کالی ہوا چلی گئی رنگ زیاں اچھال کے
کالی ہوا چلی گئی رنگ زیاں اچھال کے میرے دیار میں گلو رکھنا قدم سنبھال کے باد سحر خموش تھی جاگتی تھیں سماعتیں میرے لبوں پہ رقص میں حرف تھے عرض حال کے چشم دریچے شوق کے بند کیے گئے سبھی اور ہٹا دیے گئے پردے در خیال کے موج شمیم اس لیے چوم رہی ہے گرد راہ وہ بھی مسافروں میں ہے قافلۂ ...