آخرش آرائشوں کی زندگی چبھنے لگی
آخرش آرائشوں کی زندگی چبھنے لگی اوب سی ہونے لگی مجھ کو خوشی چبھنے لگی میں نہ کہتا تھا کہ تھوڑی سی ہوس باقی رکھو دیکھ لو اب اس طرح آسودگی چبھنے لگی خواب کا سیلاب کیا گزرا نگاہوں سے مری ریت پلکوں سے جو چپکی نیند بھی چبھنے لگی تیرگی کا دشت ناپا روشنی کے واسطے روشنی پھیلی تو مجھ ...