام پہ رونا بند کرو تم دور ہٹاؤ اب مجمع یہ زندہ ہوں میں آنکھیں مل مل کر دیکھا قاتل نے مجھ کو سچ نکلا اس کا خدشہ یہ زندہ ہوں میں میں تصدیق کروں گا تیرے گرم لہو کی تو بھی مجھ کو یاد دلا یہ زندہ ہوں ...

مزید پڑھیے

یہ حقیقت کہ خواب ہے کوئی

یہ حقیقت کہ خواب ہے کوئی سامنے بے نقاب ہے کوئی ہے تصور میں حسن دوشیزہ یا پرانی شراب ہے کوئی زندگی قید با مشقت ہے اس سے بڑھ کر عذاب ہے کوئی بندگی میں تری کفایت کیوں رحمتوں کا حساب ہے کوئی جس کو دیکھو رقیبؔ پڑھتا ہے جیسے چہرہ کتاب ہے کوئی

مزید پڑھیے

ہوا کے دوش پہ کس گل بدن کی خوشبو ہے

ہوا کے دوش پہ کس گل بدن کی خوشبو ہے گمان ہوتا ہے سارے چمن کی خوشبو ہے قریب پا کے تجھے جھومتا ہے من میرا جو تیرے تن کی ہے وہ میرے من کی خوشبو ہے بلا کی شوخ ہے سورج کی ایک ایک کرن پیام زندگی ہر اک کرن کی خوشبو ہے گلے ملی کبھی اردو جہاں پہ ہندی سے مرے مزاج میں اس انجمن کی خوشبو ...

مزید پڑھیے

پھر سے شہنائیاں شامیانے میں ہیں

پھر سے شہنائیاں شامیانے میں ہیں دو بڑی کرسیاں شامیانے میں ہیں ساتھ سکھیوں کے مل کر ستاتی ہیں جو چلبلی بھابیاں شامیانے میں ہیں پیار کی پھبتیاں پیار کی گالیاں رات بھر مستیاں شامیانے میں ہیں وقت رخصت ہے اب جا رہی ہے دلہن ہر طرف سسکیاں شامیانے میں ہیں یہ چھڑاتا ہے گھر گاؤں ...

مزید پڑھیے

سامان ہے اس درجہ انبار سے سر پھوڑو

سامان ہے اس درجہ انبار سے سر پھوڑو دیدار کرو چھت کا دیوار سے سر پھوڑو دریا کے مسافر کو ساحل کی تمنا کیوں گرداب سے تم الجھو منجھدار سے سر پھوڑو آغوش میں ٹی وی کی ہر شام کرو کالی ہر صبح اسی باسی اخبار سے سر پھوڑو دنیا کے تکبر سے تم بعد میں ٹکرانا فی الحال میاں اپنے پندار سے سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 877 سے 4657