شاعری

کالی ہوا چلی گئی رنگ زیاں اچھال کے

کالی ہوا چلی گئی رنگ زیاں اچھال کے میرے دیار میں گلو رکھنا قدم سنبھال کے باد سحر خموش تھی جاگتی تھیں سماعتیں میرے لبوں پہ رقص میں حرف تھے عرض حال کے چشم دریچے شوق کے بند کیے گئے سبھی اور ہٹا دیے گئے پردے در خیال کے موج شمیم اس لیے چوم رہی ہے گرد راہ وہ بھی مسافروں میں ہے قافلۂ ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا دور یہ کیسی صدی ہے

یہ کیسا دور یہ کیسی صدی ہے جدھر دیکھو ہجوم بے دلی ہے بس اتنی سی ہماری زندگی ہے سویرا آ گیا رات آ رہی ہے وہی شب ہے وہی بارہ دری ہے چلا آ تو کہ بس تیری کمی ہے چراغوں نے نہ جانے کہہ دیا کیا ہوا دہلیز پر ٹھہری ہوئی ہے سحر دم قتل ہو جائے گا سورج تبھی یہ رات بھی سہمی ہوئی ہے چلو اس پیڑ ...

مزید پڑھیے

ہر فصیل راہ کو زیر و زبر کرتے ہوئے

ہر فصیل راہ کو زیر و زبر کرتے ہوئے میں یہاں پہنچا ہوں قرنوں کا سفر کرتے ہوئے تشنگی اب تک نہ سیرابی کی منزل پا سکی زندگی گزری طواف بام و در کرتے ہوئے بول اے باد خزاں کیوں آ گیا اتنا جلال کچھ نہ سوچا باغ کو زیر و زبر کرتے ہوئے جسم سارا بن گیا خونیں قبا کا آئنہ خار زار زندگی کو رہ ...

مزید پڑھیے

منہ دیکھا کیے ہم آئنے کا

منہ دیکھا کیے ہم آئنے کا حاصل ہے یہی تو رت جگے کا آئیں جو پہاڑ بھی تو کیا غم راہی ہوں ہوا کے راستے کا دل ہے مرا خانقاہ میری میں میر ہوں اپنے سلسلے کا کیا اب ہے ہنر وری میں رکھا یہ دور ہے دھن کا اور گلے کا بیٹھے ہیں سراب ہر قدم پر ممکن نہیں بچنا قافلے کا ہیں ساری جہات دسترس ...

مزید پڑھیے

حرف نیرنگ سمجھ رنگ اساطیر میں آ

حرف نیرنگ سمجھ رنگ اساطیر میں آ ہنر اذن کرامت مری زنجیر میں آ میں کہ خوابیدہ جزیروں کے تعاقب میں رہوں تو کہ اک بار کہیں موجۂ تعبیر میں آ خواہشیں عشق کا اعجاز نہیں ہوتی ہیں چوم کر ماتھا کسی زلف گرہ گیر میں آ دیکھا ان تازہ گلابوں کو نئی حیرت سے گلشن جسم میں رہ حلقۂ تصویر میں ...

مزید پڑھیے

بر سر ریگ رواں پھول نہیں کھل سکتے

بر سر ریگ رواں پھول نہیں کھل سکتے دشت ہے دشت یہاں پھول نہیں کھل سکتے بارور ہوگی دعا جب اسے منظور ہوا وقت سے پہلے یہاں پھول نہیں کھل سکتے میں نے اس دل کا نہاں خانہ دکھایا اس کو اس نے پوچھا تھا کہاں پھول نہیں کھل سکتے وہ جہاں چاہے وہاں رنگ بچھا دے اپنے اس کی نظروں سے نہاں پھول ...

مزید پڑھیے

شعور ذات نے بیدار کر دیا مجھ کو

شعور ذات نے بیدار کر دیا مجھ کو بدن کو چاٹ کے مسمار کر دیا مجھ کو سبھی درخت کشادہ تھے بازووں کی طرح عجیب راہ تھی سرشار کر دیا مجھ کو پھر ایک خواب نے دستک کا باب بند کیا اور ایک نیند میں بیدار کر دیا مجھ کو نظر کے سامنے اک نیلگوں سمندر تھا بس ایک موج تھی کہ پار کر دیا مجھ کو میں ...

مزید پڑھیے

نیا فسوں ہی دکھائیں کوئی زمانے میں

نیا فسوں ہی دکھائیں کوئی زمانے میں چراغ مجھ میں جلیں میں چراغ خانے میں دھواں دھواں سی فضا سے گزرنے والے لوگ عجیب شغل کے مالک ہیں آشیانے میں میں اختلاف نہیں کر رہا مگر مجھ کو نظر نہ آیا کوئی دیدہ ور زمانے میں غبار راہ سے نکلے گا شہسوار خیال اسے بھی شامل کردار رکھ فسانے میں خود ...

مزید پڑھیے

خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا گیا ہوں

خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا گیا ہوں یہ کس عذاب سے دو چار کر دیا گیا ہوں وہ چشم تھی اسے بینائی لے گئی اپنی میں آئنہ تھا سو زنگار کر دیا گیا ہوں میں ایک راز تھا مخفی تھا خاک میں اپنے ابھی ابھی ہی میں اظہار کر دیا گیا ہوں وہ دن بھی دور نہیں دوست یہ کہیں گے میاں کہ میں تو اور بھی ...

مزید پڑھیے

شعور ذات نے بیدار کر دیا مجھ کو

شعور ذات نے بیدار کر دیا مجھ کو بدن کو چاٹ کر مسمار کر دیا مجھ کو سبھی درخت کشادہ تھے بازووں کی طرح عجیب راہ تھی سرشار کر دیا مجھ کو پھر ایک خواب نے دستک کا باب بند کیا اور ایک نیند میں بیدار کر دیا مجھ کو نظر کے سامنے اک نیلگوں سمندر تھا بس ایک موج تھی کہ پار کر دیا مجھ کو میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 870 سے 4657