شاعری

ادیبوں سے مقرر کی طلب ہے

ادیبوں سے مقرر کی طلب ہے ذرا سی اس سخنور کی طلب ہے اسے بھی ہو طلب میری نظر کی مجھے اس ایک منظر کی طلب ہے ہتھوڑے چھینیوں کو جھیل کر بھی خدا ہو جائے پتھر کی طلب ہے رکھے کوئی مرے گھاؤ پہ مرہم قبا کو بھی رفوگر کی طلب ہے نہیں چلنا مجھے منزل کی جانب تھکا ہوں نرم بستر کی طلب ہے لگی اس ...

مزید پڑھیے

گہرائی تک چبھتا خنجر رہنے دے

گہرائی تک چبھتا خنجر رہنے دے خوں آلودہ دیوار و در رہنے دے دیوانہ اچھا ہے جا کر کہہ دینا اصلی حالت اے نامہ بر رہنے دے عدت رکھنی ہوگی اس کے جانے کی کچھ دن یہ آنکھیں بے منظر رہنے دے گنتی کے لمحے ہوں تو پھر نہ آنا مضطر دل ہے اس کو مضطر رہنے دے میں گھٹنوں میں سر رکھ کر سو جاتا ...

مزید پڑھیے

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیا

مرے وجود کو اس نے عجب کمال دیا کہ مشت خاک تھا افلاک پر اچھال دیا مکاں کو جھوٹے مکینوں سے پاک کرنا تھا سو میں نے اس سے ہر امید کو نکال دیا مری طلب میں تکلف بھی انکسار بھی تھا وہ نکتہ سنج تھا سب میرے حسب حال دیا بدل کے رکھ دیے ہجر و وصال کے مفہوم مجھے تو اس نے بڑی کشمکش میں ڈال ...

مزید پڑھیے

چہرے کو بحال کر رہا ہوں

چہرے کو بحال کر رہا ہوں دنیا کا خیال کر رہا ہوں اک کار محال کر رہا ہوں زندہ ہوں کمال کر رہا ہوں وہ غم جو ابھی ملے نہیں ہیں میں ان کا ملال کر رہا ہوں اشعار بھی دعوت عمل ہیں تقلید بلال کر رہا ہوں تصویر کو آئینہ بنا کر تشریح جمال کر رہا ہوں چہرے پہ جواب چاہتا ہوں آنکھوں سے سوال کر ...

مزید پڑھیے

شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئے

شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئے کتنے یوسف تھے کہ خود ہی سر بازار آئے چھیڑ دی قامت و گیسو کی حکایت ہم نے کسی صورت سے تو ذکر رسن و دار آئے جب بھی زنداں میں اسیروں کو ملا مژدۂ گل میری نظروں میں تمہارے لب و رخسار آئے دوسری راہ وفا میں کوئی منزل ہی نہ تھی جو تری بزم سے اٹھے وہ سر ...

مزید پڑھیے

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیا

خیال ہجر مسلسل میں آئے ہیں کیا کیا مری وفا کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا نہ صرف حسن کی معصومیت پہ تھے الزام خلوص عشق پہ بھی حرف آئے ہیں کیا کیا جنوں کے نام پہ شورش کی تہمتیں رکھ کر خرد نے خود بھی تو فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا اس اک نظر سے بظاہر جو ملتفت بھی نہ تھی مری نگاہ نے پیغام ...

مزید پڑھیے

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے بزم سی بزم ہے تنہائی سی تنہائی ہے وہ ہے خاموش مگر اس کے سکوت لب پر رقص کرتا ہوا اک عالم گویائی ہے جب اندھیرے مری آنکھوں کا لہو چاٹ چکے تب ان آنکھوں میں رفاقت کی چمک آئی ہے اب خدا اس کو بنایا ہے تو یاد آتا ہے جیسے اس بت سے تو برسوں کی شناسائی ...

مزید پڑھیے

میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہن

میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہن شب بھر مرے وجود میں مہکا ترا بدن ہوں اپنے ہی ہجوم تمنا میں اجنبی میں اپنے ہی دیار نفس میں جلا وطن سب پتھروں پہ نام لکھے تھے رفیقوں کے ہر زخم سر ہے سنگ ملامت پہ خندہ زن اب دشت بے اماں ہی میں شاید ملے پناہ گھر کی کھلی فضا میں تو بڑھنے لگی ...

مزید پڑھیے

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں اور دل مائل ہوس بھی نہیں اب کہاں جائیں گے خراب بہار آشیاں بھی نہیں قفس بھی نہیں برق کی بیکسی کو روتا ہوں اب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں کس نے دیکھا شگفتگی کا مآل زندگی اتنی دور رس بھی نہیں ہم اسیروں کے واسطے سرشار رسم پابندئ قفس بھی نہیں

مزید پڑھیے

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھ

اک حرف شوق لب پہ ہے اور التجا کے ساتھ میں اک نئے سفر پہ ہوں اپنی انا کے ساتھ میں نے عبادتوں کو محبت بنا دیا آنکھیں بتوں کے ساتھ رہیں دل خدا کے ساتھ کس قحط اعتبار سے گزرے ہیں اہل دل رنگ وفا بھی اڑ گیا رنگ حنا کے ساتھ میرا وجود حرف تقاضا بنا ہوا مہر قبول اس کے لبوں پر حیا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 876 سے 4657